اہم خبریں
17 April, 2026
--:--:--

گولڈ کی قیمت میں تاریخی کمی، 1983 کے بعد بدترین ہفتہ

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
(فوٹو: انٹرنیٹ)

عالمی منڈی میں گولڈ کی قیمت نے 1983 کے بعد اپنی بدترین ہفتہ وار کارکردگی ریکارڈ کی ہے، جہاں ایران کے ساتھ جنگ نے عالمی تیل کی ترسیل کو متاثر کیا، توانائی کے انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچایا اور طویل المدتی تنازع کے خدشات کو بڑھا دیا۔ 

تاہم گولڈ جو عام طور پر معاشی غیر یقینی صورتحال میں محفوظ سرمایہ سمجھا جاتا ہے، اس کی قیمت میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔

مزید پڑھیں

اس ہفتے گولڈ کی عالمی قیمت میں 11 فیصد کمی ہوئی، جو 1983 کے بعد سب سے بڑی ہفتہ وار گراوٹ ہے جبکہ جنگ کے آغاز سے اب تک یہ 14 فیصد سے زائد گر چکا ہے۔

عام طور پر بحران کے دوران سرمایہ کار سونے کا رخ کرتے ہیں، کیونکہ وہ اسے افراطِ زر، کرنسی کی قدر میں کمی یا معاشی بحران کے خلاف محفوظ سمجھتے ہیں لیکن مشرق وسطیٰ میں تنازع کے باعث توانائی کی

 قیمتوں میں اضافے نے دنیا بھر کے مرکزی بینکوں کو شرح سود سے متعلق اپنی توقعات پر نظرثانی کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

اس صورتحال نے ڈالر کو مضبوط کیا اور سرمایہ کاروں کو اپنی سرمایہ کاریوں پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کیا۔

ٹریڈروں کا خیال ہے کہ فیڈرل ریزرو اس سال شرح سود کو برقرار رکھے گا، جس سے منافع دینے والی سرمایہ کاری جیسے بانڈز کی کشش بڑھے گی اور گولڈ کی کشش کم ہو جائے گی کیونکہ سونا کوئی آمدنی فراہم نہیں کرتا۔

شرح سود کے حوالے سے فیڈرل ریزرو کے فیصلے عالمی منڈیوں کے لیے نہایت اہم ہوتے ہیں۔ فیڈرل ریزرو مسلسل دوسری بار شرح سود کو برقرار رکھ چکا ہے، جبکہ CME FedWatch انڈیکس کے مطابق تاجروں کو اس سال مزید کسی کمی کی توقع نہیں ہے۔