پینٹاگون نے 82 ویں ایئر بورن ڈویژن کے تقریباً دو ہزار پیرشوٹ دستے کو مشرق وسطیٰ بھیجنے کا حکم دیا ہے۔
یہ دستے ’فوری ردعمل فورس‘ کے رکن ہیں اور اہم بنیادی ڈھانچے، ہوائی اڈوں اور امریکی سفارتخانوں کی حفاظت کے لیے تربیت یافتہ ہیں۔
العربیہ کے مطابق فوجیوں کی تعیناتی ایران کے قریب یا دیگر مشرق وسطیٰ کے مقامات پر ہو سکتی ہے، جبکہ امریکی انتظامیہ ایران کے جزیرہ خارگ پر کنٹرول کے آپشن پر بھی غور کر رہی ہے۔
یہ اقدامات صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی منظوری اور حالیہ ایرانی خطرات کے تناظر میں کیے جا رہے ہیں۔
فوجی حکام کا کہنا ہے کہ 82 ویں ڈویژن کی قیادت زیر تربیت فورس کے ذریعے جزیرہ خارگ پر جلد کنٹرول حاصل کرنے کے آپشن پر غور کر رہی ہے، جس سے ایران کے تیل کی برآمد پر اثر پڑ سکتا ہے اور واشنگٹن کو تہران پر دباؤ ڈالنے کا اہم ہتھیار مل سکتا ہے۔