بحرین کی وزارتِ داخلہ نے سوشل میڈیا پر زیرِ بحث آنے والے محمد عبدالمحسن محمد (32 سال) کی وفات سے متعلق حقائق واضح کرتے ہوئے تصدیق کی کہ متوفی شخص سکیورٹی مقدمے میں حراست میں تھا۔
مزید پڑھیں
سبق ویب سائٹ کے مطابق وزارت داخلہ نے بتایا کہ متعلقہ اداروں نے تحقیقات اور چھان بین کا آغاز کیا، جس سے معلوم ہوا کہ متوفی قومی انٹیلیجنس ادارے کی تحویل میں ایک ایسے کیس میں زیرِ حراست تھا جو جاسوسی، رابطہ کاری اور ملک کے حساس مقامات سے متعلق معلومات اور ڈیٹا ایرانی پاسدارانِ انقلاب تک منتقل کرنے سے متعلق تھا، تاکہ انہیں نشانہ بنایا جا سکے۔
مزید یہ کہ اس کے خلاف گرفتاری اور پیشی کا حکم بھی جاری کیا گیا تھا۔
وزارت نے زور دے کر کہا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی متوفی کی مبینہ چوٹوں کی تصاویر درست نہیں ہیں بلکہ انہیں سنسنی پھیلانے کے مقصد سے استعمال کیا گیا ہے۔
مزید کہا گیا کہ اس واقعے کی تحقیقات کے لیے پبلک پراسیکیوشن کی خصوصی تحقیقاتی یونٹ کو مطلع کر دیا گیا ہے تاکہ زخمی ہونے کے حالات اور موت کی وجوہ کا تعین کیا جا سکے۔