امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ جن ممالک کو ایرانی دھمکیوں اور جنگ کے باعث آبنائے ہرمز کی بندش سے نقصان پہنچ رہا ہے، انہیں چاہیے کہ وہ خود اس آبی گزرگاہ پر کنٹرول حاصل کریں۔
مزید پڑھیں
العربیہ کے مطابق انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں اب کوئی حقیقی خطرہ موجود نہیں ہے۔
منگل کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری پیغام میں ٹرمپ نے بالخصوص برطانیہ سمیت متاثرہ ممالک کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی فوجی موجودگی بڑھا کر آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھالیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ جو ممالک یہ ذمہ داری قبول نہیں کرنا چاہتے ہم انہیں دوبارہ مدد فراہم نہیں کریں گے۔
ایران، امریکہ جنگ: تازہ خبروں کے لیے کلک کریں
ٹرمپ نے مزید کہا کہ جو ممالک تیل کی فراہمی میں دشواری کا سامنا کر رہے ہیں، وہ یا تو ہرمز پر کنٹرول کریں یا امریکا سے تیل خریدیں۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکا ایران کے معاملے میں سب سے مشکل حصہ مکمل کر چکا ہے۔
ٹرمپ نے ایک دوسرے بیان میں فرانس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پیرس نے اسرائیل جانے والی اور فوجی سازوسامان سے لدی پروازوں کو اپنی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت نہیں دی۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کے قصاب کے خلاف کارروائی میں بھی فرانسیسی رویہ انتہائی غیر تعاون پر مبنی تھا۔ انہوں نے تنبیہ کی کہ امریکا اسے بھولے گا نہیں۔
بعد ازاں امریکی ٹی وی سی بی ایس سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے واضح کیا کہ فی الحال وہ خطے سے امریکی افواج واپس بلانے کے لیے تیار نہیں۔
اُدھر ایک اطالوی اہلکار نے بھی انکشاف کیا ہے کہ اٹلی نے امریکا کے جنگی طیاروں کو سسلی میں اترنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔
علاوہ ازیں قطر کے وزیرِ خارجہ کے ترجمان اور وزیراعظم کے مشیر ماجد بن محمد الانصاری نے بتایا کہ عرب ممالک نے آبنائے ہرمز میں بحری گزرگاہوں کے تحفظ کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی اپنانے پر اتفاق کر لیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک یہ مسئلہ اجتماعی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور کوئی ملک الگ سے کوئی مختصر المدتی معاہدہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایران کے گرد بڑھتی کشیدگی کا جلد حل نکل آئے گا۔
یاد رہے کہ 28 فروری سے ایران، امریکا اور اسرائیل کے مابین جاری جنگ کے بعد سے ٹرمپ یورپی ممالک کو بارہا تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں کیونکہ انہوں نے آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی کے لیے اپنی بحری قوت بھیجنے سے انکار کر دیا تھا۔
ٹرمپ ایران کو کئی بار دھمکی دے چکے ہیں کہ اگر 6 اپریل تک آبنائے ہرمز دوبارہ نہ کھولی گئی تو سخت نتائج بھگتنا ہوں گے۔
امریکی جریدے وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ ممکنہ طور پر یہ جنگ جلد ختم کر سکتے ہیں، چاہے آبنائے ہرمز کھلے یا نہ کھلے۔