ایشیا کی اسٹاک مارکیٹس نے گزشتہ 17 برسوں میں اپنی بدترین ماہانہ کارکردگی کے بعد زبردست بحالی دکھائی ہے، جس کی بڑی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے جلد خاتمے کی امید ہے۔
یہ امید امریکی صدر کے اس بیان کے بعد بڑھی، جس میں انہوں نے اشارہ دیا کہ وہ آئندہ چند ہفتوں میں ایران سے نکلنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
مزید پڑھیں
الشرق بلومبرگ کے مطابق ایم ایس سی آئی ایشیا پیسیفک انڈیکس میں 4 فیصد اضافہ ہوا جبکہ تقریباً ہر ایک گرتے ہوئے شیئر کے مقابلے میں 10 شیئرز میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
خطے کے ٹیکنالوجی شیئرز کے انڈیکس میں 6.5 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا، جہاں سیمی کنڈکٹر بنانے والی کمپنیوں جیسے سام سنگ الیکٹرانکس
اور ایس کے ہائنکس کے شیئرز 9 فیصد سے زائد بڑھ گئے۔
اسی طرح امریکی اور یورپی اسٹاک فیوچرز میں بھی تیزی دیکھی گئی۔
امریکی ڈالر میں معمولی کمی آئی جبکہ امریکی حکومتی بانڈز ’ٹریژری‘ کی قدر میں اضافہ جاری رہا۔
اس کی ایک وجہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان بھی ہے کہ امریکہ آئندہ دو سے تین ہفتوں میں ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔
تاہم صدر کی جانب سے دی گئی اس ٹائم لائن کی حقیقت ابھی واضح نہیں، کیونکہ ٹرمپ ماضی میں بھی بڑے فیصلوں کے لیے دو ہفتوں کی مہلت کا ذکر کرتے رہے ہیں لیکن اکثر یہ ڈیڈ لائنز آگے بڑھ جاتی ہیں۔