اہم خبریں
17 April, 2026
--:--:--

ایران جنگ کے عالمی تجارت پر اثرات: گلوبل سپلائی چین شدید متاثر

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
(فوٹو: انٹرنیٹ)

ایران جنگ کے عالمی تجارت پر گہرے منفی اثرات کے نتیجے میں گلوبل سپلائی چین شدید متاثر ہوئی ہے۔

مزید پڑھیں

تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی معیشت کے باہمی انحصار نے ثابت کر دیا ہے کہ کسی بھی خطے میں کشیدگی صرف وہیں تک محدود نہیں رہتی۔

ایران میں جاری موجودہ صورتحال کے اثرات نہ صرف تیل اور توانائی بلکہ عام زندگی کی بنیادی اشیا تک پہنچ چکے ہیں۔

 برطانوی معیشت پر شدید دباؤ

عام برطانوی صارفین غیرمتوقع طور پر تنازع کی قیمت ادا کررہے ہیں۔

پھولوں کی ترسیل سے لے کر مچھلی اور چپس کے روایتی کھانوں تک، ہر چیز مہنگی ہو رہی ہے۔ یہ صورتحال دنیا بھر میں سپلائی چین کے نازک توازن کو ظاہر کرتی ہے۔

تعمیراتی صنعت کا بحران

iran war and global economy supply chain 2
(فوٹو: انٹرنیٹ)

برطانیہ کی سیرامک انڈسٹری کو توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث دیوالیہ ہونے کا خطرہ ہے۔

’یو کے سیرامکس‘کے سی ای او رابرٹ فلیلو کے مطابق یہ اضافہ صنعت کے لیے تباہ کن ہے۔ بحیرہ ہرمز کی بندش سے کنٹینر کا کرایہ 3500 سے بڑھ کر 18 ہزار ڈالر ہو چکا ہے۔

پلے اسٹیشن اور گیمنگ انڈسٹری متاثر

iran war and global economy supply chain 3
(فوٹو: انٹرنیٹ)

عالمی سطح پر چپس کے بحران اور قطر میں ہیلیم کی تنصیبات متاثر ہونے سے الیکٹرانکس مصنوعات مہنگی ہو گئی ہیں۔

سونی نے 2 اپریل سے پلے اسٹیشن 5 کی قیمتوں میں 19 فیصد اضافہ کر دیا ہے۔ مستقبل میں ایکس باکس سمیت دیگر کنسولز کی لانچنگ بھی خطرے میں ہے۔

مچھلی اور چپس صنعت کی مشکلات

iran war and global economy supply chain 4
(فوٹو: انٹرنیٹ)

برطانیہ کے ’فش اینڈ چپس‘ریسٹورنٹس بھی اس وقت دہرے بحران کا شکار ہیں، جہاں مچھلی کی قلت اور گیس کی قیمتوں میں اضافے نے کاروبار کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔

نیشنل فیڈریشن آف فش فرائرز کے سربراہ اینڈریو کروک کے مطابق ایندھن مہنگا ہونے سے ماہی گیروں کی فی ٹرپ آمدن میں 397 ڈالر تک کمی ہوئی ہے۔

پھولوں کی صنعت اور کینیا کا نقصان

iran war and global economy supply chain 5
(فوٹو: انٹرنیٹ)

کینیا، جو یورپی یونین کو پھول برآمد کرنے والا بڑا ملک ہے، اس وقت شدید معاشی نقصان اٹھا رہا ہے۔

کینیا فلاور کونسل کے مطابق تنازع کے ابتدائی 3ہفتوں میں 4.2 ملین ڈالر کا نقصان ہواچکا ہے۔ یومیہ برآمدات 4 لاکھ 50 ہزار پھولوں سے کم ہو کر 2 لاکھ سے بھی نیچے آ گئی ہیں۔

ایک ناگزیر عالمی حقیقت

موجودہ بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ جنگیں اب صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہتیں۔

عالمگیریت کے اس دور میں ایک علاقائی تنازع بھی پوری دنیا کی معاشی شہ رگ پر اثر انداز ہوتا ہے، جس سے عام آدمی کی روزمرہ زندگی براہ راست متاثر ہو رہی ہے۔