اہم خبریں
17 April, 2026
--:--:--
براہ راست نشریات

مشرقِ وسطیٰ جنگ: عرب ممالک 5 لاکھ چینی سیاحوں سے محروم

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
(فوٹو: انٹرنیٹ)

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ نے عرب ممالک کی سیاحتی صنعت کو شدید دھچکا پہنچایا ہے، جہاں سفر و سیاحت کے نئے تخمینوں کے مطابق خطے نے صرف ایک ماہ میں تقریباً 5 لاکھ چینی سیاحوں کو کھو دیا۔

مزید پڑھیں

یہ کمی چین سے آنے والی ٹریول ڈیمانڈ میں حالیہ برسوں کا بدترین تعطل سمجھا جا رہا ہےجس کی بنیادی وجہ سیکیورٹی خدشات اور 28 فروری 2026 سے متعدد پروازوں کی معطلی ہے۔

سفر کے رجحانات اور بکنگز کے تجزیے کے مطابق معمول کی صورتِ حال میں عرب ممالک ماہانہ 4.5 سے 5 لاکھ چینی سیاح وصول کرتے تھے۔

جنگ کے بعد گروپ ٹورز کی منسوخی، طیاروں کی محدود پروازوں اور مستقبل کی بکنگز کے معطّل ہونے کے باعث مجموعی نقصان 5 لاکھ سیاحوں سے تجاوز کرگیا ہے۔

chinese tourists2
(فوٹو: انٹرنیٹ)

امارات سب سے زیادہ متاثر

متحدہ عرب امارات ان ممالک میں سرِفہرست ہے جہاں سیاحوں کی کمی سب سے زیادہ رہی۔

اندازوں کے مطابق صرف ایک ماہ میں 1.8 لاکھ چینی سیاحوں کی آمد کم ہوئی، جو براہِ راست پروازوں کی بندش، خریداری پر مبنی سیاحت اور بڑے تجارتی و تفریحی ایونٹس کی معطلی کے باعث ہوا۔

اسی طرح مصر میں بھی صورتحال خاصی متاثر رہی۔ قاہرہ، اسوان اور الاقصر جیسے تاریخی مراکز کی بکنگز کم ہونے کے باعث ملک کو تقریباً 90 ہزار چینی سیاحوں  کا نقصان ہوا۔

اُدھر قطر، بحرین اور سلطنتِ عمان مجموعی طور پر 1.1 لاکھ سیاحوں کی کمی کے ساتھ متاثر ہونے والی فہرست میں شامل رہے۔

chinese tourists3
(فوٹو: انٹرنیٹ)

570 ملین ڈالر سے زائد کا نقصان

چینی سیاح دنیا میں سب سے زیادہ خرچ کرنے والوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کا فی کس خرچ 1200 سے 1500 ڈالر کے درمیان ہے۔

اس حساب سے خطے کو صرف ایک ماہ میں 750 ملین ڈالر سے زیادہ (تقریباً 2.8 ارب سعودی ریال) کا براہِ راست نقصان ہوا ہے۔ 

اس کے علاوہ ہوابازی، ہوٹل، خریداری اور تفریحی سرگرمیوں پر پڑنے والے بالواسطہ اثرات اس کے علاوہ ہیں۔

مزید بگاڑ کا خدشہ

سیاحت کے ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو یہ نقصانات کہیں زیادہ بڑھ سکتے ہیں، کیونکہ چینی مسافر عام طور پر کسی بھی غیر مستحکم مقام کو فوراً ترک کر کے جنوب مشرقی ایشیا اور یورپ کے زیادہ محفوظ متبادل کا انتخاب کرتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کی یہ بڑی سیاحتی مارکیٹ فوری طور پر واپس نہیں آئے گی۔ اس کے لیے اب بھاری بھرکم پروموشنل مہمات، سیاحتی اعتماد کی بحالی، فلائٹ آپریشنز کا مکمل آغاز اور گروپ ٹورز کی بحالی ضروری ہے۔