سعودی عرب کے شہر ینبع سے ایشیا کے لیے خام تیل کی ترسیل کے کرایوں میں حالیہ ہفتوں کے دوران نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
مزید پڑھیں
بحیرہ احمر کی اس اہم بندرگاہ پر تیل بردار بحری جہازوں کی بڑی تعداد میں آمد سے مال برداری کے اخراجات کم ہوئے ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر مشترکہ حملوں کے بعد کی صورت حال کے باعث آبنائے ہرمز تقریباً مکمل طور پر بند ہو چکی ہے اور اس ہنگامی صورتحال میں سعودی عرب نے اپنی تیل برآمدات کے تسلسل کے لیے بحیرہ احمر کو مرکز بنایا ہے۔
بحران کے ابتدائی ہفتوں میں تیل کی فوری ضرورت اور ٹینکرز کی کمی کی وجہ سے کرایوں میں شدید اضافہ ہوا تھا، تاہم اب ینبع میں ٹینکرز کے بڑے بیڑے کی موجودگی کے باعث قیمتوں میں استحکام اور بتدریج کمی کا واضح رجحان دیکھا جا رہا ہے۔
ایران، امریکہ جنگ: تازہ خبروں کے لیے کلک کریں
شپنگ بروکرز کے مطابق 2011ء میں بنے ہوئے بڑے خام تیل بردار جہاز ’سی لیوپارڈ‘ کو منگل کے روز جنوبی کوریا کے لیے 190 ورلڈ اسکیل پر بک کیا گیا ہے۔ یہ قیمت گزشتہ 2 ہفتوں کے مقابلے میں اب کافی کم سطح پر آ گئی ہے۔
تقریباً 2 ہفتے قبل یہی کرایہ 450 ورلڈ اسکیل سے تجاوز کر گیا تھا، جو یومیہ ساڑھے 4 لاکھ ڈالر کے برابر بنتا تھا۔ گزشتہ ہفتے یہ شرح 300 ورلڈ اسکیل تک گری اور اب مزید کمی کے بعد 190 ورلڈ اسکیل تک پہنچ گئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ہفتے ینبع سے تیل کی برآمدات 4.19 ملین بیرل یومیہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھیں۔
اہم بات یہ ہے کہ ینبع بندرگاہ نے سعودی عرب کو آبنائے ہرمز سے بھیجے جانے والے آدھے سے زیادہ جہازوں کی بحالی میں مدد فراہم کی ہے اور اس وقت ینبع کی بندرگاہ پر تقریباً 40 تیل بردار بحری جہاز اپنی باری کے منتظر ہیں۔
واضح رہے کہ اس بندرگاہ کے پاس بیک وقت صرف 4 بڑے ٹینکرز کو لنگر انداز کرنے اور ان میں تیل بھرنے کی گنجائش موجود ہے۔
خلیج عرب سے ایشیا کے روایتی راستوں کے بجائے اب بحیرہ احمر کا نیا راستہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ جہازوں کے مالکان کو اب بدلتی ہوئی قیمتوں اور نئے سمندری راستوں کے مطابق اپنی تجارتی حکمت عملی ازسرنو ترتیب دینی پڑ رہی ہے۔
رواں ماہ 17 مارچ 2026 تک ینبع سے برآمدات 3.5 ملین بیرل یومیہ سے زائد رہی تھیں، تاہم حالیہ دنوں میں اس میں معمولی کمی آئی ہے۔
ماہرین کے مطابق ٹینکرز کی مسلسل آمد سے ترسیلی اخراجات میں مزید استحکام آنے کی توقع ہے۔