مصنوعی ذہانت کے اثرات اب محض مستقبل کی پیشگوئی نہیں بلکہ حال کی ایک تلخ حقیقت بن چکے ہیں۔
مزید پڑھیں
یونیورسٹی آف مونٹریال میں کمپیوٹر سائنس کے پروفیسر اور ٹیورنگ ایوارڈ یافتہ سائنسدان یوشوا بینجیو نے خبردار کیا ہے کہ اے آئی دنیا بھر میں ہر قسم کی ملازمتوں کو شدید خطرے میں ڈال رہی ہے۔
پروفیسر بینجیو کے مطابق دفتری اور علمی نوعیت کی وہ تمام ملازمتیں جن کا تعلق کی بورڈ کے استعمال سے ہے، آٹومیشن کا پہلا ہدف ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر کوئی بڑی سائنسی رکاوٹ پیش نہ آئی تو
مصنوعی ذہانت ان تمام کاموں کو سنبھال لے گی جو فی الحال انسان کر رہے ہیں۔
نوجوان سب سے زیادہ متاثر
موجودہ دور میں ’جنریشن زی‘ اور ’ملینیئل‘ نسل کو سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا ہے، کیونکہ ابتدائی سطح کی ملازمتیں تیزی سے سافٹ ویئر سے تبدیل کی جا رہی ہیں۔
گوگل، آئی بی ایم اور انٹیل جیسی بڑی کمپنیاں بھی ہزاروں نئی اسامیاں ختم کر رہی ہیں، جس سے ملازمتوں کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔
ہنرمندی بھی محفوظ نہیں
ایک عام تاثر یہ تھا کہ ہنرمند افراد جیسے پلمبر یا دیگر مزدور طبقہ محفوظ رہے گا، لیکن پروفیسر بینجیو کا کہنا ہے کہ یہ تحفظ بھی صرف وقتی ہے۔
جیسے جیسے روبوٹس کو ڈیٹا ملے گا، وہ انسانی مہارتوں کو بھی سیکھ لیں گے، جس کے بعد کسی بھی شعبے میں انسانی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔
نئی سائنسی فکر اور خدشات
پروفیسر بینجیو اب اپنی زندگی بھر کی تحقیق پر نظر ثانی کر رہے ہیں۔ چیٹ جی پی ٹی نے ان کی سوچ بدل کر رکھ دی ہے۔
انہوں نے ’LawZero‘ نامی تنظیم کی بنیاد رکھی ہے جس کا مقصد محفوظ مصنوعی ذہانت کی تعمیر ہے، کیونکہ یہ ٹیکنالوجی صرف روزگار ہی نہیں، جمہوریت کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔
کارپوریٹ سیکٹر کے لیے انتباہ
پروفیسر نے دنیا بھر کے سی ای اوز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس اندھی دوڑ سے پیچھے ہٹیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کمپنیوں نے باہمی تعاون کے بجائے صرف مقابلہ کیا تو اس کے نتائج نہ صرف ان کے لیے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی تباہ کن ثابت ہوں گے۔
مصنوعی ذہانت کا ارتقا اب ایک ایسے موڑ پر ہے جہاں انسانی مہارتوں کی افادیت سوالیہ نشان بن گئی ہے۔
اگرچہ یہ ٹیکنالوجی معاشی ترقی کی علامت ہے، لیکن اس کے سماجی اور انسانی اثرات پر عالمی سطح پر ایک مربوط حکمت عملی اپنانا ناگزیر ہو چکا ہے تاکہ درپیش بحران سے بچایا جا سکے۔