اہم خبریں
17 April, 2026
--:--:--
براہ راست نشریات

ایران کی جوہری پروگرام سے دستبرداری اور امریکا سے صلح کا امکان؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
(فوٹو: انٹرنیٹ)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے ساتھ 15 نکاتی معاہدے پر بات چیت جاری ہے۔

مزید پڑھیں

عالمی میڈیا کے مطابق ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ ایران نے جوہری ہتھیار نہ بنانے اور یورینیم کے ذخائر تلف کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے، جس کے بدلے میں واشنگٹن نے ایرانی تنصیبات پر حملے مؤخر کیے ہیں۔

مذاکرات اور ڈیڈ لائن کا تناظر

ٹرمپ نے بتایا کہ ان کے نمائندے اسٹیو وٹکوف اور داماد جیریڈ کشنر نے ایرانی حکام سے طویل بات چیت کی ہے۔ 

اس رابطے میں امریکا نے ایران کو 5 دن کی مہلت دی ہے، جس کا مقصد کشیدگی کا خاتمہ اور مستقل معاہدے تک پہنچنا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ مذاکرات ناکام ہونے پر فوجی کارروائی کا آپشن دوبارہ استعمال ہوگا۔

معاہدے کی اہم شرائط

مجوزہ معاہدے میں ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے جوہری مواد کو ملک سے باہر منتقل کرے اور میزائلوں کے ذخیرے کو محدود کرے۔

ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے ان نکات پر تقریباً اتفاق کر لیا ہے۔ انہوں نے اسے خطے میں دیرپا امن کے لیے ایک عظیم شروعات قرار دیا ہے۔

ایرانی قیادت اور اندرونی صورتحال

ٹرمپ نے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے حوالے سے کہا کہ وہ ان کی زندگی کو خطرے میں نہیں دیکھنا چاہتے۔

امریکی صدر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران میں اقتدار کی تبدیلی کا عمل جاری ہے، جس کے لیے وہ کسی ایسے رہنما کی تلاش میں ہیں جو عالمی سطح پر قابلِ قبول ہو سکے۔

عالمی سفارت کاری اور اسرائیلی موقف

میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ مذاکرات میں ترکی، مصر اور پاکستان کے حکام بطور ثالث اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

ٹرمپ نے تصدیق کی کہ انہوں نے اسرائیل کو مذاکرات کے نتائج سے آگاہ کر دیا ہے اور ان کا ماننا ہے کہ اسرائیل اس مجوزہ معاہدے سے مطمئن ہوگا۔

اُدھر ایرانی وزارت خارجہ نے براہ راست رابطوں کی تردید کی ہے۔

مستقبل کا منظر نامہ

اگرچہ تہران نے باضابطہ طور پر رابطوں سے انکار کیا ہے، تاہم ٹرمپ کا اصرار ہے کہ ایران معاہدے کے لیے بے تاب ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ 5 روزہ مذاکراتی عمل خطے کی سیکیورٹی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے مستقبل کا فیصلہ کرے گا۔ فی الحال دنیا کی نظریں ان خفیہ کوششوں کے حتمی نتائج پر مرکوز ہیں۔