عالمی شہرت یافتہ سعودی فوٹوگرافر محمد محتسب نے شارجہ میں منعقدہ بین الاقوامی فوٹوگرافی فیسٹیول ’ایکسپوجر‘ میں اپنے منفرد اور متاثر کن فوٹوگرافی شو ’هُنّ الحكاية‘ کے ذریعے نہ صرف فنِ تصویر کشی کے شائقین بلکہ ناقدین کی توجہ بھی اپنی جانب مبذول کرالی۔
سبق ویب سائٹ کے مطابق یہ بین الاقوامی نمائش محض تصویروں کا مجموعہ نہیں بلکہ خواتین کی جد و جہد، شناخت، مادری کردار اور امید کی ایک بصری داستان ہے۔
30 تصویروں میں عورت کا عالمی سفر
محمد محتسب کے اس آزادانہ فوٹوگرافی شو میں 30 تصاویر شامل ہیں، جن میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والی خواتین کی زندگیوں کو موضوع بنایا گیا ہے۔
یہ تصاویر عورت کے روزمرہ معمولات، اس کی محنت، وقار اور معاشرے میں اس کے مرکزی کردار کو نہایت انسانی اور سادہ انداز میں پیش کرتی ہیں۔ نمائش میں دکھائی گئی خواتین مختلف ثقافتی اور جغرافیائی پس منظر رکھتی ہیں، مگر ان سب کو جدوجہد اور امید کا مشترکہ دھاگا جوڑتا ہے۔
عالمی پلیٹ فارم پر سعودی نمائندگی
یہ نمائش شارجہ میں منعقد ہونے والے ایکسپوجر انٹرنیشنل فوٹوگرافی فیسٹیول 2026 کے دوران پیش کی گئی ہے، جو ہر سال دنیا کے بڑے فوٹوگرافی ایونٹس میں شمار ہوتا ہے۔
اس سال فیسٹیول میں دنیا بھر سے تقریباً 400 نمائش کنندگان شریک ہوئے، تاہم محمد محتسب کو ان چند منتخب فنکاروں میں شامل کیا گیا جنہیں آزادانہ فوٹوگرافی نمائش پیش کرنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ یہ انتخاب ان کے فنی معیار اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ وژن کا واضح ثبوت ہے۔
شاہی سرپرستی اور عوامی پذیرائی
اس نمائش کو مزید وقار اُس وقت ملا جب نائب حاکم شارجہ شیخ سلطان بن احمد بن سلطان القاسمی نے یہاں کا دورہ کیا، جو فن اور ثقافت کے لیے شارجہ کی شاہی سرپرستی کو ظاہر کرتا ہے۔
اس نمائش میں فوٹوگرافی سے دلچسپی رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی ہے، جو اس نمائش کے عالمی سطح پر غیر معمولی پذیرائی کا حامل ہونے کا ثبوت ہے۔
عورت: خاندان اور معاشرے بنیاد
’ هُنّ الحكاية‘میں محمد محتسب نے عورت کو محض ایک علامتی کردار کے طور پر نہیں بلکہ معاشرے کی بنیاد کے طور پر پیش کیا ہے۔
یہ تصاویر خاص طور پر ترقی پذیر ممالک میں عورت کے اس کردار کو اجاگر کرتی ہیں جہاں وہ نہ صرف خاندان کو سنبھالتی ہے بلکہ معاشی بقا میں بھی مرد کے شانہ بشانہ کھڑی ہوتی ہے۔
روایت، محنت اور شناخت
محمد محتسب کے مطابق ان کا فوٹوگرافی پراجیکٹ عورت کے اس گہرے کردار کو نمایاں کرتا ہے جو وہ ثقافتی ورثے کی حفاظت میں ادا کرتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بہت سی خواتین اپنے روایتی لباس پر فخر محسوس کرتی ہیں، کیونکہ یہ لباس محض ایک ظاہری شناخت نہیں بلکہ ایک ایسی یادداشت ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتی ہے اور اس ورثے کی محافظ اکثر عورت ہی ہوتی ہے۔
دنیا بھر سے عورت کی محنت کی جھلک
محمد محتسب نے بتایا کہ ان کے کیمرے نے مختلف ممالک میں عورت کی محنت کے کئی رنگ محفوظ کیے ہیں۔
• ویتنام اور انڈونیشیا میں ہاتھ کی بنی اشیا اور روایتی ہنر
• قرغستان، نیپال اور کشمیر میں زراعت اور مویشی بانی
• بھارت اور بنگلادیش میں مشقت طلب پیشے
انہوں نے بتایا کہ یہ خواتین محض مصنوعات نہیں بناتیں بلکہ اپنی محنت سے پورے خاندان کی زندگی تشکیل دیتی ہیں اور ساتھ ہی ایسے ثقافتی ہنر کو زندہ رکھتی ہیں جو معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔
فوٹوگرافی ، ایک دستاویز
محمد محتسب کا فنی سفر فوٹوگرافی کو محض جمالیاتی اظہار کے بجائے انسانی دستاویز کے طور پر استعمال کرنے پر مبنی ہے۔
’ هُنّ الحكاية‘اسی سوچ کا تسلسل ہے، جہاں عورت کو خود اپنی کہانی سنانے کا موقع دیا گیا ہے اور وہ بھی بغیر کسی تصنع یا بغیر کسی مبالغے کے۔
عرب فوٹوگرافی میں ایک اور اعزاز
صرف یہی نہیں بلکہ فیسٹیول کے موقع پر محمد محتسب کی ایک تصویر عرب فوٹوگرافروں کے اتحاد کی مشترکہ نمائش میں بھی شامل کی گئی۔
انہیں ان فوٹوگرافروں میں منتخب کیا گیا ہے جن کی تصاویر عرب فوٹوگرافروں کے اتحاد کی سالانہ کتاب 2026 کا حصہ بنیں گی، جو ان کے فنی مقام کو مزید مستحکم کرتا ہے۔
خراجِ تحسین
’ هُنّ الحكاية‘محض ایک فوٹوگرافی نمائش نہیں بلکہ عورت کے کردار، اس کی محنت اور اس کی خاموش طاقت کو دیا گیا ایک خراجِ تحسین ہے۔
محمد محتسب نے اپنے کیمرے کے ذریعے یہ ثابت کیا ہے کہ جب فن انسانیت سے جڑ جائے تو وہ سرحدوں، زبانوں اور ثقافتوں سے ماورا ہو جاتا ہے اور یہی اس نمائش کی اصل طاقت ہے۔