امریکہ کا 15 نکاتی جنگ بندی منصوبہ پاکستان کے ذریعے ایران کو موصول ہوگیا۔
مزید پڑھیں
العربیہ کے مطابق اسلام آباد میں 2 اعلیٰ حکام نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ کا 15 نکاتی امن منصوبہ تہران کو پہنچا دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس اہم سفارتی پیش رفت کا مقصد خطے میں جاری کشیدگی کو مستقل طور پر روکنا ہے۔
پاکستان کو ایران اور امریکہ کے ساتھ دیرینہ و تاریخی تعلقات اور
خطے کے دیگر ممالک سے قریبی روابط کی بنیاد پر اس اہم ترین تنازع میں ایک ممکنہ اور موثر ثالث کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اس سلسلے میں اسلام آباد بھی مسلسل اور متحرک کردار ادا کر رہا ہے۔
ایران، امریکہ جنگ: تازہ خبروں کے لیے کلک کریں
پاکستان میں ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے فی الحال واشنگٹن اور تہران کے درمیان کسی بھی براہ راست یا بالواسطہ مذاکرات کی تردید کی ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ دوست ممالک اس غیر قانونی جارحیت کو روکنے کے لیے مشاورت میں مصروف ہیں۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے تصدیق کی ہے کہ تہران اپنے پڑوسی اور دوست ممالک کے ساتھ امریکی تنازع پر ثالثی کے حوالے سے بات چیت کر رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کئی علاقائی اور عالمی طاقتوں نے اس سلسلے میں اپنی خدمات پیش کی ہیں۔
اسماعیل بقائی کے مطابق ایران اپنے پڑوسیوں کے خدشات کو سمجھتا ہے اور خطے میں استحکام کی بحالی کے لیے کوشاں ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ ایرانی وزیر خارجہ اس مقصد کے لیے اپنے پاکستانی ہم منصب اور دیگر علاقائی وزرائے خارجہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ایران نے مذاکرات کی میز پر واپسی کے لیے انتہائی سخت شرائط رکھی ہیں۔ تہران کا مطالبہ ہے کہ خلیج عرب میں موجود تمام امریکی فوجی اڈے فوری طور پر بند کیے جائیں اور جنگی نقصانات کا معاوضہ دیا جائے۔
ایرانی شرائط میں آبنائے ہرمز کے لیے نئے انتظامات بھی شامل ہیں، جن کے تحت ایران اب وہاں سے گزرنے والے بحری جہازوں پر فیس وصول کر سکے گا۔
مزید برآں لبنان میں حزب اللہ پر اسرائیلی حملوں کو فوری بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
ساتھ ہی تہران نے تمام اقتصادی پابندیوں کے مکمل خاتمے پر زور دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے میزائل پروگرام پر کوئی سمجھوتا یا مذاکرات نہیں کرے گا۔
اسی طرح ایران دوبارہ جنگ نہ چھیڑنے کی ٹھوس ضمانتیں حاصل کرنے کا بھی خواہشمند ہے۔
دوسری جانب ایک امریکی عہدیدار نے ایرانی مطالبات کو غیر حقیقی اور مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اتنی سخت شرائط سے کسی بھی معاہدے تک پہنچنا ناممکن ہو جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس رویے نے امن عمل کی کامیابی پر سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔
ویب سائٹ ایکسیس کے مطابق ایران نے پاکستان، مصر اور ترکی جیسے ثالثوں کو بتایا ہے کہ وہ ماضی میں دو مرتبہ ڈونلڈ ٹرمپ سے دھوکا کھا چکے ہیں۔ تہران اب دوبارہ کسی ایسے سفارتی جال میں پھنسنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
ایرانی حکام کا خیال ہے کہ خطے میں امریکی فوج کی حالیہ تعیناتی اور کمک بھیجنے کا فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ ٹرمپ کی امن پیشکش محض ایک چال ہے۔ اس فوجی نقل و حرکت نے تہران کے شکوک و شبہات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔