یہ سوال اب محض سائنسی فکشن نہیں رہا کہ اگر آپ کو محفوظ طریقے سے دماغ میں الیکٹرانک چِپ لگانے کی سہولت ملے جو آپ کی ذہانت بڑھا دے، تو کیا آپ اس پر آمادہ ہوں گے؟
وادیٔ سیلیکون کے کئی ٹیکنالوجی ماہرین اس تصور کو مستقبل کی ایک حقیقت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ان میں ایلون مسک نمایاں ہیں، جنہوں نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی کمپنی نیورالِنک (Neuralink) کی دماغی چِپس کی پیداوار میں اضافہ کریں گے تاکہ انسان مستقبل میں ممکنہ طور پر قابو سے باہر ہو جانے والے سپر ذہین مصنوعی ذہانت کے نظاموں کا مقابلہ کر سکیں۔
سائنسی تحقیق کا عالمی مقابلہ
یہ بحث ایسے وقت میں شدت اختیار کرتی جا رہی ہے جب سائنسی تحقیق کے عالمی مراکز میں طاقت کا مقابلہ ہو رہا ہے۔ 26 نومبر 2025 کو چین کے شینژن انسٹی ٹیوٹ آف ایڈوانسڈ ٹیکنالوجی کے برین ریسرچ سینٹر میں پیش کیے گئے ایک تجزیے کے مطابق تقریباً 60 لاکھ تحقیقی مقالوں کے مطالعے سے یہ بات سامنے آئی کہ چینی سائنسدان امریکی محققین کے ساتھ ہونے والے تقریباً نصف سائنسی تعاون میں قیادت کر رہے ہیں۔
بلومبرگ کے مطابق یہ رجحان عالمی تحقیقی ایجنڈا طے کرنے میں بیجنگ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی عکاسی کرتا ہے۔

ذہانت کا نیا تصور
ذہانت میں اضافے کے خواب صرف ایلون مسک تک محدود نہیں۔ ارب پتی الیگزینڈر وانگ، جو میٹا پلیٹ فارمز میں جدید مصنوعی ذہانت کے نظاموں کی تیاری کے پروگرام کی قیادت کرتے ہیں، اس قدر پُرعزم ہیں کہ وہ بچوں کی پیدائش تک مؤخر کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
ان کا خیال ہے کہ مستقبل میں نیورالِنک یا اس جیسی کوئی ٹیکنالوجی بچوں کے نشوونما پاتے دماغ کی لچک سے فائدہ اٹھا کر ان کی ذہانت میں اضافہ کر سکے گی۔ اسی طرح ایک سرمایہ کار کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کا اصل فائدہ اسی وقت سامنے آئے گا جب اسے براہِ راست انسانی دماغ سے جوڑا جا سکے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ خود نیورالِنک کے اندر سے بھی محتاط آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ کمپنی کے چیف سرجن میتھیو میکڈوگل نے اینڈریو ہبرمین کے پوڈکاسٹ میں کہا کہ اعصابی لچک (Neuroplasticity) کی تحقیق کے لیے ایل ایس ڈی اور سیلوسائبن جیسے کیمیائی عوامل، برقی الیکٹروڈز پر مبنی دماغی چِپس کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وسیع پیمانے پر دماغی اہداف حاصل کرنا موجودہ یا متوقع الیکٹروڈ ٹیکنالوجی سے ممکن نہیں۔
بچوں کے دماغ اور اخلاقی مسئلہ
میکڈوگل کے اس بیان سے ایک اور اہم نکتہ سامنے آتا ہے، یعنی اخلاقی مسئلہ۔ ایسے بچوں کے دماغ کو ’بہتر‘بنانا جو مستقل طور پر رضامندی دینے کے قابل نہیں، ایک سنگین اخلاقی سوال ہے۔ اس کے ساتھ یہ خدشہ بھی موجود ہے کہ الیگزینڈر وانگ جیسے افراد شاید ایسے امکانات کی بنیاد پر فیصلے کر رہے ہوں جو عملی طور پر توقعات پر پورا نہ اتر سکیں۔
دوسری جانب ایکسپرٹس کا کہنا ہے کہ ذہانت میں اضافے کے یہ تصورات مکمل طور پر خیالی بھی نہیں۔ مارکیٹ ریسرچ فرم پِچ بُک (PitchBook) کے مطابق نیورو ٹیکنالوجی میں عالمی وینچر کیپٹل سرمایہ کاری 2025 میں بڑھ کر 2.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے ، جو ایک دہائی قبل صرف 293 ملین ڈالر تھی۔
واضح رہے کہ یہ شعبہ دماغ و کمپیوٹر انٹرفیس اور اعصابی تحریک کے آلات پر مشتمل ہے۔
بڑھتی ہوئی کمپنیاں
میونخ ٹیکنیکل یونیورسٹی کے پروفیسر اور مصنوعی ذہانت و اعصابی اخلاقیات کے ماہر مارسیلو اینکا کے مطابق اس شعبے میں کام کرنے والی کمپنیوں کی تعداد 6 گنا بڑھ چکی ہے جبکہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی نیورو ٹیک میں بھاری سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔
ماضی کی طرح یہ ٹیکنالوجیز بھی ابتدا میں معذور افراد کے علاج کے لیے بنیں، مگر اب آہستہ آہستہ صحت مند افراد کی زندگی بہتر بنانے کی طرف بڑھ رہی ہیں۔
مثالیں
میٹا کا ایک نیورل بینڈ پٹھوں سے برقی سگنلز پڑھ کر آلات کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسی طرح ایپل نے ایسے ایئرپوڈز کے لیے پیٹنٹ حاصل کیا ہے جو دماغی سرگرمی کی نگرانی کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ برائن جانسن کی کمپنی کیرنل (Kernel) نے 50 ہزار ڈالر مالیت کا ایک ہیلمٹ تیار کیا ہے جو دماغی سرگرمی کا تجزیہ کرتا ہے۔
کیا واقعی ذہانت بڑھانا ممکن ہے؟
اگرچہ ایلون مسک اور وانگ کے خیالات غیر معمولی محسوس ہوتے ہیں، مگر اینکا کے مطابق تکنیکی طور پر یہ ممکن ہیں۔ کچھ مطالعات سے ظاہر ہوا ہے کہ غیر جراحی اعصابی تحریک جو عام طور پر ہیڈسیٹ اور الیکٹروڈز کے ذریعے کی جاتی ہے، توجہ اور یادداشت میں معمولی بہتری لا سکتی ہے۔
بارسلونا میں قائم اسٹارٹ اپ اِن برین (INBRAIN) کی سربراہ کارولینا اگیلار، جو پارکنسن اور دیگر بیماریوں کے علاج کے لیے دماغی چِپس تیار کر رہی ہیں، مانتی ہیں کہ مستقبل میں یہ ٹیکنالوجی ذہانت بڑھانے میں بھی مدد دے سکتی ہے، خاص طور پر اگر اسے بڑے لسانی ماڈلز کے ساتھ جوڑا جائے۔
انہوں نے کہا کہ چیٹ جی پی ٹی جیسی ٹیکنالوجیز یادداشت فراہم کرتی ہیں اور یادداشت اعلیٰ ذہانت کی بنیاد ہے، تاہم وہ اس بات پر زور دیتی ہیں کہ ترجیح بیماریوں کے خاتمے کو دی جانی چاہیے نہ کہ صحت مند افراد کی صلاحیتوں میں اضافے کو۔
یہ احتیاط اس لیے بھی ضروری ہے کہ دماغ دنیا کا سب سے بڑا ڈیٹا ذخیرہ ہے۔ اگر دماغی چِپس لگانے والی کمپنیاں اشتہارات سے وابستہ ہوں تو ذہانت میں اضافے کی دوڑ دراصل معلومات نکالنے کی دوڑ بن سکتی ہے۔ اگیلار کے مطابق زیادہ تر برین-کمپیوٹر انٹرفیس کمپنیاں دماغ کے اندر موجود معلومات کو ڈی کوڈ کرنے پر کام کر رہی ہیں، جو ڈیٹا اکانومی کا ایک نیا اور پیچیدہ باب کھول سکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ موجودہ آن لائن اشتہاری نظام صارفین کے رویّوں کی بنیاد پر نفسیاتی خاکے بناتا ہے، مگر دماغی ڈیٹا کی مدد سے براہِ راست نیتوں اور عقائد تک رسائی ممکن ہو سکتی ہے۔ یہ ایک ایسا مرحلہ ہو گا جہاں انسانی پرائیویسی تقریباً ختم ہو سکتی ہے۔
خود مختاری اور انسانی آزادی کا سوال
اگر یہ ڈیٹا عام استعمال کے آلات کے ذریعے پڑھا جانے لگا تو انسانی خود مختاری بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ اگرچہ اِن برین جیسی کمپنیاں اس وقت گہرے دماغی تحریکی طریقوں کو صرف پارکنسن کے علاج تک محدود رکھے ہوئے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ دوسری کمپنیاں انہی صلاحیتوں کو انتہائی ہدفی مارکیٹنگ اور انسانی نیتوں پر اثر انداز ہونے کے لیے کیوں استعمال نہ کریں گی؟
تکنیکی طور پر انسانی اور مصنوعی ذہانت کے امتزاج پر مبنی ہائبرڈ ذہانت ممکن ہے، مگر اصل سوال یہ ہے کہ اس سے فائدہ کس کو ہو گا۔ یہ اس بات پر منحصر ہے کہ انٹرفیس کو کنٹرول کرنے والی بڑی کمپنیاں اسے مفادِ عامہ کے لیے استعمال کرتی ہیں یا محض استحصال کے لیے۔
ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اعصابی ٹیکنالوجی کا طبی استعمال خاص طور پر شدید ضرورت مند افراد کے لیے سست نہیں کیا جانا چاہیے، تاہم صحت مند بالغ افراد جو محض مسابقتی برتری چاہتے ہیں اور خاص طور پر وہ بچے جو رضامندی نہیں دے سکتے، ان کے لیے شواہد یہی بتاتے ہیں کہ یہ ایک نقصان دہ فیصلہ ہو سکتا ہے، جس سے فی الحال گریز ہی بہتر ہے۔