اہم خبریں
8 May, 2026
--:--:--

صحت مند غذا اور پھیپھڑوں کے کینسر میں حیران کن تعلق

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
صحت مند غذا اور پھیپھڑوں کا کینسر
غیر تمباکو نوش افراد اور نوجوانوں میں کیسز زیادہ

حالیہ تحقیق نے صحت مند غذائی عادات اپنانے اور پھیپھڑوں کے کینسر کے بڑھتے خطرے کے درمیان ایک غیر متوقع تعلق ظاہر کیا ہے، خاص طور پر ان افراد میں جو تمباکو نوشی نہیں کرتے اور جن کی عمر 50 سال سے کم ہے۔ 

اس نے طرزِ زندگی سے جڑے ماحولیاتی عوامل پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

صحت مند غذا اپنانے والوں میں بھی پھیپھڑوں کے کینسر کے کیسز سامنے آئے

میڈیکل نیوز ٹوڈے ویب سائٹ کے مطابق مریضوں کی ایک بڑی تعداد ایسے افراد پر مشتمل تھی جو معیاری اور صحت بخش غذا استعمال کرتے تھے، جس میں سبزیاں، پھل اور مکمل اناج کثرت سے شامل تھے۔
یہ نتائج محققین کے لیے حیران کن تھے تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ صحت مند غذا براہِ راست کینسر کا سبب بنتی ہے، بلکہ اس سے ممکنہ بیرونی عوامل کی نشاندہی ہوتی ہے، جن میں سب سے اہم زرعی ادویات ’پیسٹیسائیڈز‘ کے باقیات کا غذا کے ذریعے جسم میں داخل ہونا ہو سکتا ہے۔

اس حوالے سے پھیپھڑوں کے کینسر کے ماہر خورخی نیوا نے کہا کہ ابھی مزید تحقیق کی ضرورت ہے، جس میں مریضوں کے جسم میں پیسٹیسائیڈز کے اثرات کی پیمائش سے لے کر مختلف جغرافیائی علاقوں اور استعمال ہونے والے کیمیائی مادوں کے فرق کا جائزہ لینا شامل ہے۔

مزید پڑھیں

تحقیق میں اس مفروضے کی حمایت کرنے والے چند اشاریے بھی سامنے آئے، جن میں زرعی شعبے سے وابستہ افراد میں کینسر کی زیادہ شرح شامل ہے، کیونکہ وہ پیسٹیسائیڈز کے زیادہ قریب ہوتے ہیں۔ 

اس کے علاوہ خواتین میں بھی اس بیماری کی شرح زیادہ دیکھی گئی، جو عموماً زیادہ صحت مند غذائی عادات اپناتی ہیں۔

تحقیق نے ایک اور ممکنہ عنصر کی نشاندہی کی جس پر مزید کام جاری

 ہے، اور وہ ہے مانع حمل ادویات کا استعمال۔ 

متاثرہ خواتین میں ان ادویات کا استعمال اوسط کے مقابلے میں زیادہ دیکھا گیا تاہم اس سے کسی حتمی سبب و اثر کے تعلق کی تصدیق نہیں ہوتی۔

محققین نے آخر میں زور دیا کہ یہ نتائج صرف ایک تعلق association ظاہر کرتے ہیں، نہ کہ کسی قطعی وجہ کو ثابت کرتے ہیں۔ 

انہوں نے مزید تحقیقات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صحت مند غذا جاری رکھنا ضروری ہے، تاہم خوراک کے معیار اور اس کے ذرائع پر بھی خصوصی توجہ دی جانی چاہیے۔