اہم خبریں
17 April, 2026
--:--:--
براہ راست نشریات

آبنائے ہرمز: قزاقوں کے ساحل پر صدیوں سے جاری سلطنتوں کی کشمکش

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes

وال اسٹریٹ جرنل میں شائع ایک مضمون میں اس تاریخی کشمکش کا جائزہ لیا گیا ہے جو صدیوں سے مختلف سلطنتوں کے درمیان آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے لیے جاری رہی۔ 

اس وقت ایران، امریکی و اسرائیلی حملے کے ردعمل میں، اس اہم گزرگاہ کو گھیرے میں لیے ہوئے ہے، جس سے عالمی توانائی بحران کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

مزید پڑھیں

مضمون کے مطابق قدیم فارس کے زمانے سے لے کر یونانیوں، عثمانیوں اور پرتگالیوں سمیت کئی عالمی طاقتیں آبنائے ہرمز پر قبضہ حاصل کرنے کی کوشش کرتی رہی ہیں۔ 

یہ ایک نہایت اہم تجارتی راستہ رہا ہے اور اس کے ساحل ماضی میں ’قزاقوں کے ساحل‘ کے نام سے بھی جانے جاتے تھے۔

مضمون میں وضاحت کی گئی ہے کہ موجودہ تنازع دراصل اس آبی

 گزرگاہ پر جاری طویل تاریخی کشمکش کا تازہ باب ہے، جس کے ذریعے کبھی مصالحہ جات، ریشم اور انڈین جواہرات بغداد جیسے تجارتی مراکز تک پہنچتے اور وہاں سے یورپ منتقل ہوتے تھے۔

ایران، امریکہ جنگ: اپ ڈیٹ رہنے کے لیے کلک کریں

satellite view of the strait of hormuz with white 2026 03 20 00 09 24 utc
(فوٹو: انٹرنیٹ)

تقریباً دو صدی قبل یورپی تاجروں نے اس علاقے کو ’قزاقوں کا ساحل‘ کا نام دیا، کیونکہ ان کے تجارتی جہازوں پر حملے ہوتے تھے۔ 

یہ حملہ آور آبنائے کے جنوبی ساحل سے آتے تھے، جو آج کے متحدہ عرب امارات کے علاقے پر مشتمل ہے۔

تیل کی دریافت اور ایرانی انقلاب

آبنائے ہرمز کی جدید اسٹراٹیجک اہمیت بیسویں صدی کی تیسری دہائی میں اس وقت بڑھی جب سعودی عرب اور بحرین میں تیل کے بڑے ذخائر دریافت ہوئے، جس سے خطے میں نئی جغرافیائی سیاسی کشمکش نے جنم لیا۔

رپورٹ کے مطابق طویل عرصے تک برطانیہ نے خلیج کے تحفظ کی ذمہ داری سنبھالی، جس کے بعد یہ کردار ایران کے شاہ رضا شاہ پہلوی نے ادا کیا جو امریکہ کے اتحادی تھے۔ 

تاہم 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد صورتحال مکمل طور پر بدل گئی۔

strategic satellite view of the strait of hormuz a 2026 03 20 00 09 22 utc

امریکہ اور ایران کے تعلقات اس وقت شدید کشیدہ ہو گئے جب تہران میں امریکی سفارتکاروں کو یرغمال بنایا گیا، جس کے بعد آبنائے ہرمز سے گزرنے والی تیل کی ترسیل کو لاحق خطرات پر سنجیدہ بحث شروع ہوئی۔

 

1980 میں امریکی صدر جمی کارٹر نے ایک اہم پالیسی پیش کی، جس کا محور آبنائے ہرمز تھا۔ 

انہوں نے کہا کہ خلیج پر کسی بھی بیرونی طاقت کا قبضہ امریکہ کے اہم مفادات پر براہ راست حملہ تصور ہوگا۔

اس کے بعد سے ہر امریکی صدر نے خلیج میں جہاز رانی کے تحفظ کے معاملے پر ایران کا مقابلہ کیا ہے۔

بحری قافلے اور سکیورٹی اخراجات

امریکی صدر رونالڈ ریگن کو 1980 کی دہائی کے آخر میں ایران، عراق جنگ کے دوران اسی نوعیت کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا، جب تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ 

اس کے جواب میں انہوں نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں کی حفاظت کے لیے بحری قافلوں کا انتظام کیا۔

45456446
فوٹو: الجزیرہ

اسی دوران، موجودہ دور کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی 1987 میں ایک کھلا خط شائع کیا، جس میں امریکہ کو چیلنجز کے مقابلے میں ’مضبوطی اور عزم‘ دکھانے پر زور دیا۔

ٹرمپ نے اپنے اس پیغام میں جاپان اور سعودی عرب جیسے اتحادیوں پر زور دیا کہ وہ خلیج کے ذریعے تیل کی ترسیل کے تحفظ کے اخراجات میں حصہ لیں اور خلیج کو امریکہ کے لیے تیل کی فراہمی کے حوالے سے ’نسبتاً کم اہم‘ قرار دیا۔

بشکریہ: وال اسٹریٹ جرنل