سعودی عرب میں اب کاسمیٹک کلینکس صرف خواتین تک محدود نہیں رہے بلکہ حالیہ عرصے میں نوجوانوں کی جانب سے غیر جراحی کاسمیٹک طریقہ کار کی طرف نمایاں رجحان دیکھا گیا ہے، اور وہ زیادہ خوبصورت اور تازہ نظر آنے کی خواہش میں ویٹنگ ایریاز میں لڑکیوں کے ساتھ نظر آنے لگے ہیں۔
اخبار 24 کی جانب سے ریاض شہر میں متعدد کاسمیٹک کلینکس کے دورے اور رابطوں سے معلوم ہوا ہے کہ وہاں مرد و خواتین دونوں موجود ہیں جو مختلف کاسمیٹک طریقہ کار سے گزرتے ہیں، جن میں چہرے کی ٹائٹنگ، جھریوں کا خاتمہ اور جلد کی بھرائی شامل ہے، جو فلر اور بوٹوکس انجیکشن کے ذریعے کی جاتی ہے، جن کی قیمت بعض اوقات ایک ملی لیٹر کے لیے 1000 ریال سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔
مردوں میں استعمال ہونے والی تکنیکوں میں بلوم، سالمن اور ہائیڈریشن لفٹنگ شامل ہیں، جو جلد کی تازگی اور خلیوں کی تجدید کے لیے استعمال کی جاتی ہیں، اس کے علاوہ جبڑے کی ساخت کو نمایاں کرنے کے لیے فلر کے استعمال میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، جسے بعض کلینکس مردانہ خدوخال کو نمایاں کرنے کا ذریعہ قرار دیتے ہیں۔
کاسمیٹک سرجن محمد الدیری کے مطابق نوجوانوں میں ظاہری خوبصورتی کے حوالے سے شعور میں واضح اضافہ ہوا ہے، اور ان کے کلینک میں تقریباً 30 فیصد مریض مرد ہوتے ہیں، خاص طور پر وہ افراد جنہوں نے وزن کم کرنے کی سرجری کروائی ہو اور انہیں جلد کی ڈھیلاپن ختم کرنے اور جسمانی ساخت بہتر بنانے کی ضرورت ہو۔
انہوں نے مزید بتایا کہ رمضان کے بعد کاسمیٹک کلینکس میں رجوع کرنے والوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے، خاص طور پر ان افراد میں جنہوں نے معدے کی کمی ’گیسٹرک آستومی‘ کی سرجری کروائی ہو اور انہیں بعد ازاں اضافی کاسمیٹک علاج کی ضرورت پیش آتی ہے۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ کاسمیٹک کلینکس کی خدمات مختلف ہوتی ہیں، کچھ کلینکس مرد و خواتین دونوں کو خدمات فراہم کرتے ہیں جبکہ کچھ صرف ایک جنس تک محدود ہوتے ہیں، اسی وجہ سے مردوں کے رجحان کی درست شرح معلوم کرنا مشکل ہے تاہم رجحانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔