غزہ میں جاری حالیہ اسرائیلی جارحیت نے انسانی المیے کی ایک ایسی خوفناک تصویر پیش کی ہے جس کی مثال جدید تاریخ میں ملنا مشکل ہے۔
مزید پڑھیں
اس جنگ نے نہ صرف ہزاروں قیمتی جانیں ضائع کی ہیں بلکہ ہزاروں بچوں کو بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاندان کے پیار اور تحفظ سے محروم کر دیا ہے۔
یتیمی اور بے گھری کا بحران
رپورٹس کے مطابق غزہ میں تقریباً 85 ہزار بچے جنگ کی وجہ سے یتیم ہو چکے ہیں۔ ان میں سے 27 ہزار بچے ایسے بدقسمت ہیں جنہوں نے
اپنے والدین (ماں اور باپ دونوں) کو کھو دیا ہے۔
یہ بچے اب کسی بھی قسم کے سہارے، دیکھ بھال یا محفوظ ٹھکانے کے بغیر تنہا زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
نبال اور جنت: اُمید اور ذمہ داری کی کہانیاں
جنت نامی ایک چھوٹی بچی اسپتال میں زخمی حالت میں ملی تھی، جس کے خاندان کا اب تک کوئی پتا نہیں چلا، تاہم رامی عروقی نامی ایک شخص نے قانونی طور پر اسے اپنی سرپرستی میں لے لیا۔
اسی طرح نبال نے 17 سال کی عمر میں اپنے والد اور 19 سال کی عمر اپنی والدہ کو کھونے کے بعد 4 بہن بھائیوں کی کفالت کی ذمہ داری سنبھال لی ہے۔
فلاحی اداروں کی بے بسی
غزہ میں یتیم بچوں کی دیکھ بھال کرنے والے اداروں کے لیے یہ صورتحال ایک مستقل چیلنج بن چکی ہے۔
’یتیموں کے لیے اُمید‘ نامی ادارے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نضال جرادہ کا کہنا ہے کہ صرف اس جنگ کے دوران 47 ہزار سے زائد بچوں کا یتیم کے طور پر اندراج ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ایک ادارہ اتنے بڑے پیمانے پر متاثرہ بچوں کی ضروریات پوری کرنے کی سکت نہیں رکھتا۔
مستقبل اور اندیشے
غزہ پر مسلط اسرائیلی جنگ کا نقصان صرف ہلاکتوں تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس نے ہزاروں بچوں کو ایک غیر یقینی مستقبل کے سپرد کر دیا ہے۔
سر پر چھت نہ ہونے اور خاندان کے تحفظ سے محروم یہ بچے آج جس کرب سے گزر رہے ہیں، اس کا مداوا فی الحال کسی کو نظر نہیں آتا۔
گہرا انسانی المیہ
یہ اعداد و شمار محض ہندسے نہیں بلکہ ایسی نسل کا نوحہ ہیں جو دنیا بھر کی نگاہوں کے سامنے بکھر رہی ہے۔
بین الاقوامی برادری کو ان بچوں کی بحالی کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ وہ ایک تاریک مستقبل کے بجائے زندگی کی جانب دوبارہ لوٹ سکیں۔