براہ راست نشریات

پاکستان میں بڑھتی سیاسی کشیدگی کے سنگین خدشات

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
PTI Islamabad March
Picture of محمد مبشر انوار

محمد مبشر انوار

سینئر تجزیہ نگار

پاکستان میں 27 ستمبر کے مجوزہ اسلام آباد مارچ سے قبل سیاسی کشیدگی بڑھ گئی ہے۔
حکومت سخت سکیورٹی انتظامات اور عدالتی احکامات کا حوالہ دے رہی ہے، جبکہ تحریک انصاف احتجاج کو اپنا آئینی حق قرار دیتی ہے۔
عمران خان کی بہنوں کی حراست اور بڑھتی پابندیوں نے یہ سوال مزید اہم بنا دیا ہے کہ موجودہ بحران سیاسی مکالمے سے حل ہوگا یا نظام ایک نئے تصادم کی طرف بڑھے گا۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالیں تو شاید ہی کوئی ایسا دور دکھائی دیتا ہے جب ملک طویل مدت تک مکمل سیاسی استحکام سے ہم کنار رہا ہو۔ 

کبھی سیاسی کشمکش، کبھی ادارہ جاتی تناؤ اور کبھی معاشی و انتظامی بحرانوں نے ریاست کو اپنی گرفت میں لیے رکھا۔ 

بدقسمتی سے ان بحرانوں کی ایک بڑی وجہ اقتدار اور اختیار کی وہ رسہ کشی بھی رہی ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ختم ہونے کے بجائے مختلف شکلوں میں سامنے آتی رہی۔

◆ OVERSEAS POST | SPECIAL REPORT27 ستمبر — اہم نکات ⌄
  • ✓پاکستان تحریک انصاف نے 27 ستمبر 2026 کو اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔
  • ✓پارٹی مارچ کو عمران خان کی رہائی اور آئین کی بالادستی کے مطالبات سے جوڑ رہی ہے۔
  • ✓اسلام آباد ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ عوامی راستوں کی ایسی بندش نہیں ہونی چاہئے جس سے شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوں۔
  • ✓وفاقی حکومت امن و امان اور شہری نقل و حرکت کو بنیادی ذمہ داری قرار دے رہی ہے۔
overseaspost.net

اقتدار کی اس کشمکش میں سیاسی حکومتوں، ریاستی اداروں اور اشرافیہ کے تعلقات ہمیشہ بحث کا موضوع رہے ہیں۔ 

سقوطِ ڈھاکا کے بعد ایک ایسا دور ضرور آیا جب اقتدار ایک منتخب سیاسی قیادت کے ہاتھ میں منتقل ہوا، لیکن یہ سلسلہ بھی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا۔ 

جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا نے ایک مرتبہ پھر سیاسی عمل کا راستہ روک دیا اور وہ تقریباً گیارہ برس تک اقتدار میں رہے۔ 

یوں پاکستان میں اس سوال نے مسلسل جنم لیا کہ حقیقی اختیار آخر کس کے پاس ہے اور منتخب حکومتوں کو فیصلوں میں کس حد تک آزادی حاصل رہی ہے؟

مزید پڑھیں

عمران خان کی حکومت کے بارے میں بھی یہی بحث مختلف انداز میں سامنے آتی رہی۔ 

عمران خان متعدد مواقع پر یہ مؤقف اختیار کر چکے ہیں کہ ابتدا میں انہیں یقین تھا کہ اس وقت کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ملک کے لیے مثبت کردار ادا کرنا چاہتے ہیں، لیکن بعد میں ان کے خیالات تبدیل ہو گئے۔ 

دوسری جانب عمران خان کے ناقدین ان کے بعض بیانات، ریاستی رازوں سے متعلق طرزِ عمل اور سیاسی حکمت عملی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔ 

ان معاملات پر عدالتوں، حکومت اور تحریک انصاف کے مؤقف ایک

 دوسرے سے مختلف رہے ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ عمران خان گزشتہ کئی برس سے مختلف مقدمات اور سزاؤں کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ وہ اور ان کی جماعت ان مقدمات کو سیاسی بنیادوں پر قائم قرار دیتے ہیں، حکومت اس الزام کو مسترد کرتی رہی ہے۔ 

i OVERSEAS POST | FACT BOXفیکٹ باکس: احتجاج اور عدالتی حکم ⌄
تاریخ27 ستمبر 2026
مقاماسلام آباد کی جانب مارچ
اعلان کنندہپاکستان تحریک انصاف
مرکزی مطالباتعمران خان کی رہائی، آئینی بالادستی
عدالتی مؤقفسڑکوں، شاہراہوں اور عوامی مقامات کی ایسی بندش کی اجازت نہیں جس سے شہری حقوق متاثر ہوں۔
overseaspost.net

ان کی صحت، بالخصوص دائیں آنکھ کی بینائی، بھی ایک سنجیدہ مسئلہ بنی۔ 

فروری 2026 میں عدالت کے سامنے پیش ہونے والی رپورٹس میں بینائی شدید متاثر ہونے کا معاملہ سامنے آیا، تاہم بعد میں حکومتی میڈیکل رپورٹس میں بہتری کا دعویٰ کیا گیا۔ 

اگست میں سپریم کورٹ کے حکم کے بعد انہیں طبی معائنے کے لیے ہسپتال بھی منتقل کیا گیا۔

اصل سوال مگر صرف عمران خان یا کسی ایک سیاسی رہنما کا نہیں۔ 

بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کا سیاسی اور عدالتی نظام اتنا مضبوط اور آزاد ہے کہ سیاسی نوعیت کے مقدمات بھی معمول کے قانونی عمل کے مطابق نمٹائے جا سکیں؟ 

ایک ایسا نظام، جہاں عدالتیں آزادانہ فیصلے کریں، حکومت قانون کی حدود میں رہے اور ملزم کو اپنے دفاع کے تمام آئینی حقوق حاصل ہوں، کسی بھی سیاسی تنازع کو کم کرنے میں بنیادی کردار ادا کر سکتا ہے۔

حقیقی اختیار
آخر کس کے
پاس ہے اور
منتخب حکومتوں
کو فیصلوں میں
کس حد تک
آزادی حاصل
رہی ہے؟

پاکستان کا آئین شہریوں کو اجتماع اور پُرامن احتجاج کا حق دیتا ہے، لیکن یہ حق بھی قانون اور دوسروں کے بنیادی حقوق سے مشروط ہے۔
اسی تناظر میں پاکستان تحریک انصاف نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے، جس کا بنیادی مطالبہ عمران خان کی رہائی بتایا جا رہا ہے۔ دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ نے واضح کیا ہے کہ کوئی سیاسی جماعت، سیاسی رہنما یا سرکاری عہدے دار سڑکیں، شاہراہیں، انٹرچینجز یا دیگر عوامی مقامات اس انداز میں بند نہیں کر سکتا جس سے شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت، کاروبار، تعلیم یا علاج تک رسائی متاثر ہو۔
عدالت نے شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کو بھی ریاستی ذمہ داری قرار دیا ہے۔
یہاں ایک اہم سوال حکومت کے طرزِ عمل کے بارے میں بھی پیدا ہوتا ہے۔
اگر سیاسی جماعت کو شہری زندگی متاثر کرنے سے روکا جا رہا ہے تو ریاستی اقدامات بھی اسی اصول پر پرکھے جانے چاہئیں۔
احتجاج روکنے کے لیے راستے بند کرنے، کنٹینرز لگانے اور بڑے پیمانے پر نقل و حرکت محدود کرنے سے اگر عام شہری، کاروبار اور تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوں تو اس کے اثرات بھی نظرانداز نہیں کیے جا سکتے۔

◎ OVERSEAS POST | WHY IT MATTERSیہ معاملہ کیوں اہم ہے؟ ⌄

یہ تنازع کسی ایک مارچ تک محدود نہیں؛ اس میں احتجاج کے حق، شہری آزادی، ریاستی اختیار اور عدالتی حدود سب ایک ساتھ زیرِ بحث ہیں۔

آئینی حقپرامن اجتماع اور سیاسی اظہار جمہوری نظام کا حصہ ہیں۔
شہری حقوقعام شہریوں کی نقل و حرکت، کاروبار، تعلیم اور علاج متاثر نہ ہوں۔
سیاسی اعتمادگرفتاریوں اور سخت بیانات سے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اعتماد مزید کم ہو رہا ہے۔
overseaspost.net

27 ستمبر کے مجوزہ مارچ سے قبل اسلام آباد اور اس سے ملحق علاقوں میں غیر معمولی سکیورٹی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ 

رپورٹس کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں 22 ہزار سے زائد سکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی کی تیاریاں کی گئی ہیں، جبکہ پنجاب اور سندھ سے بھی اضافی نفری طلب کی گئی۔ 

دو ہزار سے زائد کنٹینرز مختلف مقامات پر پہنچانے اور بعض اہم راستوں پر انہیں مٹی اور بجری سے بھرنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ 

متعدد تعلیمی اداروں کو باہر سے آنے والی پولیس نفری کے قیام کے لیے استعمال کرنے کا منصوبہ بھی رپورٹ ہوا ہے۔

یہ انتظامات اپنی جگہ ریاست کی امن و امان برقرار رکھنے کی ذمہ داری کا حصہ قرار دیے جا سکتے ہیں، مگر ان کا حجم اس سیاسی کشیدگی کی شدت کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ 

ایک طرف بعض حکومتی حلقے تحریک انصاف کی عوامی قوت کو محدود قرار دیتے ہیں، دوسری طرف ہزاروں اہلکاروں، سینکڑوں یا ہزاروں کنٹینرز اور وسیع حفاظتی انتظامات سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ حکومت مارچ کو ایک سنجیدہ چیلنج سمجھ رہی ہے۔

§ OVERSEAS POST | LEGAL FRAMEعدالتی اور قانونی فریم ⌄
  • 1پرامن احتجاج کا حق قانون اور دوسروں کے بنیادی حقوق کے ساتھ مشروط ہے۔
  • 2عدالت نے شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت کے تحفظ پر زور دیا ہے۔
  • 3صوبائی سرکاری وسائل کو سیاسی احتجاج کے لیے استعمال نہ کرنے کی ہدایات بھی سامنے آئی ہیں۔
overseaspost.net

صورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہوئی جب عمران خان کی بہنوں سمیت تحریک انصاف سے وابستہ یا اس کے حق میں آواز اٹھانے والی متعدد شخصیات کو حراست میں لیا گیا۔ 

عمران خان کی بہن علیمہ خان کی گرفتاری اور 30 روزہ حراست کی سرکاری وجہ امن عامہ کو لاحق ممکنہ خطرات بتائی گئی، جبکہ تحریک انصاف نے اسے سیاسی دباؤ قرار دیا۔ 

بعد میں عمران خان کی تین بہنوں کی حراست کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

ایسے اقدامات سے سیاسی درجہ حرارت کم ہونے کے بجائے بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔ ریاست کا مؤقف یقیناً یہ ہو سکتا ہے کہ اسے امن و امان اور شہریوں کے جان و مال کی حفاظت یقینی بنانی ہے، مگر اپوزیشن بھی احتجاج کو اپنا آئینی حق قرار دیتی ہے۔ 

مسئلے کا حل تبھی ممکن ہے جب دونوں اصول ایک ساتھ تسلیم کیے جائیں: 

احتجاج پُرامن اور قانون کے اندر ہو، جبکہ ریاست بھی طاقت کے استعمال کو آخری آپشن رکھے اور سیاسی اختلاف کو محض امن و امان کا مسئلہ نہ بنائے۔

G OVERSEAS POST | GOVERNMENT POSITIONحکومت کا مؤقف کیا ہے؟ ⌄

حکومت کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کو بار بار بند ہونے سے بچایا جائے گا اور شہری زندگی و امن و امان کو متاثر نہیں ہونے دیا جائے گا۔

  • •حکومت عدالتی احکامات پر عمل درآمد کو اپنی پالیسی کا حصہ قرار دیتی ہے۔
  • •حکومتی مؤقف کے مطابق عمران خان کی رہائی کا راستہ عدالتوں سے گزرتا ہے۔
overseaspost.net

وزیر داخلہ محسن نقوی کے حالیہ بیان نے بھی سیاسی حلقوں میں تشویش پیدا کی ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ بار بار دارالحکومت بند ہونے کی صورت حال کا اس مرتبہ ’مستقل حل‘ تلاش کیا جائے گا اور معاملہ ادھورا نہیں چھوڑا جائے گا۔ 

حکومتی نقطۂ نظر سے اس بیان کا مطلب مستقبل میں دارالحکومت کو 

طویل احتجاج سے محفوظ رکھنے کی حکمت عملی ہے، تاہم مخالفین اسے سخت حکومتی کارروائی کے اشارے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

سیاست میں الفاظ کی اپنی اہمیت ہوتی ہے۔ 

بالخصوص ایسے ماحول میں، جہاں پہلے ہی اعتماد کا بحران موجود ہو، حکومت اور اپوزیشن دونوں کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ ان کی زبان کشیدگی میں اضافہ نہ کرے۔ 

ریاستی طاقت رکھنے والوں کے الفاظ تو مزید احتیاط کے متقاضی ہوتے ہیں، کیونکہ ان کا ایک جملہ بھی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے رویے پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔

P OVERSEAS POST | PTI POSITIONتحریک انصاف کا مؤقف ⌄
  • •تحریک انصاف مارچ کو پرامن، آئینی اور جمہوری احتجاج قرار دیتی ہے۔
  • •پارٹی عمران خان کی رہائی اور آئین کی بالادستی کو بنیادی مطالبات قرار دیتی ہے۔
  • •پی ٹی آئی اپنے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف کارروائیوں کو سیاسی دباؤ کہتی ہے۔
overseaspost.net

مولانا فضل الرحمن بھی حالیہ عرصے میں حکومتی اختیار اور ریاستی نظام کے بارے میں سخت تنقید کرتے رہے ہیں۔ 

سیاسی رہنما جب یہ مؤقف پیش کرتے ہیں کہ منتخب حکومت کے مقابلے میں غیر منتخب قوتیں زیادہ بااثر ہیں تو یہ محض کسی ایک جماعت یا رہنما کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ ریاستی ڈھانچے، آئینی بالادستی اور سیاسی اعتماد کا سوال بن جاتا ہے۔ 

ایسے الزامات کا جواب بھی سیاسی محاذ آرائی سے نہیں بلکہ شفاف فیصلوں، مضبوط اداروں اور آئینی حدود کی پابندی سے دیا جا سکتا ہے۔

پاکستان کو آج سب سے زیادہ ضرورت اسی اعتماد کی ہے۔ 

شہریوں کو یقین ہونا چاہئے کہ قانون سب کے لیے یکساں ہے، سیاسی جماعتوں کو یقین ہونا چاہئے کہ انہیں آئینی دائرے میں سیاست کی مکمل آزادی حاصل ہے، حکومت کو یقین ہونا چاہئے کہ اپوزیشن احتجاج کے نام پر تشدد یا شہری زندگی کو مفلوج نہیں کرے گی، اور اداروں کو یہ اعتماد پیدا کرنا چاہئے کہ وہ سیاسی تنازعات میں فریق نہیں بلکہ آئینی ذمہ داریوں کے نگہبان ہیں۔

✒
محمد مبشر انوار
دیگر کالم پڑھنے کے لیے کلک کریں
←

حکومت امن و امان
اور شہری زندگی
کے تحفظ کو
بنیاد بنا رہی ہے
جبکہ تحریک انصاف
احتجاج کو
اپنا آئینی حق
قرار دیتی ہے

27 ستمبر کا احتجاج اس لیے محض ایک لانگ مارچ نہیں رہا۔
یہ ریاست، حکومت اور ایک بڑی سیاسی جماعت کے درمیان موجود عدم اعتماد کا امتحان بھی بنتا جا رہا ہے۔
اگر حکومت اسے صرف طاقت سے روکنے کی کوشش کرتی ہے اور تحریک انصاف بھی تصادم کے راستے پر چلتی ہے تو نقصان کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ پورے سیاسی نظام کا ہوگا۔ اس کے برعکس اگر مذاکرات، قانون اور آئینی حدود کے اندر کوئی راستہ نکل آتا ہے تو شاید یہ کشیدگی کم کرنے کا آغاز ثابت ہو۔
اصل مسئلہ عمران خان، تحریک انصاف یا موجودہ حکومت سے کہیں بڑا ہے۔
سوال یہ ہے کہ پاکستان میں سیاسی اختلاف کا فیصلہ آئین، پارلیمان، عدالت اور عوام کریں گے یا ہر بحران بالآخر طاقت کے استعمال اور بند کمروں کے فیصلوں تک پہنچے گا؟
اسی لیے موجودہ حالات میں سب سے بڑی تشویش کسی ایک مارچ کی کامیابی یا ناکامی نہیں بلکہ خود نظام کے مستقبل سے متعلق ہے۔
جس شدت سے سیاسی فریق آمنے سامنے آ رہے ہیں، جس پیمانے پر اسلام آباد کے گرد حفاظتی انتظامات ہو رہے ہیں اور جس تیزی سے سیاسی زبان سخت ہوتی جا رہی ہے، وہ کسی بڑے تصادم کے خدشے کو بڑھاتی ہے۔

⚑ OVERSEAS POST | SECURITYاسلام آباد کے گرد سکیورٹی تیاری ⌄
  • ✓اسلام آباد میں اضافی پولیس نفری کی تعیناتی کی تیاری کی گئی ہے۔
  • ✓پنجاب اور سندھ سے بھی اضافی پولیس دستوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
  • ✓راولپنڈی اور اٹک سمیت بعض اضلاع میں رینجرز کی تعیناتی کی درخواست کی گئی ہے۔
overseaspost.net

خدانخواستہ اگر یہ تصادم قابو سے باہر ہوا تو اس کے نتائج صرف حکومت یا اپوزیشن تک محدود نہیں رہیں گے۔ 

پہلے سے موجود سیاسی اور معاشی عدم استحکام مزید گہرا ہو سکتا ہے۔ 

اس لیے دانش مندی اسی میں ہے کہ طاقت آزمانے کے بجائے سیاسی راستہ تلاش کیا جائے، آئین کو فیصلہ کن حیثیت دی جائے اور تمام فریق ایسے اقدامات سے گریز کریں جو ریاست اور شہریوں کے درمیان فاصلے مزید بڑھا دیں۔

ورنہ یہ سوال اپنی جگہ موجود رہے گا کہ 27 ستمبر کے لانگ مارچ سے زیادہ خطرہ مارچ کو ہے یا اس نظام کو، جس کے بارے میں خدشات ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتے جا رہے ہیں۔واللہ اعلم بالصواب۔

ادارتی نوٹ
▼
کالم میں اظہار کیے گئے خیالات اور آراء صرف کالم نگار کے ذاتی موقف کی عکاسی کرتے ہیں، جن سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔