امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جاری مشترکہ جنگ کو 3 ہفتے سے زائد کا وقت گزر چکا ہے۔ اس دوران پورا خطہ جہاں آگ اور خون میں نہا چکا ہے، وہیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات نے امید کی ایک کرن بھی دکھائی ہے۔
مزید پڑھیں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں توانائی کی تنصیبات پر حملوں کو فی الحال مؤخر کرنے کا اشارہ دیتے ہوئے تہران کے ساتھ تعمیری مذاکرات کا دعویٰ کیا ہے۔
تاہم اس کہانی میں سب سے دلچسپ موڑ تہران کی وہ شرط ہے جس نے واشنگٹن کے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ ایران کا مطالبہ ہے کہ مذاکرات کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کریں۔
ایران، امریکہ جنگ: تازہ خبروں کے لیے کلک کریں
جیرڈ کشنر اور ویٹکوف: ’پیٹھ میں چھرا گھونپنے والے‘
ایران کی جانب سے جے ڈی وینس کے انتخاب کی سب سے بڑی وجہ ٹرمپ کے دیرینہ معتمدین، اسٹیو ویٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر پر واضح عدم اعتماد ہے۔
تہران ان دونوں شخصیات کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ ایکسیوس (Axios) کی رپورٹ کے مطابق ایرانی حکام نے اِن دونوں کے ساتھ میز پر دوبارہ بیٹھنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔
تہران کا الزام ہے کہ کشنر اور ویٹکوف نے ماضی میں ابراہام اکارڈز کے ذریعے ایران مخالف محاذ کی بنیاد رکھی۔
سب سے بڑھ کر یہ کہ گزشتہ جون میں ہونے والے جنیوا مذاکرات، جن کی قیادت یہ دونوں افراد کررہے تھے، قیام امن کے بجائے 28 فروری کو اچانک جنگ چھڑنے کا پیش خیمہ ثابت ہوئے۔
ایران کی نظر میں یہ دونوں افراد (جیرڈ کشنر اور اسٹیو ویٹکوف) دھوکا دہی کی علامت بن چکے ہیں۔
فوجی آپریشن کے مخالف جے ڈی وینس
جے ڈی وینس کا نام ایرانیوں کے لیے اس لیے پرکشش ہے کیونکہ وہ وائٹ ہاؤس کے روایتی ’جنگ پسندوں‘ (War Hawks) کے حلقے سے باہر کی شخصیت ہیں۔
صحافی جیمز بول نے اپنے مضمون ’دنیا کو اس وقت جے ڈی وینس کی ضرورت ہے‘ میں لکھا ہے کہ وینس پردے کے پیچھے شروع ہی سے اس جنگ کے مخالف رہے ہیں۔
جے ڈی وینس اس نظریے کے حامی ہیں کہ امریکہ کو دنیا کا تھانے دار بننے کے بجائے صرف اپنے قومی مفادات پر توجہ دینی چاہیے۔
اُدھر تہران سمجھتا ہے کہ وینس کی یہی سوچ انہیں دوسروں سے مختلف بناتی ہے۔ وہ ایران میں نظام کی تبدیلی کے بجائے ایک ایسے حقیقت پسندانہ معاہدے کی طرف بڑھ سکتے ہیں جس کا مقصد صرف امریکی مفادات کا تحفظ ہو اور یہی وہ زبان ہے جو تہران بہتر سمجھتا ہے۔
غیر روایتی سفارت کار
جے ڈی وینس کوئی روایتی سفارت کار نہیں ہیں اور نہ ہی وہ پل بنانے کے لیے مشہور ہیں، تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق وہ ایک حقیقت پسند آلہ کار بن کر ابھرے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تمام روایتی راستے بند ہو جائیں، تو وینس جیسے شخص کی ضرورت پڑتی ہے جو ٹرمپ کے ساتھ وفاداری اور سیاسی حقیقت پسندی کا امتزاج رکھتا ہو۔
وہ ایسے وقت میں بحران سے نکلنے کا راستہ تلاش کر سکتے ہیں جہاں پیشہ ور سفارت کار ناکام ہو چکے ہوں۔
2028 کی صدارتی دوڑ اور سیاسی مستقبل
مذاکرات میں وینس کی شمولیت کے پیچھے صرف امن پسندی نہیں بلکہ ان کا اپنا سیاسی مستقبل بھی داؤ پر لگا ہے۔ جیمز بول کے مطابق وینس جانتے ہیں کہ اگر یہ جنگ طویل ہوئی تو 2028 میں ان کے صدر بننے کا خواب چکنا چور ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عوام کے نزدیک ٹرمپ کی MAGA تحریک کی بنیاد غیر ملکی جنگوں میں الجھنے اور بڑھتی ہوئی مہنگائی سے سخت نفرت ہے اور اگر یہ جنگ آئندہ سال کے انتخابی سیزن تک جاری رہی تو وینس کے لیے انتخابی میدان میں ٹھہرنا مشکل ہو جائے گا۔
لہٰذا وینس کے لیے اس جنگ کا خاتمہ محض سفارتی کامیابی نہیں بلکہ ان کی اپنی سیاسی بقا کا معاملہ بھی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ وہ اس وقت مذاکرات کی میز پر اس لیے آنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے پاس جنگ ختم کرنے کا یہ آخری اور حقیقی موقع ہے۔