براہ راست نشریات

امریکہ کی دہری حکمت عملی: جنگ بھی، مذاکرات بھی

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
US-Iran Diplomacy

امریکہ نے ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کے لیے فوجی طاقت اور سفارت کاری دونوں راستے کھلے رکھے ہیں۔ ایک جانب محدود فوجی کارروائیوں کا امکان موجود ہے، جبکہ دوسری جانب جوہری معاہدے کے لیے تکنیکی مذاکرات بھی جاری ہیں۔

خطے میں ایک بار پھر فوجی کشیدگی بڑھنے کے باوجود امریکی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ سفارتی رابطے اب بھی جاری ہیں، اور دونوں ممالک کے درمیان جوہری تنازع کے حل کے لیے تکنیکی مذاکرات کا سلسلہ برقرار ہے، تاہم ضرورت پڑنے پر فوجی کارروائی کا آپشن بھی برقرار رکھا گیا ہے۔

امریکی انتظامیہ کے ایک عہدیدار نے جمعرات کو جرمن خبر رساں ایجنسی ڈی پی اے کو بتایا کہ واشنگٹن اب بھی تہران کے ساتھ بحران کا سفارتی حل تلاش کرنے کے لیے پُرعزم ہے اور تکنیکی سطح کے مذاکرات مسلسل جاری ہیں۔ 

مزید پڑھیں

تاہم انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایرانی قیادت کا حالیہ طرزِ عمل دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے فریم ورک معاہدے کی ناقابلِ قبول خلاف ورزی ہے۔

اسی تناظر میں امریکی ویب سائٹ ایکسِیوس نے ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اب بھی مذاکراتی راستہ اختیار کیے ہوئے ہے اور دونوں ممالک کی 

تکنیکی ٹیمیں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق نئے معاہدے تک پہنچنے کے لیے کام کر رہی ہیں۔

US Iran Conflict

امریکی عہدیدار نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے حالیہ ایرانی حملوں کے بارے میں اپنا مؤقف کسی ابہام کے بغیر واضح کر دیا ہے۔ 

ان کے مطابق آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانا دہشت گردی کے مترادف ہے، جبکہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کا انحصار ایران کی عملی پابندی پر ہے۔ 

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی حالیہ کارروائیاں انتہائی ناقابلِ قبول کارکردگی کی ناکامی کی عکاس ہیں۔

ہم سے جڑے رہیں

یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں فوجی کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر چکی ہے۔ 

امریکہ نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے جواب میں ایران کے اندر متعدد مقامات پر فضائی حملے کیے، جبکہ تہران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے خطے میں امریکی اڈوں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس سے وسیع تر تصادم کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

دوسری جانب امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے انکشاف کیا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے پس پردہ سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں، جن میں پاکستان اور قطر دونوں فریقوں کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

امریکہ ایران کشیدگی

عہدیدار کے مطابق امریکی حکمتِ عملی اس وقت محدود فوجی کارروائیاں کرنے اور پھر جان بوجھ کر وقفہ دینے پر مبنی ہے تاکہ کشیدگی مزید نہ بڑھے اور سفارتی کوششوں کو کامیاب ہونے کا موقع مل سکے۔ 

انہوں نے بتایا کہ امریکہ کے پاس ممکنہ اہداف کی ایک فہرست موجود ہے، جسے ضرورت پڑنے پر دباؤ بڑھانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہام لنکن کا عملہ گزشتہ روز ممکنہ فضائی حملوں کی تیاری کر چکا تھا، تاہم اس وقت امریکہ ایران کے خلاف کوئی نئی فوجی کارروائی نہیں کر رہا۔

خصوصی رپورٹ
صرف آپ کے لیے، کلک کریں

ادھر ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق جمعرات کی شب دو شہروں میں واقع فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ اسرائیلی حکام نے کہا کہ انہیں فی الحال ایران کے اندر ہونے والے ان حملوں میں اسرائیل کے کسی کردار کی کوئی اطلاع نہیں۔

امریکی عہدیدار نے آخر میں اس بات کی تصدیق کی کہ ایران کے جوہری پروگرام پر تکنیکی مذاکرات بدستور جاری ہیں اور سفارتی حل کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ زمینی صورتحال تیزی سے بدل سکتی ہے اور اگر حالات نے تقاضا کیا تو امریکہ دوبارہ فوجی کارروائیاں شروع کر سکتا ہے۔

📚 اس رپورٹ کے ذرائع 7 مستند ذرائع Axios امریکی نیوز پلیٹ فارم اصل رپورٹ پڑھیں ↗ Axios امریکی نیوز پلیٹ فارم اصل رپورٹ پڑھیں ↗ Reuters عالمی خبر رساں ادارہ اصل رپورٹ پڑھیں ↗ Associated Press (AP) بین الاقوامی خبر رساں ادارہ اصل رپورٹ پڑھیں ↗ Associated Press (AP) بین الاقوامی خبر رساں ادارہ اصل رپورٹ پڑھیں ↗ The Guardian برطانوی بین الاقوامی اخبار اصل رپورٹ پڑھیں ↗ The Economic Times معاشی و بین الاقوامی خبریں اصل رپورٹ پڑھیں ↗
یہ رپورٹ متعدد معتبر بین الاقوامی خبر رساں اداروں، عالمی میڈیا پلیٹ فارمز اور دستیاب معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے تاکہ قارئین تک درست، متوازن اور قابلِ اعتماد معلومات پہنچائی جا سکیں۔

BY: overseaspost.net