سری لنکا کی بحریہ نے ایرانی سپلائی جنگی جہاز ,آئرس بوشہرَ پر ملک کے ساحل کے قریب کنٹرول حاصل کر لیا اور 200 سے زائد بحری عملے کو ساحل پر منتقل کر دیا ہے۔
یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب امریکی سب میرین نے جزیرے کے نزدیک ایک اور ایرانی جنگی جہاز کو ڈبو دیا جس کے بعد بحری کشیدگی میں اضافہ ہوا۔
خبر رساں ادارے ایسوشی ایٹڈ پریس کے مطابق جمعہ کو سری لنکا کی بحریہ نے آئرس بوشہر کے 204 بحریوں کو دار الحکومت کولمبو کے قریب ویلیسارا نیول بیس پر منتقل کرنا شروع کیا، کیونکہ جہاز نے بیرونی سری لنکا کی آبی حدود میں رکتے ہوئے انجن میں خرابی کی وجہ سے مدد طلب کی تھی۔
ایران، امریکہ جنگ: کیا ہو رہا ہے؟ باخبر رہنے کے لیے کلک کریں
ایسوشی ایٹڈ پریس نے مزید بتایا کہ تقریباً 15 ایرانی عملے کے افراد ابھی بھی جہاز پر موجود ہیں تاکہ سری لنکا کے عملے کی تکنیکی ہدایات اور نظام چلانے میں مدد کر سکیں۔
سری لنکا کی بحریہ کے ترجمان کمانڈر بودیکا سامباتھ نے کہا کہ جہاز مستقبل قریب میں مقامی نگرانی میں رہے گا جب تک کہ تمام قانونی کارروائیاں اور تحقیقات مکمل نہیں ہو جاتیں۔
ادھر سری لنکا کے صدر انورا کومارا ڈیسانا یاکی نے ملک کے غیر جانبدار رہنے کے موقف پر زور دیا اور کہا کہ ہم کسی بھی ملک کے ساتھ نہیں جھکیں گے اور نہ ہی کسی ملک کے سامنے سر جھکائیں گے۔