امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پیر کو کہا ہے کہ ایران کی عوامی بیانات ہماری بات چیت میں ان کے کہے گئے موقف کی عکاس نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ ایران کے عوامی بیانات کچھ اور ہیں اور مذاکرات میں ان کا اصل موقف بیانات سے مختلف ہے۔
العربیہ کے مطابق انہوں نے بتایا کہ فوجی کارروائی کے اہداف میں ایران کی بحریہ اور اس کی دفاعی صنعتی بنیاد کو تباہ کرنا اور راکٹ لانچرز تیار کرنے کی اس کی صلاحیت کو کمزور کرنا شامل ہے۔
روبیو نے تہران کی جانب سے ہرمز میں بین الاقوامی جہاز رانی پر کنٹرول قائم کرنے کی دھمکیوں سے عالمی سطح پر اثرات مرتب ہونے کی وارننگ بھی دی۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ بحرانوں کے حل کو ترجیحاً سفارتی راستے سے دیکھتا ہے، لیکن اگر یہ کوششیں ناکام ہو جائیں تو بھی تیار ہے، اور نشاندہی کی کہ 47 سالہ ایرانی نظام میں ایسے عناصر شامل ہیں جو ضروری نہیں کہ سفارتکاری یا امن کے حامی ہوں۔