اہم خبریں
17 April, 2026
--:--:--

آبنائے ہرمز کی بندش سے قحط زدہ ممالک میں بحران مزید شدید

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
سوڈان، افغانستان، یمن اور صومالیہ میں قحط مزید سنگین ہوگا (فوٹو: العربیہ)

اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے پراجیکٹ سروسز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کورکھی موريرا دا سلوا نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش ان ممالک کی صورتحال کو مزید بگاڑ دے گی جو پہلے ہی قحط کا شکار ہیں، جن میں سوڈان، جنوبی سوڈان، افغانستان، یمن اور صومالیہ شامل ہیں۔

مزید پڑھیں

العربیہ کے مطابق انہوں نے زور دیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے اثرات متاثرہ ممالک کی سرحدوں سے کہیں زیادہ وسیع ہیں اور آبنائے ہرمز کی بندش کے سب سے سنگین نتائج ایشیا اور افریقہ کے ترقی پذیر ممالک کو بھگتنا پڑیں گے۔

اقوامِ متحدہ کے پریس آفس کے مطابق دا سلوا نے کہا:

’آبنائے ہرمز میں خلل توانائی کی فراہمی کو خطرے میں ڈالتا ہے، جس

 کے باعث کھاد کی منڈی متاثر ہوتی ہے اور ان ممالک میں غذائی تحفظ کو خطرہ لاحق ہوتا ہے جہاں بھوک اور غذائی عدم تحفظ کی شرح سب سے زیادہ ہے، جن میں سوڈان، جنوبی سوڈان، افغانستان، یمن اور صومالیہ شامل ہیں‘۔

دا سلوا نے یہ بھی پیشگوئی کی کہ ایک سال کے اندر دنیا بھر میں بھوک کا شکار افراد کی تعداد میں کروڑوں کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ 

انہوں نے مزید کہا کہ خلیجی جنگ میں شدت مالی ترسیلات کی روانی کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے، خاص طور پر جنوبی ایشیا کی جانب۔