براہ راست نشریات

دانش بروئے کار یا نئی حکمتِ عملی؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
PTI Long March
Picture of محمد مبشر انوار

محمد مبشر انوار

سینئر تجزیہ نگار

تحریکِ انصاف کی جانب سے 27 ستمبر کا مجوزہ لانگ مارچ مؤخر کئے جانے کے بعد ملک ایک بڑے سیاسی تصادم سے وقتی طور پر بچ گیا ہے۔
سہیل آفریدی نے فیصلے کو شہریوں کی جان و مال، وفاقی رویے اور زمینی حالات سے جوڑا، جبکہ حکومتی اقدامات اور سخت بیانات نے کئی نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
اب اصل توجہ اس بات پر ہے کہ عمران خان کی طبی سہولیات، مقدمات کی سماعت اور ملاقاتوں سے متعلق مطالبات میں کوئی عملی پیش رفت ہوتی ہے یا نہیں۔

ملکی صورتحال بظاہر فی الوقت ایک بڑے بحران سے بچ گئی ہے۔ 

تحریکِ انصاف نے اپنے مجوزہ 27 ستمبر کے لانگ مارچ کو مؤخر کر دیا ہے اور لانگ مارچ کے روحِ رواں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے اس فیصلے کی وجوہات بیان کی ہیں۔

سہیل آفریدی کی جانب سے کی گئی گفتگو میں سب سے اہم نکتہ خیبرپختونخوا کو باقی پاکستان سے الگ تھلگ کرنے کی مبینہ کوششوں سے متعلق تھا۔ 

انہوں نے اٹک پل پر بچھائی گئی لمبی کیلوں کی ویڈیو دکھاتے ہوئے کئی سوالات اٹھائے اور ساتھ ہی واضح کیا کہ خیبرپختونخوا کے ساتھ اس قسم کا رویہ اختیار کرکے وفاق ہمیں پاکستان سے الگ نہیں کر سکتا۔ 

ہم پاکستان کے اتحاد کو قائم بھی رکھیں گے اور اسے بچائیں گے۔

1′ — ایک منٹ میں پوری کہانی

1. تحریکِ انصاف نے 27 ستمبر کا مجوزہ لانگ مارچ مؤخر کر دیا، جس سے فوری سیاسی تصادم کا خطرہ کم ہوا۔

2. سہیل آفریدی نے فیصلے کو زمینی حالات، راستوں کی بندش اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ سے جوڑا۔

3. اب اصل سوال یہ ہے کہ یہ وقتی پسپائی تھی، پسِ پردہ مفاہمت یا تحریکِ انصاف کی نئی حکمتِ عملی۔

4. آنے والے دنوں میں عمران خان کی طبی سہولیات، مقدمات اور ملاقاتوں سے متعلق پیش رفت اس فیصلے کا اصل پس منظر واضح کر سکتی ہے۔

علاوہ ازیں، سہیل آفریدی نے وزیراعلیٰ پنجاب کے ایک بیان کو خاص طور پر موضوع بنایا۔ 

ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کی وزیراعلیٰ کو بھارت سے خطرہ نہیں لیکن انہیں پاکستان کی دیگر اکائیوں سے خطرہ محسوس ہوتا ہے۔ 

سوال یہ ہے کہ اس رویے سے کیا مفہوم اخذ کیا جائے؟

مزید پڑھیں

بہرحال ایک بات بظاہر سامنے آ رہی ہے کہ لانگ مارچ مؤخر ہونے سے وقتی طور پر ایک بڑے سیاسی تصادم کا خطرہ ٹل گیا ہے، لیکن اس تاخیر سے کیا نتائج اخذ کئے جا سکتے ہیں؟ میری دانست میں اس کے تین بنیادی پہلو ہیں: 

کیا واقعی دانش و حکمت بروئے کار آئی ہے؟ 

کیا واقعی کسی ’مستقل علاج‘ کی راہ نکل سکتی ہے؟ 

اور کیا یہ تحریکِ انصاف کی کسی نئی حکمتِ عملی کا حصہ ہے؟

دانش و حکمت کے حوالے سے دیکھا جائے تو اس کے بروئے کار آنے کا حقیقی ثبوت اسی صورت ملے گا جب اس نوعیت کے تصادم آمیز احتجاج کا امکان مستقل طور پر کم ہو، سیاسی مکالمے کی کوئی صورت نکلے اور 

حکومت و اپوزیشن دونوں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں۔ 

یہ توقع رکھنا شاید حقیقت پسندانہ نہیں کہ اپوزیشن باقی ماندہ مدت کے لئے مکمل خاموشی اختیار کرلے، تاہم اگر حالات کو دیکھتے ہوئے ایک قدم پیچھے ہٹایا گیا ہے تو اسے سیاسی کشیدگی کم کرنے کے موقع کے طور پر ضرور استعمال کیا جا سکتا ہے۔

📌 لانگ مارچ مؤخر — فوری نتیجہ کیا نکلا؟

لانگ مارچ مؤخر ہونے سے ایک بڑے ممکنہ سیاسی تصادم کا خطرہ فی الحال ٹل گیا۔

اسلام آباد اور اہم شاہراہوں پر سخت سکیورٹی انتظامات کی وجہ سے کسی بڑے مارچ کی صورت میں تناؤ بڑھنے کا خدشہ موجود تھا۔

اصل فائدہ: حکومت اور اپوزیشن دونوں کو سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کے لیے ایک مختصر مہلت مل گئی۔

حکومت کی جانب سے کئے گئے انتظامات کو دیکھتے ہوئے یہ امکان بہت کم دکھائی دیتا تھا کہ لانگ مارچ کسی تصادم کے بغیر مکمل ہو جاتا۔ اسلام آباد کو جس طرح کنٹینرز سے گھیرنے کی تیاریاں کی گئی تھیں، ان کے حوالے سے مجھے ایک واٹس ایپ پیغام موصول ہوا، جس پر لکھا تھا: ’سمندر کے بغیر دنیا کی واحد بندرگاہ، اسلام آباد‘۔ 

اس پیغام میں وفاقی دارالحکومت کے گرد کھڑے کنٹینرز دکھائے گئے تھے۔

لانگ مارچ کے خدشے کے پیشِ نظر اسلام آباد کے داخلی و خارجی راستوں کو بند کرنے کے وسیع انتظامات کئے گئے تھے اور حالات و واقعات کے مطابق ان پر عمل درآمد کیا جانا تھا۔ شنید یہ بھی رہی کہ اسلام آباد میں 50 سے 55 ہزار کے قریب پولیس اہلکار اکٹھے کئے گئے، جبکہ حکومتی حلقوں کی جانب سے مظاہرین کی تعداد کہیں کم بتائی جا رہی تھی۔

🛣️ راستوں کی بندش خود سیاسی پیغام بن گئی

مضمون کے مطابق اسلام آباد کے داخلی و خارجی راستوں، کنٹینرز اور دیگر رکاوٹوں نے احتجاج سے پہلے ہی شدید سیاسی ماحول پیدا کر دیا تھا۔

تحریکِ انصاف کا مقصد حکومت پر سڑکوں کے احتجاج کے ذریعے دباؤ بڑھانا تھا، مگر وسیع انتظامی بندشوں نے اس دباؤ کی ایک شکل احتجاج شروع ہونے سے پہلے ہی پیدا کر دی۔

یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر مظاہرین کی تعداد واقعی چند ہزار تھی تو انہیں روکنے کے لئے اتنی بڑی نفری کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟ 

عام طور پر نسبتاً محدود احتجاجی مظاہروں کے لئے اس سے کہیں کم نفری کافی سمجھی جاتی ہے۔ 

مزید یہ کہ بعض مقامات پر رکاوٹوں اور سڑکوں پر کیل نما اشیا کی تصاویر بھی سامنے آئیں، جو اپنی نوعیت میں غیر معمولی اقدامات دکھائی دیتے تھے۔

انہی زمینی حقائق کے تناظر میں سہیل آفریدی نے، جہاں توقع کی جا رہی تھی کہ وہ لانگ مارچ کا حتمی لائحہ عمل دیں گے، باہمی مشاورت کے بعد احتجاج مؤخر کرنے کا اعلان کر دیا۔ شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری صرف حکومتِ وقت پر نہیں بلکہ تمام سیاسی جماعتوں پر بھی عائد ہوتی ہے۔ 

اس اعتبار سے تصادم سے گریز کا فیصلہ سیاسی دانش کا اظہار قرار دیا جا سکتا ہے۔

⚠️ اصل خطرہ — احتجاج یا تصادم؟

اصل تشویش صرف احتجاج نہیں بلکہ اس کے ممکنہ تصادم میں بدلنے کی تھی۔

جب سیاسی کارکن، بڑی سکیورٹی نفری، بند راستے اور اشتعال انگیز بیانات ایک ہی وقت میں موجود ہوں تو معمولی واقعہ بھی بڑے بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

اسی لیے: احتجاج مؤخر کرنے کا فیصلہ فوری طور پر کشیدگی کم کرنے والا قدم بن گیا۔

اگر مظاہرین کی
تعداد واقعی
چند ہزار تھی
تو انہیں روکنے
کے لئے اتنی بڑی
نفری کی ضرورت
کیوں محسوس ہوئی؟

تاہم اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات کی جانب سے سامنے آنے والا سخت ردِعمل ماحول کو دوبارہ کشیدہ کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔
جب کوئی سیاسی جماعت احتجاج مؤخر کرکے تصادم سے گریز کا راستہ اختیار کرے تو اسے کمزوری قرار دے کر دوبارہ للکارنے کی بجائے سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کی کوشش زیادہ مناسب ہوتی ہے۔
معاملات سنبھل رہے ہوں تو اشتعال انگیز زبان سے گریز ہی ریاست اور سیاست، دونوں کے مفاد میں ہوتا ہے۔
رہی بات ’مستقل علاج‘ کی تو اس حوالے سے وزیر داخلہ کا بیان زیادہ تر سیاسی لفاظی محسوس ہوتا ہے۔ سیاسی جماعتیں انتظامی اقدامات یا طاقت کے استعمال سے ختم نہیں ہوتیں۔
ہماری سیاسی تاریخ میں اس کی کئی مثالیں موجود ہیں کہ طاقت کے ذریعے سیاسی قوتوں کو دبانے کی کوشش کی گئی، لیکن وقت بدلتے ہی وہ دوبارہ متحرک ہو گئیں۔
جو سیاسی جماعتیں عوام میں غیر مقبول ہوئیں، اس کی بنیادی وجہ عموماً ان کی اپنی کارکردگی، پالیسیاں یا عوام سے دوری رہی ہے، نہ کہ محض ریاستی دباؤ۔
سیاسی قوت کا اصل سرچشمہ بہرحال عوامی حمایت ہوتی ہے۔

🧭 تحریکِ انصاف کے بنیادی مطالبات

مضمون میں تحریکِ انصاف کے تین مرکزی مطالبات نمایاں کئے گئے ہیں:

1. عمران خان کے لیے مناسب طبی سہولیات۔

2. ان کے مقدمات کی سماعت میں پیش رفت اور میرٹ پر کارروائی۔

3. ملاقاتوں سے متعلق پابندیوں اور انتظامات میں بہتری۔

آنے والے دنوں میں انہی نکات پر پیش رفت لانگ مارچ مؤخر کرنے کے فیصلے کی سیاسی اہمیت طے کرے گی۔

جو جماعت عوام کی توقعات پر پوری نہ اترے، اسے بالآخر سیاسی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔
مسئلہ وہاں زیادہ سنگین ہو جاتا ہے جہاں سیاسی جماعتیں جمہوری مقبولیت کے بجائے اقتدار تک پہنچنے کے غیر سیاسی راستوں کو ترجیح دینے لگیں۔
ایسی سیاست میں عوامی مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں اور ذاتی مفادات، سیاسی بقا اور اقتدار کی حفاظت بنیادی ترجیحات بن جاتی ہیں۔

اگر ہماری سیاسی جماعتوں کی حقیقی نشوونما جمہوری اقدار پر ہوئی ہوتی اور اگر ’ووٹ کی عزت‘ جیسے نعروں کو عملی معنی دیے جاتے تو شکست کی صورت میں اقتدار حاصل کرنے کے متبادل راستوں کی تلاش کے بجائے عوام میں واپس جانے، اپنی غلطیوں کا جائزہ لینے اور دوبارہ حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی۔

🧠 دانش بروئے کار آئی یا صرف وقفہ؟

اگر احتجاج مؤخر ہونے کے بعد حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کشیدگی کم ہوتی ہے اور بنیادی مطالبات پر قابلِ ذکر پیش رفت سامنے آتی ہے تو اسے سیاسی دانش کا نتیجہ کہا جا سکتا ہے۔

لیکن اگر چند دن بعد دوبارہ وہی محاذ آرائی شروع ہو جاتی ہے تو یہ فیصلہ مستقل حل کے بجائے صرف وقتی وقفہ ثابت ہوگا۔

اصل ’مستقل علاج‘ بھی یہی ہونا چاہئے کہ ان وجوہ کو دور کیا جائے جن کی وجہ سے پاکستان بار بار سیاسی عدم استحکام، ادارہ جاتی کشمکش اور سڑکوں کی سیاست کا شکار ہوتا ہے۔ 

محض کسی ایک جماعت کو دبانے یا کسی ایک احتجاج کو روک دینے سے سیاسی بحران کا مستقل حل ممکن نہیں۔

جہاں تک تحریکِ انصاف کا تعلق ہے، اس نے اس لانگ مارچ اور ممکنہ سٹریٹ موومنٹ کے لئے خاصی محنت کی۔ 

بالخصوص سہیل آفریدی کی جانب سے کارکنوں کو متحرک کرنے کی کوششیں نمایاں رہیں۔ ایک ایسی جماعت کے کارکنوں کو دوبارہ سڑکوں پر آنے کے لئے تیار کرنا آسان نہیں، خصوصاً جب وہ ماضی میں احتجاجی تحریکوں کے تلخ تجربات سے گزر چکے ہوں۔

🔍 پسِ پردہ مفاہمت؟ کن باتوں پر نظر رہے

مضمون میں امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ آخری وقت تک پسِ پردہ رابطے جاری رہے ہوں۔

اس امکان کو جانچنے کے لیے آنے والے دنوں میں تین چیزیں دیکھی جائیں گی: مقدمات کی سماعت، ملاقاتوں کی صورتحال اور طبی سہولیات۔

اگر ان شعبوں میں واضح تبدیلی آتی ہے تو سیاسی مفاہمت کا امکان زیادہ سنجیدگی سے زیرِ بحث آئے گا۔

تاہم عین آخری مرحلے پر، جب تحریکِ انصاف کے کارکنان اور اس کے حامی کسی مؤثر لائحہ عمل کے منتظر تھے، لانگ مارچ مؤخر کر دینا خود کئی سوالات پیدا کرتا ہے۔ 

کیا یہ محض حالات کے دباؤ میں کیا گیا فیصلہ تھا یا واقعی تحریکِ انصاف کی کسی نئی حکمتِ عملی کا حصہ ہے؟

تحریکِ انصاف کے مجوزہ لانگ مارچ کا بنیادی مقصد حکومت پر دباؤ بڑھانا اور اپنے مطالبات منوانا بتایا جا رہا تھا۔ 

ان مطالبات میں عمران خان کی طبی سہولیات، ان کے مقدمات کی سماعت اور ان سے ملاقاتوں کے معاملات شامل تھے۔

دلچسپ پہلو یہ ہے کہ احتجاج سے پہلے ہی حکومتی انتظامات کے نتیجے میں کئی اہم شاہراہوں اور راستوں پر آمدورفت متاثر ہوئی۔ 

مختلف مقامات پر رکاوٹیں کھڑی کی گئیں، بعض راستے بند کئے گئے اور اسلام آباد کی طرف آمدورفت محدود کرنے کی تیاریاں ہوئیں۔ 

یوں وہ کیفیت، جو ممکنہ طور پر احتجاج کے نتیجے میں پیدا ہونا تھی، کسی حد تک احتجاج سے پہلے ہی پیدا ہو گئی۔

رہی بات تحریکِ انصاف کے مطالبات کی تو طبی سہولیات کے حوالے سے حکومتی موقف بھی سامنے آ چکا ہے۔ 

اب اصل امتحان آنے والے دنوں میں ہوگا۔ 

✒
محمد مبشر انوار
دیگر کالم پڑھنے کے لیے کلک کریں
←

یہ دیکھا جائے گا کہ عمران خان کے مقدمات کی سماعت کس انداز میں آگے بڑھتی ہے، عدالتی کارروائی کس رفتار سے ہوتی ہے، ملاقاتوں کے معاملات میں کیا پیش رفت آتی ہے اور طبی سہولیات سے متعلق عملی صورتحال کیا رہتی ہے۔

اگر آنے والے دنوں میں ان معاملات میں واقعی ایسی پیش رفت سامنے آتی ہے جسے تحریکِ انصاف اپنے بنیادی مطالبات کی جانب پیش رفت قرار دے سکے، تو یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ دونوں جانب کسی نہ کسی سطح پر دانش و حکمت نے کام کیا۔

اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو پھر یہ سوال اپنی جگہ برقرار رہے گا کہ اتنی بڑی سیاسی مشق کے بعد لانگ مارچ اچانک کیوں مؤخر ہوا؟

ممکن ہے پسِ پردہ رابطے بھی جاری رہے ہوں اور آخری وقت میں کوئی مفاہمت یا وقتی سمجھ بوجھ پیدا ہوئی ہو۔ 

یہ بھی ممکن ہے کہ دونوں فریق زمینی صورتحال کو دیکھتے ہوئے تصادم سے پیچھے ہٹے ہوں۔

اصل حقیقت آنے والے چند دنوں میں زیادہ واضح ہوگی۔

فی الوقت اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ 27 ستمبر کا مجوزہ لانگ مارچ مؤخر کرکے فوری تصادم تو ٹال دیا گیا ہے، مگر پاکستان کی سیاست میں اصل سوال اب بھی وہی ہے: 

کیا یہ دانش بروئے کار آنے کا آغاز ہے یا صرف ایک نئی سیاسی حکمتِ عملی؟

ادارتی نوٹ
▼
کالم میں اظہار کیے گئے خیالات اور آراء صرف کالم نگار کے ذاتی موقف کی عکاسی کرتے ہیں، جن سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔