واشنگٹن کی جانب سے اگرچہ جنگ بندی کے مجوزہ منصوبے کی خبروں نے عالمی منڈیوں کو کسی حد تک مستحکم کرنے کی کوشش کی ہے لیکن عالمی مالیاتی ادارے مورگن اسٹینلے کے ماہرین ایک مختلف اور تشویشناک تصویر پیش کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیں
ماہرین کے مطابق اگر جنگ کل ختم ہو جائے، تب بھی عالمی معیشت اُس ’نارمل‘ حالت میں واپس نہیں آ سکتی، جو اب تک ہم دیکھ رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ ایران جنگ نے محض ایک تجارتی راستہ بند نہیں کیا، بلکہ عالمی توانائی کے ڈھانچے کی اس کمزوری کو بے نقاب کر دیا ہے جس کے بعد اب ایک مہنگا، غیر یقینی اور جغرافیائی سیاست کے زیرِ اثر نیا معاشی نظام جنم لے رہا ہے۔
ایران، امریکہ جنگ: تازہ خبروں کے لیے کلک کریں
آبنائے ہرمز: ایک ناقابلِ تلافی سبق
موجودہ بحران نے ثابت کر دیا کہ آبنائے ہرمز کو بند کرنا اس سے کہیں زیادہ آسان ہے جتنا پہلے سمجھا جاتا تھا۔ دنیا کا 20 سے 25 فیصد تیل اور تقریباً 20 فیصد مائع قدرتی گیس (LNG) اسی ایک تنگ راستے سے گزرتی ہے۔
سی این بی سی (CNBC) کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ کئی دہائیوں کی کشیدگی کے باوجود یہ راستہ کبھی مکمل بند نہیں ہوا تھا، لیکن حالیہ بندش نے بڑی معیشتوں کو اپنی توانائی کی حکمتِ عملی پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
مستقبل کی معیشت کے 3 رُخ
مورگن اسٹینلے کے مطابق جنگ کے بعد عالمی معیشت درج ذیل 3 بڑی سمتوں کی جانب چلے گی:
- مشرقِ وسطیٰ سے باہر متبادل کی تلاش: اب تک دنیا مشرقِ وسطیٰ کے ’اضافی پیداواری حجم‘ (Spare Capacity) پر بھروسا کرتی تھی، لیکن اب یہ احساس پیدا ہو گیا ہے کہ اگر تیل آبنائے ہرمز جیسے غلط رُخ پر موجود ہے تو وہ ہنگامی حالت میں بے کار ہے۔ اس سے تیل کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ رہے گا۔
- اسٹریٹیجک ذخائر میں اضافہ: امریکہ 2022 کے بعد سے اب تک اپنے پیٹرولیم ذخائر دوبارہ بھرنے میں ناکام رہا ہے۔ اب یورپ اور ایشیا اپنی مقامی اسٹوریج کی صلاحیت کو غیر معمولی حد تک بڑھانے کی کوشش کریں گے تاکہ سپلائی میں کسی بھی تعطل کا مقابلہ کیا جا سکے۔
- تیل کی قیمتوں کا نیا ’نارمل‘ کیا ہوگا؟: وہ تیل جو آبنائے ہرمز سے نہیں گزرتا، اب زیادہ قیمت پر فروخت ہوگا، جس کا اثر پوری عالمی مارکیٹ پر پڑے گا اور توانائی مستقل طور پر مہنگی رہے گی۔
منافع خور اور متاثرین: کون جیتے گا، کون ہارے گا؟
موجودہ بدلتی صورتحال میں توانائی کا شعبہ سب سے بڑے فاتح کے طور پر ابھرا ہے۔
مورگن اسٹینلے کی پیشگوئی کے مطابق اس شعبے کی کمپنیوں کے منافع 2026 میں سابقہ اندازوں سے دُگنے ہو جائیں گے، جبکہ 2027 میں بھی یہ منافع اصل تخمینوں سے 50 فیصد زیادہ رہنے کی توقع ہے۔
اس کے برعکس باقی عالمی معیشت سب سے بڑی متاثرہ ہوگی۔ تیل کی اونچی قیمتیں صارفین کی قوتِ خرید کو نچوڑ لیں گی اور کمپنیوں کے لیے پیداواری لاگت بڑھا دیں گی۔
اس سے مہنگائی کا جن دوبارہ بوتل سے باہر آ سکتا ہے، جو اسٹاک مارکیٹس کے لیے ایک خوش آئند اشارہ نہیں ہے، تاہم وہ کمپنیاں جو اضافی لاگت کا بوجھ صارفین پر منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، وہ نسبتاً محفوظ رہیں گی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر جنگ بندی سے مارکیٹ میں تھوڑا سا بھی ’یقین‘ (Certainty) واپس آتا ہے تو یہ تیل کی قیمتوں میں 20 ڈالر فی بیرل اضافے سے زیادہ اہم ہوگا۔
اگر سپلائی مستحکم ہوتی ہے تو فیڈرل ریزرو کے لیے شرح سود میں کمی کا جواز پیدا ہوگا، جو اسٹاک مارکیٹ کے لیے ایک بڑی سپورٹ ثابت ہو سکتا ہے۔