اہم خبریں
17 April, 2026
--:--:--

مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر 1.73 ٹریلین ریال  کی سطح عبور کرگئے

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
(فوٹو: انٹرنیٹ)

مرکزی بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں سال 2025 کے اختتام پر نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق یہ مجموعی اثاثے 1.73 ٹریلین ریال سے تجاوز کرگئے ہیں، جبکہ سال 2024 میں ان اثاثوں کا کل حجم 1.64 ٹریلین ریال ریکارڈ کیا گیا تھا۔

گزشتہ ایک سال کے دوران مملکت کے ان مالیاتی اثاثوں میں 5.3 فیصد کی سالانہ شرح سے ترقی ہوئی ہے۔

اس مدت میں مجموعی طور پر 86.3 ارب ریال کا اضافہ دیکھا گیا ہے، 

جو مملکت کی مضبوط مالیاتی پوزیشن، بیرونی اثاثوں کی مسلسل فراہمی اور مستحکم معاشی پالیسیوں کی عکاسی کرتا ہے۔

دسمبر 2025 کے لیے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق نومبر میں یہ ذخائر 1.74 ٹریلین ریال کی بلند ترین سطح پر رہے۔

سال 2025 کی چوتھی سہ ماہی میں ان اثاثوں میں 2.2 فیصد اضافہ ہوا، جو تیسری سہ ماہی کے مقابلے میں 36.4 ارب ریال زیادہ ہے۔

مرکزی بینک کے ان مجموعی اثاثوں میں سب سے بڑا حصہ بیرون ملک سیکیورٹیز میں کی گئی سرمایہ کاری کا ہے۔ 

saudi banks 2
(فوٹو: انٹرنیٹ)

اس مد میں 1.01 ٹریلین ریال سے زائد کی رقم موجود ہے، جو کل اثاثوں کا 58.6 فیصد بنتی ہے اور بین الاقوامی مالیاتی آلات پر مضبوط انحصار کو ظاہر کرتی ہے۔

اسی طرح غیر ملکی کرنسی اور بیرون ملک بینکوں میں جمع شدہ ڈپازٹس دوسرے نمبر پر رہے۔ 

ان کی مجموعی مالیت 619.1 ارب ریال ریکارڈ کی گئی ہے، جو کل ذخائر کا 35.9 فیصد ہے۔ یہ حصہ بیرونی ادائیگیوں کے لیے درکار نقد رقم اور عالمی سطح پر فوری لیکویڈیٹی کی دستیابی کو یقینی بناتا ہے۔

ان اثاثوں میں اسپیشل ڈرائنگ رائٹس (SDRs) کی مالیت 80.5 ارب ریال رہی، جو کل حجم کا 4.7 فیصد ہے۔ 

اسی طرح عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پاس موجود ریزرو پوزیشن 12.9 ارب ریال ریکارڈ کی گئی ہے، جو مجموعی اثاثوں کا تقریباً 0.7 فیصد بنتی ہے۔

علاوہ ازیں مانیٹری گولڈ یا سونے کے ذخائر کی مالیت 1.6 ارب ریال رہی، جو کل اثاثوں کا 0.1 فیصد ہے۔ 

یہ اعداد و شمار ثابت کرتے ہیں کہ سعودی عرب کے مالیاتی ذخائر نہ صرف انتہائی مستحکم ہیں بلکہ ان میں تنوع بھی موجود ہے، جس سے ملکی معیشت کو مزید تقویت مل رہی ہے۔