ایران کی مجلسِ خبرگان رہبری نے آج پیر کو علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا سپریم لیڈر مقرر کیا ہے۔
سبق ویب سائٹ کے مطابق مجلس خبرگان رہبری کی طرف سے مجتبى خامنہ ای نیا سپریم لیڈر مقرر کرنے میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ تہران میں سخت گیر دھڑے کا کنٹرول برقرار ہے۔
یہ فیصلہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ تنازع کے ایک ہفتے کے اندر سامنے آیا ہے۔
ایران، امریکہ جنگ: اپ ڈیٹ رہنے کے لیے کلک کریں
نئے سپریم لیڈر مجتبى خامنہ ای درمیانے درجے کے مذہبی رہنما ہیں جنہیں ایرانی سیکیورٹی فورسز میں وسیع اثر و رسوخ حاصل ہے۔
وہ اپنے والد کے زیر سایہ بننے والے بڑے کاروباری نیٹ ورکس کی نگرانی بھی کرتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ سپریم لیڈر کے لیے سب سے مضبوط امیدوار تھے، جنہیں مجلس خبرگان رہبری نے ووٹ دے کر اس عہدے پر فائز کیا جو 88 مذہبی رہنماؤں پر مشتمل ہے اور ایران کے سپریم لیڈر کا انتخاب کرتی ہے۔