اہم خبریں
17 April, 2026
--:--:--

بوشہر جوہری تنصیب پر حملہ تابکاری کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتا ہے

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
فوٹو: سبق

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بوشہر جوہری تنصیب کو کسی بھی فوجی نشانے کا ہدف بنانے کے سنگین نتائج سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا اقدام بڑی مقدار میں تابکار مواد کے اخراج کا سبب بن سکتا ہے، جو ایران کے اندر اور باہر ماحول اور آبادی کے لیے براہِ راست خطرہ ہوگا۔

عراقچی نے وضاحت کی کہ انہوں نے یہ انتباہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھیجے گئے ایک باضابطہ خط میں دیا، جس میں انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایرانی جوہری تنصیبات پر مبینہ حملوں کو بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ضوابط کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ بوشہر جوہری پلانٹ ایک فعال تنصیب ہے جس میں ہزاروں کلوگرام جوہری مواد موجود ہے، اور اس پر کسی بھی براہِ راست حملے کی صورت میں بڑی مقدار میں تابکار مواد ماحول میں پھیل سکتا ہے۔

وزیر خارجہ نے مزید خبردار کیا کہ اگر اس تنصیب کی توانائی کی فراہمی متاثر ہوئی تو کولنگ سسٹم ناکارہ ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں ری ایکٹر کا کور پگھلنے اور وسیع پیمانے پر تابکاری پھیلنے کا خطرہ پیدا ہو جائے گا، جو علاقائی اور عالمی سطح پر سلامتی کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔