امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور پاسداران انقلاب کے متعدد اعلیٰ کمانڈروں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد تہران میں طاقت کا توازن بدل گیا ہے۔
مزید پڑھیں
28 فروری سے جاری جنگ کے باوجود ایرانی نظام نے اپنی اسٹریٹیجک منصوبہ بندی کو برقرار رکھا ہے، یہاں تک کہ مجتبیٰ خامنہ ای بطور نئے سپریم لیڈر قیادت سنبھال چکے ہیں۔
خامنہ ای کے بعد قیادت کی منتقلی
مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے والد کے جاں بحق ہونے کے بعد ایران کے سپریم لیڈر کا عہدہ سنبھالا ہے۔ اگرچہ وہ قانونی طور پر اقتدار کے
وارث ہیں، تاہم انہیں اپنے والد جیسی غیر مشروط اطاعت حاصل نہیں ہے۔
ایران، امریکہ جنگ: تازہ خبروں کے لیے کلک کریں
میڈیا رپورٹس کے مطابق فضائی حملوں میں زخمی ہونے کے بعد سے وہ عوامی منظرنامے سے غائب ہیں، جس سے ان کی حتمی حیثیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
پاسداران انقلاب کا بڑھتا اثر و رسوخ
ایرانی نظام میں پاسداران انقلاب کا کردار اب پہلے سے کہیں زیادہ مرکزی ہو چکا ہے۔ ادارے کا تنظیمی ڈھانچہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ قیادت کے جاں بحق ہونے کے باوجود ہر یونٹ خود مختار رہ کر جنگی حکمت عملی کے تحت کام جاری رکھ سکے۔
اہم عسکری اور سیاسی شخصیات
ایران کی موجودہ قیادت میں پاسداران انقلاب کے کمانڈر احمد وحیدی، القدس فورس کے سربراہ اسماعیل قاآنی اور رائل نیوی (بحریہ) کے کمانڈر علی رضا تنکسیری شامل ہیں۔
یہ وہ افراد ہیں جو تہران کے دفاع اور خطے میں عسکری پالیسیوں کے اہم ترین ستونوں کے طور پر کام کر رہے ہیں۔
پارلیمنٹ اور عدلیہ کا کردار
اسی طرح اسپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف کو بھی اس وقت ایران کی سب سے بااثر سیاسی شخصیت مانا جا رہا ہے۔
دوسری جانب عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی ایجی کا سخت گیر موقف نظام کی داخلی پالیسیوں میں نمایاں ہے۔ صدر مسعود پزشکیان بھی منتخب صدر کے طور پر اپنا اثر برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
سفارتی محاذ اور مذاکراتی عمل
وزیر خارجہ عباس عراقچی اور قومی سلامتی کونسل کے سابق سربراہ سعید جلیلی ایران کی سفارتی پالیسی میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔
ان کا تجربہ خاص طور پر مغربی طاقتوں، روس اور چین کے ساتھ تعلقات اور جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات میں انتہائی اہم تصور کیا جاتا ہے۔
نظام کا مستقبل اور چیلنجز
ایران کا سیاسی ڈھانچہ 1979ء کے انقلاب کے بعد سے پیچیدہ اور کثیر الجہتی ہے۔ نظام کی بقا انفرادی شخصیات کے بجائے باہم جڑی ہوئی سرکاری مشینری پر منحصر ہے۔
تاہم نئی قیادت کے سامنے جنگی صورتحال کے دوران ملکی استحکام اور علاقائی تعلقات کو برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج ہے۔
ایران کا موجودہ حکومتی ڈھانچہ شدید دباؤ کے باوجود اپنی اسٹریٹیجک فعالیت برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔
اگرچہ سپریم لیڈر کی تبدیلی اور جنگی نقصانات نے داخلی سطح پر خلا پیدا کیا ہے، لیکن پاسداران انقلاب کی گہری جڑیں اور نئی قیادت کا سخت گیر مزاج یہ ظاہر کرتا ہے کہ تہران اپنے دفاعی اور علاقائی ایجنڈے پر سمجھوتا کرنے کے بجائے مزید جارحانہ حکمت عملی اپنا سکتا ہے۔