ایک شخص کو گھر پہنچائی جانے والی خوراک کھانے کے بعد معدے کی شدید بیماری لاحق ہوئی۔
اس واقعے نے خوراک کی ترسیل کی بعض خطرناک عادات اور غذائی تحفظ کے اصولوں کی اہمیت پر دوبارہ روشنی ڈالی ہے۔
کارڈیوولوجی کے ماہر ڈاکٹر خالد النمر نے خبردار کیا کہ خوراک کے دیر سے پہنچنے یا اس کے درجہ حرارت میں تبدیلی کے باعث فوڈ پوائزننگ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، خاص طور پر مختلف موسمی حالات میں۔
سبق ویب سائٹ کے مطابق ڈاکٹر النمر نے بتایا اگر کھانے کی ترسیل ایک گھنٹے سے زیادہ ہو اور بیرونی درجہ حرارت 32 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر ہو، یا دو گھنٹے سے زیادہ ہو اور درجہ حرارت 32 ڈگری سے کم ہو، اور کھانا صارف تک پہنچتے وقت 60 ڈگری سے کم گرم یا 5 ڈگری سے زیادہ ٹھنڈا ہو، تو اس سے فوڈ پوائزننگ کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے۔
انہوں نے صارفین کو ہدایت کی کہ اگر گھر پر کھانا پکانا ممکن نہ ہو تو فوڈ ڈیلیوری ایپلیکیشنز کے ذریعے کھانے کا آرڈر دیتے وقت احتیاط برتیں، اور درج ذیل حفاظتی اقدامات کریں:
- فراہم کنندگان کو لازمی ہدایت دیں کہ کھانے کو حرارتی طور پر معزول تھیلے میں رکھیں تاکہ ترسیل کے دوران درجہ حرارت برقرار رہے۔
- اگر ممکن ہو تو کھانے کا درجہ حرارت چیک کرنے کے لیے تھرمامیٹر کا استعمال کریں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ خوراک خطرناک درجہ حرارت کی حد سے باہر ہے۔
یہ اقدامات صارفین کی صحت کی حفاظت اور فوڈ پوائزننگ کے خطرات کو کم کرنے کے لیے اہم ہیں۔