مملکت بھر کی مساجد میں آج 3 رمضان 1447ھ کو خطبۂ جمعہ کا موضوع یکساں رکھا گیا، جس میں ماہِ صیام کے فضائل، ایمانی اور اخلاقی اقدار کے فروغ، اسراف سے اجتناب اور مساجد کے اطراف گداگری کی روک تھام پر زور دیا گیا۔
مزید پڑھیں
یہ اقدام خصوصی طور پر وزیرِ اسلامی امور، دعوت و ارشاد شیخ ڈاکٹر عبداللطیف بن عبدالعزیز آل الشیخ کی ہدایات پر عمل درآمد کے تحت کیا گیا ہے۔
خطبا نے اپنے خطبات میں رمضان المبارک کو عبادت اور اطاعت کا عظیم موسم قرار دیتے ہوئے اس کی خصوصی فضیلت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے نبی کریمﷺ کا فرمان نقل کیا کہ رمضان کے داخل ہوتے ہی جنت کے
دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے۔
اسی طرح قرآن کریم کی آیت ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ﴾ کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا گیا کہ روزے کا بنیادی مقصد تقویٰ کا حصول اور کردار کی اصلاح ہے۔
علمائے کرام نے نمازیوں کو تلقین کی کہ وہ رمضان کے دنوں اور راتوں کو سچی توبہ، کثرتِ عبادت اور صدقہ و خیرات میں صرف کریں۔ انہوں نے افطار کرانے کی فضیلت، ضرورت مندوں کی خبرگیری اور ان کی ضروریات پوری کرنے کی اہمیت بیان کی، تاہم خبردار کیا کہ اس بابرکت مہینے کو غیر مستحق افراد کی جانب سے چندہ جمع کرنے کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے۔
خطبات میں گھروں اور اجتماعی افطار دسترخوانوں پر کھانے پینے میں نمود و نمائش اور ضرورت سے زیادہ اشیا رکھنے کے رجحان پر بھی تنقید کی گئی۔
اس موقع پر قرآن کریم کی آیات ﴿وَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ﴾ اور ﴿إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ﴾ کا حوالہ دیتے ہوئے اسراف اور فضول خرچی سے بچنے، اعتدال اختیار کرنے، نعمتوں کی قدر کرنے اور محتاجوں کے حالات کو یاد رکھنے کی تلقین کی گئی۔
علما نے مساجد کے اطراف گداگری کے بڑھتے ہوئے رجحان پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ عبادت کے ماحول کو استحصال کا ذریعہ نہیں بننے دینا چاہیے۔
انہوں نے زور دیا کہ صدقات اور عطیات صرف سرکاری اور مستند ذرائع کے ذریعے دیے جائیں تاکہ امداد حقیقی مستحقین تک پہنچ سکے۔ ساتھ ہی متعلقہ اداروں کے ساتھ تعاون اور گداگری کے واقعات کی اطلاع دینے کی بھی اپیل کی گئی تاکہ اللہ کے گھروں کی حرمت اور معاشرے کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
خطبوں میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی کہ روزہ تعلیمی یا پیشہ ورانہ ذمہ داریوں میں کوتاہی کا جواز نہیں بننا چاہیے۔ مسلمان کو ہر حال میں محنت، نظم و ضبط اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے تاکہ روزے کے اثرات اس کی عملی زندگی میں بھی نمایاں ہوں۔
وزارتِ اسلامی امور، دعوت و ارشاد کی جانب سے مملکت بھر میں یکساں خطبات کا اہتمام اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ منابر کو مثبت سماجی رہنمائی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، تاکہ معاشرے میں دینی شعور کو فروغ دیا جائے، اعتدال اور میانہ روی کی اقدار کو مضبوط کیا جائے اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا جائے جو اپنی اسلامی شناخت اور ذمہ داریوں پر فخر کرے۔