دنیا کے معمر ترین کچھوے جوناتھن کی موت کی افواہ نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی، جس کے بعد مداحوں میں شدید غم و غصہ پایا گیا۔
مزید پڑھیں
بعد ازاں یہ انکشاف ہوا کہ کسی شخص نے خود کو طبی ماہر ظاہر کر کے یہ جھوٹی خبر پھیلائی تھی۔
جوناتھن اس وقت جزیرہ سینٹ ہیلینا پر مکمل خیریت سے ہے اور ایک درخت کے سائے میں پرسکون نیند سو رہا ہے۔
193 سالہ یہ کچھوا اپنی طویل زندگی کے دوران کئی تاریخی شخصیات اور عالمی رہنماؤں سے ملاقاتوں کے باعث بین الاقوامی شہرت رکھتا ہے۔
جوناتھن کی پیدائش تقریباً 2 صدیاں قبل ہوئی تھی، جب ملکہ وکٹوریہ تخت نشین نہیں ہوئی تھیں۔
اُس وقت چارلس ڈارون نے گالاپاگوس جزائر کا دورہ نہیں کیا تھا اور جرمنی 39 خود مختار ریاستوں کا ایک بکھرا ہوا مجموعہ تھا، جبکہ چارلس ڈکنز کا نام بھی کسی نے نہیں سنا تھا۔
اس کچھوے کو 1880 کی دہائی میں سیشلز سے سینٹ ہیلینا لایا گیا تھا، جہاں یہ جزیرے کے گورنر کی سرکاری رہائش گاہ ’پلانٹیشن ہاؤس‘ میں مقیم ہے۔
یہ جزیرہ 47 مربع میل رقبے پر محیط ہے، جو ڈزنی ورلڈ اورلینڈو کے حجم کے قریب ہے۔
جوناتھن نے 1947 میں برطانوی شاہی خاندان کے اہم ارکان کا استقبال کیا، جن میں ملکہ الزبتھ دوم، بادشاہ جارج ششم اور کوئین مدر شامل تھے۔
اس کے علاوہ اس نے آنجہانی ڈیوک آف ایڈنبرا اور سر لِنڈسے ہوئل جیسی معروف شخصیات سے بھی ملاقاتیں کیں۔
گنیز ورلڈ ریکارڈز نے جوناتھن کو دنیا کے معمر ترین زندہ زمینی جانور کے طور پر بھی تسلیم کیا ہے۔
2005 میں 175 سالہ کچھوے ہیریٹ کی موت کے بعد جوناتھن کو یہ اعزاز حاصل ہوا۔ 2024 میں موجودہ ڈیوک آف ایڈنبرا نے بھی اس سے ملاقات کی تھی۔
جب جوناتھن کی عمر 184 سال تک پہنچی تو اس کی صحت کے حوالے سے خدشات پیدا ہوئے۔ اس کے بعد اس کے طرز زندگی میں تبدیلی لائی گئی اور اسے خصوصی دیکھ بھال فراہم کی گئی۔
اب اس کا طبی معائنہ اور صفائی باقاعدگی سے کی جاتی ہے۔
ماہرین نے اس کی صحت کو بہتر بنانے کے لیے اسے خصوصی غذائی پروگرام پر رکھا ہے، جس میں کیلوریز کی مقدار کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔
اس کے شیل کی صفائی کے لیے طبی صابن اور نرم برش کا استعمال کیا جاتا ہے تاکہ اسے تروتازہ رکھا جا سکے۔