آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے آج جمعرات کو 36 ممالک کا اجلاس ہو رہا ہے۔
یہ اہم شپنگ چینل امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ کی وجہ سے جزوی طور پر بند ہوا ہے جس سے عالمی تیل کی فراہمی متاثر ہوئی اور قیمتیں بلند ہو گئیں۔
برطانوی وزیر خارجہ ایویٹ کپر کی سربراہی میں ہونے والے ورچوئل اجلاس میں وزیر اعظم برطانیہ کیر اسٹارمر نے کہا کہ اجلاس میں تمام ممکنہ سفارتی اور سیاسی اقدامات کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ جہازوں اور عملے کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے اور اہم سامان کی نقل و حمل دوبارہ شروع ہو۔
امریکہ اجلاس میں حصہ نہیں لے رہا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ خلیجی پانیوں کی حفاظت امریکہ کی ذمہ داری نہیں اور اتحادی ممالک کو اپنا تیل خود حاصل کرنا چاہیے۔
اجلاس کے شرکا ابھی جنگ کی موجودہ صورتحال اور ایران کی میزائل، ڈرونز، حملہ آور کشتیاں اور سمندری دھماکہ خیز مواد کے خطرات کے پیش نظر ہرمز کو فورس کے ذریعے کھولنے کی کوئی فوری تیاری نہیں کر رہے لیکن اسٹارمر کے مطابق مختلف ممالک کے فوجی منصوبہ ساز مستقبل قریب میں ملاقات کریں گے تاکہ جنگ ختم ہونے کے بعد جہاز رانی کے تحفظ کے اقدامات طے کیے جا سکیں۔