سرد جنگ کے بعد امریکی نظام کا تسلط اب کمزور پڑ رہا ہے۔ روس، چین اور دیگر ابھرتی ہوئی قوتوں کی بدولت عالمی سیاست میں کثیر جہتی نظام سامنے آ رہا ہے۔
مزید پڑھیں
اس صورت حال میں پاکستان اپنے جغرافیائی محل وقوع اور تزویراتی اہمیت کی بنا پر ایک اہم کردار بن کر سامنے آیا ہے۔
عالمی طاقتوں کا بدلتا توازن
سوویت یونین کے خاتمے کے بعد امریکی تسلط نے عالمی نظام کو غیر متوازن کر دیا تھا، تاہم سیاسی اور معاشی انحصار نے دیگر اقوام کو متبادل راستے تلاش کرنے پر مجبور کیا ہے۔
چین کی ’مشترکہ خوشحالی‘ کی فلسفیانہ سوچ اب مغرب کے یک طرفہ بیانیے کا ایک متبادل ماڈل بن کر سامنے آئی ہے۔
برکس (BRICS) جیسے فورمز کی اہمیت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، جہاں سعودی عرب سمیت کئی ممالک اپنی معیشتوں کے تنوع کے لیے نئے شراکت دار تلاش کر رہے ہیں۔
یہ تبدیلیاں عالمی سیاست میں امریکی اجارہ داری کے خاتمے اور نئے طاقتور مراکز کے قیام کی جانب ایک واضح پیش رفت ہیں۔
پاکستان کی تزویراتی اہمیت
پاکستان کو اپنی منفرد جغرافیائی پوزیشن، بڑی مسلم آبادی اور مضبوط عسکری ڈھانچے کی بدولت عالمی سطح پر ایک اہم مقام حاصل ہوا ہے۔
چین اور امریکہ کے درمیان ثالثی ہو یا سعودی عرب اور ایران کے مابین تعلقات کی بحالی، پاکستان نے اپنی سفارتکاری سے خود کو ایک ناگزیر فریق ثابت کیا ہے۔
حالیہ عرصے میں بھارتی عسکری مہم جوئیوں کے ناکام ہونے اور علاقائی کشیدگی کے باوجود پاکستان نے بہترین انداز میں اپنا توازن برقرار رکھا ہے۔
اس توازن نے پاکستان کو وہ تزویراتی برتری دی ہے، جس کی بدولت اسے عالمی طاقتوں کی جانب سے ایک پر اعتماد اور اہم شراکت دار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
بحران اور سفارتی چیلنجز
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران اور دیگر اتحادیوں کو کمزور کرنے کی کوششیں تاحال اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی ہیں۔
ایران کی جوابی صلاحیت اور اس کے خلاف جنگی منصوبوں میں حائل رکاوٹوں نے مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو تبدیل کر دیا ہے، جس سے خطے میں مزید غیر یقینی پیدا ہوئی ہے۔
اس صورتحال میں پاکستان کے لیے بڑا چیلنج اپنی سیکیورٹی اور خارجہ پالیسی کے درمیان توازن برقرار رکھنا تھا۔
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے اور ایران کے ساتھ پڑوسی ہونے کے پیشِ نظر پاکستان نے بروقت اور دانشمندانہ اقدامات کیے، جس میں چین کے ساتھ قریبی روابط کا بھی اہم کردار رہا ہے۔
امن کی جانب پیش قدمی
اسلام آباد میں ترکی، مصر اور سعودی وزرائے خارجہ کا اجلاس امن کوششوں کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے۔
اسی طرح نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا دورہ چین اور وہاں جاری کردہ 5 نکاتی بیان خطے میں کشیدگی کم کرنے کا ایک سنہری موقع فراہم کرتا ہے۔
اگر امریکہ اس پیشکش کو قبول کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کو کھولنے کی ذمہ داری چین اور پاکستان پر چھوڑتا ہے تو یہ علاقائی سیاست میں ایک انقلابی تبدیلی ہوگی۔
پاکستان اب ایک سہولت کار سے بڑھ کر خطے میں سیکیورٹی اور استحکام کی ضمانت دینے والی قوت کے طور پر ابھر رہا ہے۔
مستقبل کے امکانات
اگر موجودہ قیادت اپنی حکمتِ عملی میں تسلسل اور احتیاط برقرار رکھتی ہے تو پاکستانی جنگ زدہ خطے میں امن کے علمبردار کے طور پر اپنی جگہ بنا سکتا ہے۔
یہ کامیابی پاکستان کو معاشی بحرانوں اور داخلی سیاسی عدم استحکام سے نکالنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔
طویل مدتی تناظر میں یہ عمل نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ جنوبی اور مغربی ایشیا کے لیے ایک روشن مستقبل کی نوید ثابت ہوگا۔ یہاں تک کہ بھارت کا موجودہ تعصب بھی وقت کے ساتھ بدل سکتا ہے، جس سے پورا خطہ ایک نئے معاشی اور پرامن دور میں داخل ہو سکے گا۔