اہم خبریں
17 April, 2026
--:--:--
براہ راست نشریات

آبنائے ہرمز بند نہیں، ایرانی دھمکیوں کے باعث غیر فعال ہے، سینٹکام

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
آبنائے ہرمز میں کھڑے آئل ٹینکرز اور تجارتی جہازوں کا منظر
(فوٹو: رائٹرز)

امریکی سینٹکام نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز بند نہیں ہے بلکہ ایرانی دھمکیوں کے باعث غیر فعال ہے۔

مزید پڑھیں

العربیہ کے مطابق سینٹکام کے ایڈمرل بریڈ کوپر نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز بحری جہازوں کی آمدورفت کے لیے عملاً کھلا ہوا ہے، تاہم ایرانی ڈرون حملوں اور میزائلوں کے مسلسل خطرات کے باعث تجارتی جہاز یہاں سے گزرنے سے گریز کر رہے ہیں۔

انہوں نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ امریکی فوج اور اتحادی ایرانی بحری صلاحیت کمزور کر کے جہاز رانی کے تحفظ کے لیے کوشاں ہیں۔ 

بریڈکوپر کے مطابق اُن کی مہم کے دوران اب تک ایران سے منسلک تقریباً 140 جہازوں کو نقصان پہنچایا گیا ہے یا وہ تباہ ہو چکے ہیں۔

ایران، امریکہ جنگ: تازہ خبروں کے لیے کلک کریں

امریکی کمانڈر کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف جنگ منصوبے کے مطابق یا اس سے بھی تیز رفتار سے جاری ہے اور اسرائیل کے ساتھ مشترکہ کارروائی میں ایرانی میزائل و ڈرون تنصیبات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے تاکہ مستقبل کے خطرات کا خاتمہ کیا جا سکے۔

ایڈمرل کوپر نے الزام لگایا کہ ایران اپنی کمزور ہوتی عسکری طاقت کے باعث مایوسی میں شہری اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے۔ 

strategic satellite view of the strait of hormuz a 2026 03 20 00 09 22 utc

انہوں نے دعویٰ کیا کہ جنگ کے آغاز سے اب تک ایران 300 سے زائد حملے کر چکا ہے، تاہم اب ان حملوں کی شدت اور تعداد میں واضح کمی آئی ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے 48 گھنٹے کی مہلت دی تھی، جس کا وقت گزر چکا ہے۔ 

صدر ٹرمپ نے خبردار کیا  ہے کہ اگر یہ اہم گزرگاہ نہ کھولی گئی تو ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا جائے گا۔

اُدھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز بند نہیں ہے، بلکہ انشورنس کمپنیاں جنگ کے خوف سے جہازوں کو وہاں بھیجنے سے ڈر رہی ہیں۔ 

انہوں نے اس صورتحال کا ذمہ دار ٹرمپ کی جانب سے شروع کی گئی جنگی پالیسیوں کو قرار دیا ہے۔

irani attacks
(فوٹو: انٹرنیٹ)

دریں اثنا ایرانی پاسداران انقلاب اور دیگر حکام کا موقف وزیر خارجہ سے متضاد ہے، جن کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز صرف ان جہازوں کے لیے کھلے گا جو ایران سے اجازت لیں گے۔ 

ایرانی دفاعی کونسل نے بھی دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ گزرگاہ کے استعمال کے لیے تہران سے رابطہ ضروری ہے۔

علاوہ ازیں نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے نے اُمید ظاہر کی ہے کہ عسکری اتحاد آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر فعال کرانے میں کامیاب ہو جائے گا۔ 

اس دوران ایرانی پاسداران انقلاب نے دھمکی دی ہے کہ اگر ان کے بجلی گھروں یا توانائی کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا تو وہ اسرائیل اور امریکی اڈوں کی بجلی کی تنصیبات کو تباہ کر دیں گے۔

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا بھر میں تیل اور گیس کی کل سپلائی کا پانچواں حصہ لے جانے والی اہم ترین گزرگاہ ہے۔ 

حالیہ کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتوں میں شدید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس سے عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں اور اس کے مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔