وال اسٹریٹ جرنل میں شائع ایک مضمون میں اس تاریخی کشمکش کا جائزہ لیا گیا ہے جو صدیوں سے مختلف سلطنتوں کے درمیان آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے لیے جاری رہی۔
اس وقت ایران، امریکی و اسرائیلی حملے کے ردعمل میں، اس اہم گزرگاہ کو گھیرے میں لیے ہوئے ہے، جس سے عالمی توانائی بحران کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
مزید پڑھیں
مضمون کے مطابق قدیم فارس کے زمانے سے لے کر یونانیوں، عثمانیوں اور پرتگالیوں سمیت کئی عالمی طاقتیں آبنائے ہرمز پر قبضہ حاصل کرنے کی کوشش کرتی رہی ہیں۔
یہ ایک نہایت اہم تجارتی راستہ رہا ہے اور اس کے ساحل ماضی میں ’قزاقوں کے ساحل‘ کے نام سے بھی جانے جاتے تھے۔
مضمون میں وضاحت کی گئی ہے کہ موجودہ تنازع دراصل اس آبی
گزرگاہ پر جاری طویل تاریخی کشمکش کا تازہ باب ہے، جس کے ذریعے کبھی مصالحہ جات، ریشم اور انڈین جواہرات بغداد جیسے تجارتی مراکز تک پہنچتے اور وہاں سے یورپ منتقل ہوتے تھے۔
ایران، امریکہ جنگ: اپ ڈیٹ رہنے کے لیے کلک کریں
تقریباً دو صدی قبل یورپی تاجروں نے اس علاقے کو ’قزاقوں کا ساحل‘ کا نام دیا، کیونکہ ان کے تجارتی جہازوں پر حملے ہوتے تھے۔
یہ حملہ آور آبنائے کے جنوبی ساحل سے آتے تھے، جو آج کے متحدہ عرب امارات کے علاقے پر مشتمل ہے۔
تیل کی دریافت اور ایرانی انقلاب
آبنائے ہرمز کی جدید اسٹراٹیجک اہمیت بیسویں صدی کی تیسری دہائی میں اس وقت بڑھی جب سعودی عرب اور بحرین میں تیل کے بڑے ذخائر دریافت ہوئے، جس سے خطے میں نئی جغرافیائی سیاسی کشمکش نے جنم لیا۔
رپورٹ کے مطابق طویل عرصے تک برطانیہ نے خلیج کے تحفظ کی ذمہ داری سنبھالی، جس کے بعد یہ کردار ایران کے شاہ رضا شاہ پہلوی نے ادا کیا جو امریکہ کے اتحادی تھے۔
تاہم 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد صورتحال مکمل طور پر بدل گئی۔
امریکہ اور ایران کے تعلقات اس وقت شدید کشیدہ ہو گئے جب تہران میں امریکی سفارتکاروں کو یرغمال بنایا گیا، جس کے بعد آبنائے ہرمز سے گزرنے والی تیل کی ترسیل کو لاحق خطرات پر سنجیدہ بحث شروع ہوئی۔
مزید پڑھیں
1980 میں امریکی صدر جمی کارٹر نے ایک اہم پالیسی پیش کی، جس کا محور آبنائے ہرمز تھا۔
انہوں نے کہا کہ خلیج پر کسی بھی بیرونی طاقت کا قبضہ امریکہ کے اہم مفادات پر براہ راست حملہ تصور ہوگا۔
اس کے بعد سے ہر امریکی صدر نے خلیج میں جہاز رانی کے تحفظ کے معاملے پر ایران کا مقابلہ کیا ہے۔
بحری قافلے اور سکیورٹی اخراجات
امریکی صدر رونالڈ ریگن کو 1980 کی دہائی کے آخر میں ایران، عراق جنگ کے دوران اسی نوعیت کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا، جب تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
اس کے جواب میں انہوں نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں کی حفاظت کے لیے بحری قافلوں کا انتظام کیا۔
اسی دوران، موجودہ دور کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی 1987 میں ایک کھلا خط شائع کیا، جس میں امریکہ کو چیلنجز کے مقابلے میں ’مضبوطی اور عزم‘ دکھانے پر زور دیا۔
ٹرمپ نے اپنے اس پیغام میں جاپان اور سعودی عرب جیسے اتحادیوں پر زور دیا کہ وہ خلیج کے ذریعے تیل کی ترسیل کے تحفظ کے اخراجات میں حصہ لیں اور خلیج کو امریکہ کے لیے تیل کی فراہمی کے حوالے سے ’نسبتاً کم اہم‘ قرار دیا۔
بشکریہ: وال اسٹریٹ جرنل