سید مسرت خلیل
جدہ
صومالیہ کے ساحل کے قریب ایک بار پھر سمندری قزاقی کا بڑا واقعہ سامنے آیا ہے، جس میں ایک آئل ٹینکر کو اغوا کر لیا گیا اور اس میں متعدد پاکستانی شہری بھی سوار تھے۔
اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ خلیجِ عدن میں صومالیہ کے قریب پیش آیا ہے۔
اغوا ہونے والے جہاز پر کم از کم 11 پاکستانی عملہ موجود تھا جبکہ دیگر غیر ملکی بھی شامل تھے۔
مسلح صومالی قزاقوں نے جہاز پر قبضہ کر کے عملے کو یرغمال بنا لیا۔
سندھ کے گورنر نے تصدیق کی ہے کہ پاکستانی عملہ محفوظ واپسی کے لیے حکومت سرگرم ہے۔
پاکستان کی وزارتِ خارجہ، بحریہ اور دیگر ادارے اس معاملے پر صومالی حکام اور بین الاقوامی تنظیموں سے رابطے میں ہیں۔
متاثرہ خاندانوں کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ انہیں تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔
اہلِ خانہ کے مطابق مغوی افراد نے آخری رابطے میں بتایا کہ وہ شدید مشکلات اور خوراک کی کمی کا شکار ہیں۔
قزاق مسلح ہیں اور صورتحال تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
واقعے پر جدہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے حکومت پاکستان سے مداخلت کرنے اور پاکستانی عملے کی واپسی کے لیے کوششیں تیز کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔