سعودی عرب نے ایران کی جانب سے جاری جارحانہ اقدامات کے باوجود انتہائی تحمل اور سفارتی حکمت عملی کا مظاہرہ کیا ہے۔
مزید پڑھیں
ریاض حکومت کا کہنا ہے کہ ایران کا موجودہ رویہ خطے کے استحکام کے لیے خطرہ ہے، جس کے پیش نظر سعودی قیادت نے جوابی کشیدگی سے بچتے ہوئے قومی سلامتی کو اولین ترجیح دی ہے۔
ایرانی جارحیت: سوچی سمجھی حکمت عملی
سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے ایران کے رویے کو ’بھتہ خوری‘ اور ’بلیک میلنگ‘ پر مبنی قرار دیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ تہران کا جارحانہ طرزِ عمل اتفاقی نہیں، بلکہ بیجنگ معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے، جس نے خطے میں ایران کے حوالے سے عالمی اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
سعودی عرب کا تحمل اور سفارتی ترجیحات
العربیہ کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف مہم کے باوجود سعودی عرب نے جنگ میں فریق بننے کے بجائے ’ضبطِ نفس‘ کو اختیار کیا ہے۔
اس حکمت عملی کے تحت ریاض حکومت کا مقصد خطے کو ایک ایسی جنگ سے بچانا ہے جس کا وہ خود حصہ نہیں ہے اور ساتھ ہی اپنی سلامتی کے لیے ہنگامی دفاعی اقدامات کو بھی بروئے کار لانا ہے۔
مشاهد تُظهر اعتراضَ وتدمير الدفاعات الجوية السعودية عددًا من الطائرات المسيّرة التي أُطلِقت باتجاه المملكة خلال الأيام الماضية.#وزارة_الدفاع pic.twitter.com/cVtJEu0F7q
— وزارة الدفاع (@modgovksa) March 8, 2026
ایرانی رویہ بمقابلہ سعودی ماڈل
سیاسی تجزیہ کار یوسف الدینی کے مطابق سعودی عرب نے ’دھمکی قبول کرنے‘ یا ’جنگ میں شامل ہونے‘ کی تمام بیرونی کوششوں کو مسترد کرتے ہوئے ’عدم قبولیت مگر تصادم سے گریز‘ کا تیسرا راستہ اختیار کیا ہے۔
مملکت کی اس پالیسی کے نتیجے میں ایران کے معاشی اور نفسیاتی اثرات کو زائل کرنے میں مدد ملی ہے۔
ردِعمل کا نیا تصور
سعودی عرب نے اپنی دفاعی حکمت عملی کو تبدیل کرتے ہوئے تمام دفاعی آپشنز دستیاب ہونے کے باوجود ’عملی ردِ عمل‘ کے بجائے ’دشمن کے حملوں کوناکام بنانے‘ اور ’تحمل‘ کی راہ کو اختیار ہے۔
ایران کی غلط حکمت عملی
حال ہی میں سعودی دفاعی نظام نے ریاض اور مشرقی ریجن کی جانب داغے گئے 5 بیلسٹک میزائل اور متعدد ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کیا ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران نے خطے میں کشیدگی پھیلا کر ایک ایسی جنگ کو دعوت دی ہے جس سے وہ اپنی بین الاقوامی تنہائی ختم کرنا چاہتا ہے۔
خلیجی ممالک کا متحد ردعمل
خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب، اب ایرانی جارحیت کو معمول کا واقعہ نہیں بلکہ ایک مستقل چیلنج سمجھتے ہیں۔
ان ملکوں کا مؤقف ہے کہ ایران کا مقصد خطے کو جنگ میں دھکیل کر عالمی برادری سے امریکا کے خلاف دباؤ ڈلوانا ہے، جسے خلیجی ممالک مشترکہ حکمت عملی سے ناکام بنا رہے ہیں۔
4 رکنی خلیجی دفاعی حکمت عملی
تجزیہ کار ڈاکٹر خالد الہباس کے مطابق خلیجی ریاستیں 4 بنیادی ستونوں پر کام کر رہی ہیں:
- اول: جدید دفاعی صلاحیتوں کا استعمال
- دوم: عسکری و سیکیورٹی رابطہ
- سوم: بین الاقوامی طاقتوں کے ساتھ دفاعی معاہدے
- چہارم: متوازن سفارتی محاذ کی تشکیل تاکہ ایران کو تنہا کیا جا سکے۔
سعودی عرب کی خارجہ پالیسی میں ’توازن اور حکمت‘ نمایاں ہے۔ ریاض حکومت کا واضح پیغام ہے کہ ایران کی جانب سے جاری جارحیت کا اسے کوئی سیاسی یا جنگی فائدہ نہیں ہوگا۔
سعودی عرب علاقائی استحکام کے لیے پُرعزم ہے اور اپنی دفاعی تیاریوں کے ساتھ ساتھ سفارتی دباؤ کے ذریعے ایران کو اس کے غلط اقدامات اور فیصلوں پر نظرثانی کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔