عالمی توانائی ایجنسی نے مارچ 2026 میں تیل کی عالمی سپلائی میں پیدا ہونے والے شدید بحران سے نمٹنے کے لیے ہنگامی تجاویز جاری کر دی ہیں۔
مزید پڑھیں
ان سفارشات کا بنیادی مقصد ایندھن کی کھپت کو فوری طور پر کم کرنا ہے تاکہ عالمی منڈی میں استحکام لایا جا سکے۔
ادارے نے ورک فرام ہوم، کار پولنگ، پبلک ٹرانسپورٹ کی حوصلہ افزائی اور غیر ضروری فضائی سفر سے گریز کا مشورہ دیا ہے
اس کے علاوہ شاہراہوں پر گاڑیوں کی رفتار میں 10 کلومیٹر فی گھنٹہ کمی کی تجویز دی گئی ہے۔
اسی طرح شہری علاقوں میں گاڑیوں کے استعمال کو محدود کرنے اور الیکٹرک گاڑیوں کی جانب منتقلی کو بھی بحران کے حل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
ایران، امریکہ جنگ: کیا ہو رہا ہے؟ باخبر رہنے کے لیے کلک کریں
توانائی بچانے کے لیے گھریلو سطح پر کھانا پکانے کے لیے گیس کے بجائے بجلی کے چولہوں کے استعمال پر زور دیا گیا ہے۔
ادارے نے مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں اور دستیابی کو متوازن رکھنے کے لیے اپنے ہنگامی ذخائر سے ریکارڈ مقدار میں خام تیل جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ اقدامات 28 فروری کو ایران پر ہونے والے امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد پیدا شدہ صورتحال کے تناظر میں کیے گئے ہیں۔
ایران کی جانب سے جوابی کارروائیوں میں خلیجی ممالک کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جس سے عالمی معیشت شدید متاثر ہو رہی ہے۔
واضح رہے کہ ایرانی حملوں میں قطر کا راس لفان گیس کمپلیکس اور ساؤتھ پارس گیس فیلڈ بھی نشانہ بنے ہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کی توانائی تنصیبات کو نشانہ نہ بنائے، تاہم انہوں نے تہران کو متنبہ کیا ہے کہ اگر حملے جاری رہے تو ساؤتھ پارس گیس فیلڈ کو مکمل طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔
دریں اثنا ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ان کے ملک کی توانائی تنصیبات پر دوبارہ حملہ کیا گیا تو تہران کسی بھی قسم کی تحمل کی پالیسی پر عمل نہیں کرے گا اور بھرپور جواب دے گا۔