تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے التوا کے بعد بھی سیاسی کشیدگی میں کمی کے آثار نظر نہیں آ رہے۔
ایک طرف مذاکرات کی بات کی جا رہی ہے تو دوسری جانب وفاقی وزراء کے سخت بیانات، خیبرپختونخوا حکومت پر امن و امان میں ناکامی کے الزامات اور گورنر راج کے امکانات زیر بحث ہیں۔
مضمون میں سہیل آفریدی کی ممکنہ نااہلی، عدم اعتماد، عدالتی راستوں اور وفاق و صوبے کے درمیان بڑھتی محاذ آرائی کا جائزہ لیا گیا ہے۔
رہی بات عدم اعتماد ووٹ کی، تو اس حوالے سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اس کا امکان انتہائی کم ہے لیکن اگر ایسی کوئی تحریک صوبائی اسمبلی میں آتی بھی ہے تو تب بھی تحریک انصاف کو کوئی فکر اس لئے نہیں کہ بہرحال وزیر اعلی تحریک انصاف کا ہی ہو گا البتہ وزیر اعلی کے لئے مشکل یہ ہو گی کہ وہ کوئی کھیل کھیلنے کے قابل ہو گا بھی یا نہیں، کیا وہ مقتدرہ کی خواہشات کے مطابق چلے گا یا وزارت اعلی کا تاج پہنانے والے تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی اس سے اسی طرح کا جارحانہ رویہ روا رکھنے کی توقع کریں گے یا اس کو یہ رویہ اختیار کرنے پر مجبور کریں گے؟
اس صورت میں اس ساری مشق کا کیا فائدہ ہو گا؟
اب سب سے اہم معاملہ، جس کے لئے مسلسل راہ ہموار کی جا رہی ہے یعنی گورنر راج کی، گورنر کے پی مسلسل اپنے بیانات میں اس امر کا اظہار کر رہے ہیں کہ اگر صدر و وزیر اعظم گورنر راج کا اعلان کرتے ہیں تو وہ صوبے کی قیادت سنبھال لیں گے تو دوسری طرف وہ خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی بھی مار رہے ہیں کہ تحریک انصاف کی لانگ مارچ کے حوالے سے کوئی تیاری ہی نہیں مزید یہ کہ تحریک انصاف 4 اکتوبر کو بھی لانگ مارچ کرنے کے قابل نہیں ہے، تو اس صورت میں گورنر راج لگانے کی کیا ضرورت ہے؟