ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ دوسرے ماہ میں داخل ہونے کے قریب ہے، اسی دوران امریکی انٹیلیجنس جائزوں میں انکشاف ہوا ہے کہ ایران کے تقریباً ایک تہائی میزائل تباہ ہو چکے ہیں۔
ذرائع کے مطابق امریکی فضائی حملوں کے نتیجے میں ایک تہائی میزائل مکمل طور پر تباہ ہوئے، جبکہ مزید دو تہائی میزائل نقصان کا شکار، تباہ یا زیرِ زمین تنصیبات میں دب گئے ہیں۔ بعض میزائلوں کی صورتحال واضح نہیں تاہم امکان ہے کہ وہ بھی حملوں سے متاثر ہوئے ہیں۔
العربیہ کے مطابق اس کے باوجود رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کے پاس اب بھی قابلِ ذکر میزائل ذخیرہ موجود ہے اور جنگ کے خاتمے کے بعد وہ متاثرہ یا زیرِ زمین موجود میزائلوں کو دوبارہ استعمال کے قابل بنا سکتا ہے۔
یہ انٹیلیجنس معلومات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان سے مختلف ہیں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران کے پاس ’بہت کم میزائل‘ باقی رہ گئے ہیں۔
تاہم رپورٹ کے مطابق ایران کے باقی ماندہ میزائل اور ڈرونز مستقبل میں، خصوصاً اہم تجارتی گزرگاہ آبنائے ہرمز کے تحفظ کے تناظر میں، ایک ممکنہ خطرہ بدستور ہیں۔