مارچ کے مہینے کے دوران سعودی عرب نے خلیجی خطے میں سپلائی چینز کے ایک اہم مرکز کے طور پر اپنی حیثیت کو مزید مضبوط کیا۔
یہ پیش رفت متعدد مربوط آپریشنل اور انتظامی اقدامات کے ذریعے ممکن ہوئی، جن کی قیادت جنرل اتھارٹی برائے بندرگاہیں اور جنرل اتھارٹی برائے سول ایوی ایشن نے کی تاکہ خلیجی ممالک کے درمیان سامان، مسافروں اور خوراک کی ترسیل کو ہموار بنایا جا سکے۔
مزید پڑھیں
خلیجی روابط کے لیے براہِ راست پروازیں
مارچ میں القیصومہ ایئرپورٹ سے کویتی ایئرلائن الجزیرہ ایئر ویز کی پہلی پروازوں کا آغاز ہوا، جس سے سعودی عرب اور کویت کے درمیان فضائی رابطے مضبوط ہوئے اور مسافروں و سامان کی نقل و حرکت کو فروغ ملا۔
مملکت کے ہوائی اڈوں پر جدید تیز رفتار ٹرانزٹ سسٹمز فعال کیے گئے
تاکہ خلیجی ممالک سے آنے اور جانے والے مسافروں اور سامان کی روانی کو یقینی بنایا جا سکے اور اشیائے خور و نوش کی ترسیل میں آسانی ہو۔
خلیجی پانیوں میں جہازوں کے لیے رعایت
23 مارچ کو خلیج عربی میں موجود جہازوں کے لیے کچھ دستاویزی شرائط سے 30 دن کی عارضی چھوٹ دی گئی تاکہ لاجسٹک سلسلہ برقرار رہے اور جہازوں پر آپریشنل دباؤ کم ہو۔
24 اور 26 مارچ کو ایک جامع سپورٹ پیکج متعارف کرایا گیا، جس میں اضافی مال بردار ٹرینیں چلائی گئیں تاکہ شمالی سعودی عرب کو خلیجی بندرگاہوں سے جوڑا جا سکے، اور متبادل زمینی و بحری راستوں کے ذریعے پھنسے ہوئے جہازوں کو سہولت دی جا سکے۔
درآمدات و برآمدات کے لیے اسٹوریج میں رعایت
26 مارچ کو خلیجی درآمدات اور برآمدات پر 60 دن کے لیے اسٹوریج فیس میں چھوٹ دی گئی، جس سے کمپنیوں کے اخراجات کم ہوئے اور سعودی بندرگاہوں کی مسابقتی حیثیت میں اضافہ ہوا۔
اسی روز دمام میں واقع کنگ عبدالعزیز بندرگاہ پر خالی کنٹینرز کے لیے مخصوص علاقے مختص کیے گئے، جبکہ خلیجی ممالک سے آنے والے ریفریجریٹڈ ٹرکوں کو داخلے کی اجازت دی گئی، تاکہ خوراک اور ٹھنڈی سپلائی چین کی ترسیل جاری رہے۔
بندرگاہوں میں کنٹینرز کی رعایت میں توسیع
28 مارچ کو دمام کی کنگ عبدالعزیز بندرگاہ اور الجبیل کمرشل پورٹ میں خالی کنٹینرز پر دی گئی رعایت میں توسیع کی گئی، جس سے سامان کی ترسیل اور جہاز رانی کے عمل کو مزید آسان بنایا گیا۔
مجموعی اثر
یہ تمام اقدامات مل کر سعودی عرب کو خلیجی خطے میں سپلائی چینز کے ایک مرکزی اور مؤثر حب کے طور پر مستحکم کرتے ہیں، اور فضائی، بحری اور زمینی راستوں کے ذریعے باہمی تجارت کو زیادہ مؤثر اور مسابقتی بناتے ہیں۔