اہم خبریں
17 April, 2026
--:--:--
براہ راست نشریات

ہرمزکا تحفظ: طاقت کے استعمال کی قرارداد سلامتی کونسل نے ملتوی کردی

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
آبنائے ہرمز میں کھڑے آئل ٹینکرز اور تجارتی جہازوں کا منظر
(فوٹو: رائٹرز)

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ کے لیے طاقت کے استعمال کی قرارداد پر ووٹنگ ملتوی کر دی ہے۔

مزید پڑھیں

بحرین کی جانب سے پیش کردہ اس مسودے پر جمعہ کو رائے شماری متوقع تھی، جسے تکنیکی وجوہات کی بنا پر مؤخر کردیا گیا ہے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق ووٹنگ ملتوی کرنے کی وجہ جمعہ کو اقوام متحدہ میں گڈ فرائیڈے کی تعطیل قرار دی گئی ہے۔  فی الحال اس اہم قرارداد پر رائے شماری کے لیے کسی نئی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا اور نہ ہی کوئی حتمی شیڈول طے ہے۔

اس پیش رفت پر ردعمل دیتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سلامتی کونسل کو خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال پر کوئی بھی اشتعال انگیز قدم حالات کو مزید پیچیدہ بنا دے گا۔

انہوں نے کہا کہ جارح قوتیں اور ان کے حامیوں کی مداخلت کسی صورت سودمند ثابت نہیں ہوگی۔

satellite view of the strait of hormuz with white 2026 03 20 00 09 24 utc
(فوٹو: انٹرنیٹ)

واضح رہے کہ ایران نے مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے دوران امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے جواب میں آبنائے ہرمز کا محاصرہ کر رکھا ہے۔

اس اقدام سے عالمی معیشت کو شدید خطرات لاحق ہیں اور ایندھن کی عالمی سپلائی چین بری طرح متاثر ہو کر قیمتوں میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔

بحرین کے مستقل مندوب برائے اقوام متحدہ جمال الرویعی نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش معاشی دہشت گردی کے مترادف ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ امریکہ کی حمایت سے یہ قرارداد انتہائی حساس اور اہم وقت پر پیش کی گئی ہے جس کی فوری منظوری ناگزیر ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایندھن کی قلت کا شکار ممالک سے کہا ہے کہ وہ خود آبنائے ہرمز سے اپنا تیل حاصل کریں۔ 

تہران کے منجمد اثاثے اور ایران امریکہ مذاکرات کی اہمیت
(فوٹو: انٹرنیٹ)

انہوں نے واضح کیا کہ امریکی فوج اس مقصد کے لیے کسی بھی ملک کی مدد کرنے کی پابند نہیں ہوگی اور نہ ہی مداخلت کرے گی۔

واضح رہے کہ اس قرارداد کے چھٹے اور حتمی مسودے میں رکن ممالک کو یہ اختیار دینے کی تجویز دی گئی ہے کہ وہ بحری شراکت داری یا یکطرفہ طور پر دفاعی اقدامات کر سکیں۔ 

اس کا مقصد آبنائے ہرمز اور ملحقہ پانیوں میں بین الاقوامی جہاز رانی کی بلا تعطل نقل و حمل کو یقینی بنانا ہے۔

یہ مجوزہ اقدامات کم از کم 6 ماہ تک نافذ رہنے کی توقع ہے، تاہم سلامتی کونسل کے ارکان میں اس قرارداد پر اتفاق رائے نہیں پایا جاتا۔ 

اُدھر چین نے خبردار کیا ہے کہ طاقت کا استعمال کشیدگی میں اضافے کا باعث بنے گا، جبکہ روس نے اسے متعصبانہ قرار دیا ہے۔

hormuz crisis and china
(فوٹو: انٹرنیٹ)

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے بھی اس فوجی آپشن کو غیر حقیقت پسندانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو آزاد کرانے کے لیے فوجی کارروائی بہت طویل اور خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ اقدام وہاں سے گزرنے والے ہر جہاز کے لیے سنگین خطرات پیدا کر دے گا۔

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا بھر میں تیل اور قدرتی گیس کی ترسیل کا اہم ترین راستہ ہے اور یہاں سے دنیا کی کل سپلائی کا پانچواں حصہ گزرتا ہے۔ 

اس راستے کی بندش سے توانائی کے علاوہ کھاد جیسی اہم اشیا کی عالمی منڈی میں شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔

یاد رہے کہ سلامتی کونسل کی جانب سے کسی بھی معاملے میں طاقت کے استعمال کی اجازت دینا ایک نایاب عمل ہے۔ 

ماضی میں 1990 میں عراق کے خلاف اور 2011 میں لیبیا میں نیٹو کی مداخلت کے لیے ایسی قراردادیں منظور کی گئی تھیں، تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ ہرمز کے معاملے پر کونسل کیا حتمی فیصلہ کرتی ہے۔

un security council
(فوٹو: انٹرنیٹ)