براہ راست نشریات

مائی وے یا ہائی وے: لانگ مارچ، گورنر راج اور بڑھتی سیاسی کشیدگی

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
100% LikesVS
0% Dislikes
PTI Long March
Picture of محمد مبشر انوار

محمد مبشر انوار

سینئر تجزیہ نگار

تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے التوا کے بعد بھی سیاسی کشیدگی میں کمی کے آثار نظر نہیں آ رہے۔
ایک طرف مذاکرات کی بات کی جا رہی ہے تو دوسری جانب وفاقی وزراء کے سخت بیانات، خیبرپختونخوا حکومت پر امن و امان میں ناکامی کے الزامات اور گورنر راج کے امکانات زیر بحث ہیں۔
مضمون میں سہیل آفریدی کی ممکنہ نااہلی، عدم اعتماد، عدالتی راستوں اور وفاق و صوبے کے درمیان بڑھتی محاذ آرائی کا جائزہ لیا گیا ہے۔

تحریک انصاف کا 27 ستمبر کا اعلان کردہ لانگ مارچ 4 اکتوبر تک مؤخر ہو چکا ہے اور امید تھی کہ معاملات کسی بہتری کی جانب جائیں گے مگر اطلاعات کے مطابق ایسی کوئی خوش آئند بات دکھائی نہیں دے رہی بلکہ پس پردہ معاملات مزید گھمبیر ہو رہے ہیں۔ 

وفاقی وزراء کا لہجہ مسلسل تلخ ہو رہا ہے تو کہیں نحیف سی آواز مذاکرات کی بھی سنائی دے جاتی ہے کہ معاملات کو مذاکرات کے ذریعہ حل کیا جانا چاہئے لیکن عملاً اس پر کوئی پیش رفت دکھائی نہیں دیتی۔

📅 لانگ مارچ کیوں مؤخر ہوا؟

تحریک انصاف کی جانب سے مؤقف یہ سامنے آیا کہ لانگ مارچ مؤخر کرکے حکومت کو مذاکرات کے ذریعے معاملہ حل کرنے کا موقع دیا جائے۔

کالم میں یہ رائے بھی دی گئی ہے کہ وفاقی حکومت کی تیاریوں سے سخت کارروائی کا امکان ظاہر ہو رہا تھا، اس لیے التوا ایک سیاسی داؤ بھی تھا۔

اس فیصلے سے کارکنان کو فوری تصادم سے بچانے اور حکومتی انتظامات کو طویل کرنے کا فائدہ تحریک انصاف کو حاصل ہوا، ایسا مصنف کا تجزیہ ہے۔

تحریک انصاف کی جانب سے لانگ مارچ مؤخر کرنے کی وجہ یہی بتائی گئی تھی کہ وہ معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا ایک موقع حکومت کو دینا چاہتے ہیں لیکن درحقیقت جو انتظامات حکومت کی جانب سے کئے گئے تھے، ان سے واضح تھا کہ اگر لانگ مارچ طے کردہ وقت کے مطابق اسلام آباد آتا ہے تو حکومت اس سے انتہائی سختی سے نپٹے گی، جس میں شہریوں کے ساتھ ساتھ تحریک انصاف کی قیادت کو بھی جانی و مالی نقصان تو ہوتا جبکہ یہ بھی توقع تھی کہ فوری طور پر صوبائی حکومت کا تیا پانچہ بھی ہو جاتا، لہذا تحریک انصاف نے ایک اچھا سیاسی داؤ کھیلا۔

مزید پڑھیں

اس سیاسی داؤ سے کارکنان کی جان و مال کو وقتی طور پر تحفظ یقینی بنایا گیا، وفاقی حکومت کو ایک سرپرائز بھی دیا، جو انتظامات وفاقی حکومت نے کر رکھے تھے، ان کو برقرار رکھنے کے لئے وفاقی حکومت کو اچھا خاصہ مالی نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے جبکہ تحریک انصاف کے حوالے سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے غبارے سے ہوا نکل گئی ہے۔

لانگ مارچ کا فیصلہ بھی درحقیقت خیبر پختونخواہ کے وزیر اعلی سہیل آفریدی کا ہے جبکہ عمران خان کی جانب سے سٹریٹ موومنٹ کرنے کی ہدایات دی گئی تھی لیکن نجانے کیوں سہیل آفریدی سٹریٹ موومنٹ کی بجائے لانگ مارچ پر تلے ہیں؟ 

بہرحال اس لانگ مارچ کے دوبارہ شروع ہونے میں بھی زیادہ وقت باقی نہیں رہا اور اگلے چند دن میں توقع یہی ہے کہ سہیل آفریدی اس لانگ مارچ کو لے کر نکلیں گے بشرطیکہ وہ اپنی نشست پر برقرار رہے، اس حوالے سے اپنی گذشتہ تحریر میں تفصیل کے ساتھ بتا چکا ہوں کہ وہ کون سے 3 ممکنہ حل وفاقی حکومت کے پاس موجود ہیں، جن سے سہیل آفریدی سے جان چھڑائی جا سکتی ہے، یعنی گورنر راج کا امکان، عدالتوں سے ان مقدمات میں سہیل آفریدی کی نااہلی جن میں ان کو اب نامزد کیا جا چکا ہے، یا پھر عدم اعتماد یا وفاقی آئینی عدالت میں شیر افضل مروت کی دائر کی گئی رٹ، جس میں سہیل آفریدی کا نامزدگی بطور وزیر اعلی ایک سزا یافتہ قیدی کی مرہون منت قرار دے کر، اسے کالعدم قرار دیا جائے۔

⏳ 4 اکتوبر کیوں اہم ہے؟

لانگ مارچ کی نئی تاریخ 4 اکتوبر بتائی گئی ہے، اس لیے اگلے چند دن سیاسی طور پر اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔

کالم کے مطابق اگر لانگ مارچ دوبارہ شروع ہوتا ہے تو وفاق اور خیبرپختونخوا حکومت کے درمیان محاذ آرائی مزید واضح ہوسکتی ہے۔

اگر مارچ دوبارہ مؤخر یا تبدیل ہوتا ہے تو تحریک انصاف کی اگلی حکمت عملی اور مذاکرات کی سمت زیادہ اہم ہو جائے گی۔

جہاں تک بات ہے سہیل آفریدی کی نااہلی بذریعہ عدالت، وہ ہم سب جانتے ہیں کہ اس وقت عدالتوں کا رویہ تحریک انصاف کی جانب کیسا ہے اور کس طرح تحریک انصاف کے کارکنان و قائدین کے خلاف عدالتیں بروئے کار آ رہی ہیں، 9 مئی کے مقدمات میں نامزد کردہ وہ ملزمان، جنہوں نے پریس کانفرنسز کر کے اپنی وابستگی تحریک انصاف سے الگ کر لی، وہ تمام دودھ کے دھلے ہو گئے اور جن کی وابستگی آج بھی تحریک انصاف کے ساتھ ہے، وہ ہنوز اسیری کی زندگی گذار رہے ہیں، تو سہیل آفریدی کیسے ان سے الگ ہو سکتے ہیں؟

اگر سہیل آفریدی لانگ مارچ اور احتجاج پر مصر رہے تو ممکنہ طور پر عدالتی کارروائی کے نتیجہ میں انہیں نااہل قرار دے کر، ان سے جان چھڑوائی جا سکتی ہے۔ 

بالفرض، جس کا امکان انتہائی کم بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے، سہیل آفریدی کو مقدمات میں سزا نہیں دی جاتی تو دوسری صورت شیر افضل مروت کی رٹ پٹیشن کے نتیجہ میں سامنے آ سکتی ہے لیکن دونوں صورتوں میں ان کی نااہلی عدالتوں سے ہی ہو گی البتہ مقدمہ کی نوعیت مختلف ہو سکتی ہے۔

👤 سہیل آفریدی کا کردار

کالم میں لانگ مارچ کے فیصلے کو خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی سے جوڑا گیا ہے۔

مصنف کے مطابق عمران خان کی ہدایت سٹریٹ موومنٹ سے متعلق تھی، جبکہ سہیل آفریدی لانگ مارچ پر اصرار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

اسی لیے ان کی سیاسی اور قانونی پوزیشن کو آنے والے مرحلے میں مرکزی اہمیت دی گئی ہے۔

گورنر راج کے
امکان کو موجودہ
سیاسی کشمکش کا
اہم پہلو قرار
دیا گیا ہے

رہی بات عدم اعتماد ووٹ کی، تو اس حوالے سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اس کا امکان انتہائی کم ہے لیکن اگر ایسی کوئی تحریک صوبائی اسمبلی میں آتی بھی ہے تو تب بھی تحریک انصاف کو کوئی فکر اس لئے نہیں کہ بہرحال وزیر اعلی تحریک انصاف کا ہی ہو گا البتہ وزیر اعلی کے لئے مشکل یہ ہو گی کہ وہ کوئی کھیل کھیلنے کے قابل ہو گا بھی یا نہیں، کیا وہ مقتدرہ کی خواہشات کے مطابق چلے گا یا وزارت اعلی کا تاج پہنانے والے تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی اس سے اسی طرح کا جارحانہ رویہ روا رکھنے کی توقع کریں گے یا اس کو یہ رویہ اختیار کرنے پر مجبور کریں گے؟
اس صورت میں اس ساری مشق کا کیا فائدہ ہو گا؟
اب سب سے اہم معاملہ، جس کے لئے مسلسل راہ ہموار کی جا رہی ہے یعنی گورنر راج کی، گورنر کے پی مسلسل اپنے بیانات میں اس امر کا اظہار کر رہے ہیں کہ اگر صدر و وزیر اعظم گورنر راج کا اعلان کرتے ہیں تو وہ صوبے کی قیادت سنبھال لیں گے تو دوسری طرف وہ خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی بھی مار رہے ہیں کہ تحریک انصاف کی لانگ مارچ کے حوالے سے کوئی تیاری ہی نہیں مزید یہ کہ تحریک انصاف 4 اکتوبر کو بھی لانگ مارچ کرنے کے قابل نہیں ہے، تو اس صورت میں گورنر راج لگانے کی کیا ضرورت ہے؟

⚖️ تین ممکنہ سیاسی و قانونی راستے

کالم میں سہیل آفریدی کی حکومت یا منصب کے حوالے سے تین بڑے امکانات زیر بحث لائے گئے ہیں۔

ان میں گورنر راج، عدالتی کارروائی کے نتیجے میں نااہلی، اور صوبائی اسمبلی میں عدم اعتماد شامل ہیں۔

ساتھ ہی شیر افضل مروت کی رٹ پٹیشن کو بھی ایک ممکنہ عدالتی راستے کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔

البتہ اس حوالے سے وفاقی وزراء بالخصوص وزیر اطلاعات اور وزیر مملکت برائے داخلہ کی جانب سے صوبائی حکومت اور تحریک انصاف کے خلاف تابڑ توڑ زہر اگلا جا رہا ہے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ صوبائی حکومت امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے میں بالعموم اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائی بالخصوص کرنے میں ناکام ہے۔

وزیر اطلاعات اس حوالے سے تمام حدیں پھلانگتے ہوئے، شاہ سے زیادہ شاہ کی وفاداری کرتے دکھائی دیتے ہیں اور انہوں نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ درحقیقت وہ برسوں سے یہ کہہ رہے ہیں کہ تحریک انصاف دراصل طالبان پاکستان کی بی ٹیم ہے جبکہ حقائق کچھ اور بتاتے ہیں جس کو تحریک انصاف کے رہنما شوکت یوسفزئی نے ایک ٹاک شو میں دہراتے ہوئے کہا ہے کہ اعداد و شمار کے مطابق عمران خان کے دور میں دہشت گردی میں خاطر خواہ کمی ہوئی تھی جبکہ پی ڈی ایم کی حکومت میں اس کا گراف بہت بڑھ چکا ہے، جس کی تصدیق ایک عالمی ادارے کے اعداد و شمار سے بھی ہو رہی ہے کہ پاکستان دہشت گردی سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں پہلے نمبر پر آ چکا ہے۔

🏛️ عدالتی نااہلی کا امکان

مصنف نے موجودہ سیاسی مقدمات کے تناظر میں یہ امکان ظاہر کیا ہے کہ سہیل آفریدی کے خلاف عدالتی کارروائی سیاسی منظرنامے کو بدل سکتی ہے۔

کالم میں نو مئی کے مقدمات اور مختلف سیاسی رہنماؤں کے ساتھ ہونے والے سلوک کا حوالہ دے کر عدالتی راستے پر سوال اٹھایا گیا ہے۔

یہ حصہ مصنف کا تجزیہ اور سیاسی موقف ہے، حتمی عدالتی نتیجہ نہیں۔

شوکت یوسفزئی نے یہ بھی کہا کہ سرحدوں کی حفاظت تو سیکورٹی فورسز کے اداروں کے پاس ہے اور جیسے کہا جاتا ہے کہ دہشت گردی میں افغان شہری ملوث ہیں تو سوال تو یہ ہے کہ افغان شہری کس طرح پاکستان کی سرحد عبور کرتے ہیں؟ 

کیا یہ سیکورٹی فورسز کی ناکامی نہیں کہ وہ اپنے فرائض ٹھیک طریقے سے انجام نہیں دے پا رہے اور افغان دہشت گرد، ان کے سرحدوں پر موجود ہونے کے باوجود پاکستان میں کیسے داخل ہو جاتے ہیں؟

علاوہ ازیں کے پی حکومت اور پولیس کی جانب سے یہ اعتراض بھی مسلسل کیا جاتا ہے کہ کے پی پولیس اپنی جانوں پر کھیل کر ان دہشت گردوں کو گرفتار کرتی ہے لیکن سیکورٹی فورسز کے افراد، ان کو اپنے اثاثے بتا کر، ان دہشت گردوں کو چھڑوا کر لے جاتے ہیں، اس پس منظر میں صوبائی قانون نافذ کرنے والے ادارے کیسے اور کیونکر ان دہشت گردوں سے نپٹ سکتے ہیں؟

✒
محمد مبشر انوار
دیگر کالم پڑھنے کے لیے کلک کریں
←

بہرحال وفاقی وزراء کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف دی جانی رقوم کے حوالے سے بھی الزامات لگائے گئے ہیں اور کہا گیا ہے کہ صوبائی حکومت اس رقم سے صوبے میں سی سی ٹی وی کیمرے لگانے کی بجائے، ذاتی جیبیں بھر رہی ہے اور سیکورٹی کے انتظامات نہیں کر رہی، مطلب یہ کہ اس وقت قومی سطح پر اس تاثر کو ابھارنے کی بھرپور کوشش جاری ہے کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف بروئے کار آنے میں بری طرح ناکام ہے لہذا اس دو تہائی اکثریت رکھنے والی حکومت کو برطرف کرنا عین ملکی مفاد میں ہے جبکہ امن و امان کی جو صورتحال دوسرے صوبوں میں ہے، اس پر کسی کو کوئی فکر نہیں خواہ پوری پوری ریل گاڑی اغوا ہو جائے۔

🗳️ عدم اعتماد — کیا بدلے گا؟

کالم میں عدم اعتماد کے امکان کو نسبتاً کم قرار دیا گیا ہے۔

مصنف کے مطابق اگر وزیر اعلیٰ تبدیل بھی ہو جائے تو صوبائی اسمبلی میں تحریک انصاف کی اکثریت کی وجہ سے نیا وزیر اعلیٰ بھی اسی جماعت سے آسکتا ہے۔

اصل سوال پھر بھی یہی رہے گا کہ نئی قیادت وفاق، مقتدرہ اور اپنی جماعت کے دباؤ کے درمیان کس راستے پر چلے گی۔

بہرحال خبریں یہ بھی ہیں کہ لانگ مارچ کے حوالے سے ’حکمران‘ بذریعہ وفاقی حکومت تحریک انصاف سے مذاکرات میں یہ مطالبات کر رہے ہیں کہ لانگ مارچ غیر مشروط طور پر ختم کیا جائے، پولیس ایکٹ میں ترمیم واپس لی جائے، پولیس کو تمام اختیارات واپس دئیے جائیں، ریاستی پالیسی کے ساتھ ہم آہنگی اختیار کی جائے اور ہر پالیسی پر آمنا و صدقنا کہا جائے، جسے بالفاظ دیگر ’مائی وے یا ہائی وے‘ ہی کہا جا سکتا ہے، تحریک انصاف اس پر اتفاق کرتی ہے یا نہیں اس کا اندازہ سہیل آفریدی کے بیان سے لگایا جا سکتا ہے جو ابھی تک لانگ مارچ کے لئے بضد ہیں۔

ادارتی نوٹ
▼
کالم میں اظہار کیے گئے خیالات اور آراء صرف کالم نگار کے ذاتی موقف کی عکاسی کرتے ہیں، جن سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔