چار خلا نوردوں نے ’آرٹیمس 2‘ مشن کے دوران چاند کی طرف جاتے ہوئے زمین کی پہلی تصاویر بھیجیں، جہاں امریکی خلانورد وکٹر گلوفر نے ناسا کے اوریئن کیپسول سے کہا ’تم حیرت انگیز لگ رہی ہو، تم خوبصورت لگ رہی ہو‘۔
مزید پڑھیں
العربیہ کے مطابق گلوفر اور ان کے ساتھی امریکی خلانورد کرسٹینا کوچ، ریڈ وائزمان اور کینیڈین خلانورد جیریمی ہنسن پچھلے 50 سالوں میں چاند کی طرف جانے والے پہلے انسان ہیں۔
یہ چاروں گزشتہ بدھ کو فلوریڈا کے کیپ کینیورل اسپیس پورٹ سے اوریئن کیپسول میں اسپیس لانچ سسٹم راکٹ کے ذریعے روانہ ہوئے۔
تقریباً 24 گھنٹے بعد انہوں نے خصوصی منیوور کے ذریعے زمین کے مدار
کو چھوڑا اور اگلے 24 گھنٹے کے دوران سفر کا نصف طے کر لیا۔
اس دوران انہوں نے متعدد سائنسی تجربات اور تربیتی مشقیں بھی کیں۔
1972 ➡️2026
— NASA (@NASA) April 3, 2026
Apollo 17 ➡️ Artemis II pic.twitter.com/wGc2wtY0e2
’اوریئن‘ خلا نوردوں کو زمین سے 219 ہزار کلومیٹر کی دوری پر لے جا رہی ہے اور چاند کے قریب پہنچنے کے لیے اتنی ہی دوری مزید طے کرنی ہے۔
ناسا نے جمعہ کی شام (مشرق وسطیٰ کے وقت کے مطابق صبح ہفتہ) سوشل میڈیا پر لکھا ’ہم آدھے راستے پر پہنچ چکے ہیں‘۔
Working up an appetite!
— NASA (@NASA) April 3, 2026
As @AstroVicGlover gets in his exercise for the day, @Astro_Jeremy is preparing the crew's midday meal. pic.twitter.com/g6rvF43LOd
آرٹیمس 2 مشن تقریباً 10 دن جاری رہے گا اور اس دوران چاروں خلانورد چاند کے گرد مدار میں پرواز کریں گے، جس سے وہ زمین سے دور جانے والے انسان بن جائیں گے۔