اہم خبریں
17 April, 2026
--:--:--

صدر ٹرمپ کا متوقع خطاب، ایران سے انخلا کا اعلان یا بری کارروائی؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
فوٹو: العربیہ

دنیا کی نگاہیں وائٹ ہاؤس پر مرکوز ہیں جہاں چند گھنٹوں کے بعد صدر ٹرمپ اہم خطاب کریں گے۔

صدر ٹرمپ کے خطاب میں کیا کچھ ہوسکتا ہے اس کے بارے میں مختلف پیشگوئیاں کی جارہی ہیں۔

سب سے اہم اور وزنی پیشگوئی خود وائٹ ہاؤس کے ذرائع سے آرہی ہے جس میں توقع کی جارہی ہے کہ صدر ٹرمپ ایران سے انخلا کا ٹائم فریم مقرر کریں گے۔

عہدیدار کے مطابق امکان ہے کہ ٹرمپ اپنی تقریر میں ایران میں فوجی کارروائیوں کے خاتمے کے لیے ایک ٹائم لائن کا اعلان کریں گے۔

وائٹ ہاؤس کے ذریعے نے وضاحت کی کہ یہ مدت دو سے تین ہفتوں کے درمیان ہو سکتی ہے، جیسا کہ خبر رساں ادارے رائٹرز نے رپورٹ کیا ہے۔

4654456
فوٹو: الجزیرہ

انہوں نے کہا کہ امریکہ جنگ سے بہت تیزی سے نکل جائے گا تاہم ضرورت پڑنے پر محدود حملے دوبارہ کر سکتا ہے۔

دوسری طرف پیشگوئی کرنے والے انتہائی بھیانک منظر پیش کر رہیں جن کا خیال ہے کہ جنگ میں آئندہ مزید وسعت ہوگی اور یہ بری مقابلوں تک بھی جاسکتی ہے۔

3 برطانوی اخبارات کے تجزیے ایران کے خلاف جاری جنگ کے حوالے سے ایک تشویشناک منظر پیش کرتے ہیں، جہاں فوجی کشیدگی اور سیاسی ابہام ایک دوسرے میں گڈمڈ ہو رہے ہیں، جبکہ ایسے اشارے بڑھتے جا رہے ہیں کہ یہ تصادم زمینی مداخلت کے مرحلے میں داخل ہو سکتا ہے، جس کے علاقائی اور عالمی اثرات سنگین ہو سکتے ہیں۔

’کیا ٹرمپ ایران پر زمینی حملے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں؟‘ کے عنوان کے تحت اخبار ٹائمز نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے طرزِ عمل کو ’مسلح ابہام‘ قرار دیا ہے۔ 

اخبار کے مطابق صدر کے متضاد بیانات، کبھی فتح کا اعلان اور کبھی انخلا کا عندیہ‘ محض اتفاقی نہیں بلکہ وقت حاصل کرنے کی ایک حکمت عملی بھی ہو سکتے ہیں۔

465412
فوٹو: الجزیرہ

اخبار کے مطابق واشنگٹن کے حلقے اس حکمت عملی کو سخت دھمکیوں اور نرم پیغامات کے امتزاج کے طور پر دیکھتے ہیں، جس کا مقصد ایک طرف ایران پر دباؤ ڈالنا اور دوسری جانب عالمی منڈیوں کو مطمئن رکھنا ہے جبکہ زمینی سطح پر فوجی تیاریاں جاری ہیں۔

تاہم اس تجزیے پر مکمل اتفاق نہیں پایا جاتا۔ 

میگزین ’دی اکانومسٹ‘ کے مطابق موجودہ صورتحال شدید ابہام اور الجھن کی عکاس ہے اور یہ بھی واضح نہیں کہ خود ٹرمپ کا اگلا قدم کیا ہوگا۔

2121321
فوٹو: الجزیرہ

اہداف کے حوالے سے اختلاف کے باوجود، تینوں اخبارات اس بات پر متفق ہیں کہ امریکی فوجی سرگرمیاں اب محض دھمکیوں تک محدود نہیں رہیں بلکہ عملی مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔ 

ان میں سے ایک نے نشاندہی کی کہ مشرقِ وسطیٰ میں اس وقت 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی تعینات ہیں، جبکہ اس کے ساتھ سینکڑوں فوجی پروازیں بھی جاری ہیں، جو ایک بڑے پیمانے پر لاجسٹک تیاری کی نشاندہی کرتی ہیں۔