اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے خلیجی ممالک پر ایرانی حملوں کے سنگین اثرات پر غور کے لیے ہنگامی اجلاس طلب کیا۔
مزید پڑھیں
العربیہ کے مطابق کونسل نے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ خلیج تعاون کونسل کے ممالک کو پہنچنے والے نقصانات کا فوری طور پر ہرجانہ ادا کرے۔
ہنگامی اجلاس کے دوران کونسل نے واضح کیا کہ ایرانی حملوں نے توانائی کی اہم تنصیبات اور شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا ہے۔
انسانی حقوق کونسل نے تہران پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی تمام عسکری
کارروائیاں فوری طور پر بند کرے اور خطے میں مزید کشیدگی پھیلانے سے مکمل طور پر گریز کرے۔
ایران، امریکہ جنگ: تازہ خبروں کے لیے کلک کریں
ادارے نے عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی ایرانی کوششوں اور دھمکیوں کی بھی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔
اجلاس میں شریک مندوبین نے خبردار کیا کہ ایسی اشتعال انگیز کارروائیاں عالمی امن، جہاز رانی کی آزادی اور عالمی معیشت کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
کونسل کے جاری کردہ بیان کے مطابق مختلف ممالک ایران کی حالیہ عسکری جارحیت کے خلاف ایک مشترکہ قرارداد پیش کریں گے۔
اس جارحیت سے بحرین، اردن، کویت، سلطنت عمان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات براہ راست متاثر ہوئے ہیں، جنہیں اب عالمی سطح پر قانونی تحفظ فراہم کیا جائے گا۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایرانی حملوں میں صرف سرکاری املاک ہی نہیں بلکہ عام شہریوں اور سویلین انفرا اسٹرکچر کو بھی دانستہ نشانہ بنایا گیا ہے۔
ان حملوں کے نتیجے میں متعدد بے گناہ افراد کی جانیں ضائع ہوئیں جس پر انسانی حقوق کونسل نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔