امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کا چوتھا ہفتہ جاری ہے، جس کے بعد عالمی سطح پر یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ تہران کا اہم اتحادی چین اس تنازع میں عملی مداخلت کیوں نہیں کر رہا۔
ماہرین کے مطابق بیجنگ کا ردعمل اس کی روایتی خارجہ پالیسی کے عین مطابق ہے، جس میں وہ کسی بھی ملک کے ساتھ براہ راست عسکری اتحاد یا بلاک کی سیاست سے گریز کرتا ہے۔
چین کی ترجیح داخلی معاشی استحکام اور امریکہ کے ساتھ تعلقات میں توازن برقرار رکھنا ہے۔
اگرچہ جنگ سے قبل اطلاعات تھیں کہ چین نے ایران کو کچھ دفاعی آلات (ڈرون ٹیکنالوجی اور نگرانی کے ہتھیار) فراہم کیے ہیں۔
تاہم جنگ کے آغاز اور ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو نشانہ بنائے جانے کے بعد بیجنگ کا رویہ انتہائی محتاط اور سفارتی حد تک محدود رہا ہے۔
چین نے اس حملے کی مذمت ضرور کی ہے، لیکن کسی قسم کی مادی یا عسکری مدد فراہم کرنے سے مکمل گریز کیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق چین ایران کی معیشت کے لیے لائف لائن کی حیثیت رکھتا ہے، جہاں گزشتہ برس ایران کی کل برآمدات کا 80 فیصد حصہ چین نے خریدا، جو چین کی کل سمندری تیل درآمدات کا 13.5 فیصد بنتا ہے۔
اس طرح دونوں ممالک کے درمیان سالانہ تجارت 32 ارب ڈالر سے زائد ہے۔
تاہم چین کے لیے خلیجی ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات کہیں زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔
سال 2024 میں چین اور خلیج تعاون کونسل کے ممالک کے درمیان تجارت کا حجم 257 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جو ایران کے ساتھ ہونے والی تجارت سے کئی گنا زیادہ ہے۔
چین کی توانائی کی ضروریات کا ایک بڑا حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے، اس لیے بیجنگ کی بنیادی دلچسپی جنگ کے خاتمے اور سمندری راستوں کی بحالی میں ہے۔
اس مقصد کے لیے چین نے اپنے پاس 1.1 ارب بیرل تیل کا ذخیرہ بھی کر رکھا ہے۔
چین کے لیے ایران کا جوہری پروگرام بھی تشویش کا باعث ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیجنگ نہیں چاہتا کہ تہران جوہری ہتھیار حاصل کرے۔
اس لیے وہ ایران پر ہونے والے محدود حملوں کو ایک ایسی سفارتی راہ ہموار کرنے کا ذریعہ سمجھتا ہے جس سے خطے میں دیرپا استحکام آ سکے۔
اس صورت حال میں ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کا کمزور ہونا چین کے حق میں ہے، کیونکہ اس سے تہران کی بیجنگ پر انحصار کرنے کی مجبوری بڑھ جاتی ہے۔
چین کی حکمت عملی میں براہ راست عسکری مداخلت صرف اپنے قریبی پڑوسیوں کے لیے مخصوص ہے، جیسا کہ پاکستان اور بھارت کے تنازع میں دیکھا گیا ہے۔
مختصراً یہ کہ چین اپنی عالمی ساکھ کو داؤ پر لگا کر ایران کو بچانے کے لیے کسی بڑی جنگ کا حصہ نہیں بنے گا۔
بیجنگ کی نظریں اپریل میں امریکہ کے ساتھ ہونے والی ممکنہ سربراہی کانفرنس پر ہیں، جس کے لیے وہ واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی قسم کے تصادم سے بچنا چاہتا ہے۔