سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو نے اس وقت تنازع کھڑا کر دیا جب اسے اس دعوے کے ساتھ شیئر کیا گیا کہ یہ سوڈان کے شہر پورٹ سوڈان کے ہوائی اڈے پر ایک سعودی طیارے کو روکنے کے واقعے کو دکھاتی ہے۔
صارفین کی جانب سے اسے بڑے پیمانے پر دوبارہ شیئر کیا گیا، جس سے اس کی تیزی سے تشہیر ہوئی۔
إيقاف طائرة سعودية في مطار بور سودان احتجاجاً على تدخلاتهم في شؤون السودان 🇸🇩
— فارس الجابري 🇬🇧🏴 (@Faris790184) April 21, 2026
مالكم قيمة أيها الضب وتم فضحكم امام العالم 🌏
السودان 🇸🇩 حر وليس تابعاً المملكة 🇸🇦 pic.twitter.com/cliCsVpUk7
سبق ویب سائٹ کے مطابق ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ متعدد افراد ایک طیارے کے گرد ہوائی اڈے کی حدود میں جمع ہیں، جبکہ اسے شیئر کرنے والوں کا دعویٰ تھا کہ یہ حالیہ واقعہ ہے جس میں سوڈانی شہریوں نے مبینہ ’بیرونی مداخلت‘ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے طیارے کو روک دیا۔
تاہم، ویڈیو کی حقیقت اس دعوے سے مختلف نکلی۔
تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ پرانی ویڈیو ہے اور اس کا موجودہ حالات سے کوئی تعلق نہیں۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق، اس ویڈیو کو اس کے اصل تناظر سے ہٹ کر دوبارہ شیئر کیا گیا اور یہ پورٹ سوڈان ایئرپورٹ پر کسی سعودی طیارے کو روکنے کے حالیہ واقعے کی عکاسی نہیں کرتی۔
مزید وضاحت میں بتایا گیا کہ ویڈیو کی دوبارہ تشہیر علاقائی کشیدگی میں اضافے کے دوران ہوئی، جس نے اس کے پھیلاؤ کو مزید بڑھا دیا، حالانکہ اس کا زمانی یا مکانی طور پر زیر گردش دعووں سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
یہ ویڈیو دراصل مئی 2019 کی ہے۔
اس وقت سعودی ایئر لائنز نے اپنے بیان میں وضاحت کی تھی کہ ایک (A320) طیارہ پورٹ سوڈان سے پرواز نمبر SV464 کے ذریعے روانہ ہو کر کنگ عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچا۔
بیان کے مطابق اس وقت کچھ افراد غیر قانونی طور پر ایئرپورٹ کے احاطے میں داخل ہو گئے تھے اور نقل و حرکت میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی، جس کے باعث پرواز کی روانگی تقریباً دو گھنٹے تاخیر کا شکار ہوئی۔