براہ راست نشریات

امریکی-اسپین تعلقات: ٹرمپ اور سانچیز کے درمیان بڑھتا ہوا شدید تناؤ

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
امریکی-اسپین تعلقات اور ٹرمپ سانچیز کے درمیان بڑھتے ہوئے سفارتی تناؤ کا منظر
ٹرمپ نے میڈرڈ کو نیٹو میں ایک ناکام اور غیر موثر شراکت دار قرار دیا ہے (فوٹو: الجزیرہ)

امریکی-اسپین تعلقات میں اس وقت تاریخی گراوٹ دیکھی جا رہی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسپین کے ساتھ تمام تجارتی روابط منقطع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

مزید پڑھیں

ٹرمپ نے میڈرڈ کو نیٹو  میں ایک ناکام اور غیر موثر شراکت دار قرار دیا ہے، جس نے امریکی-اسپین تعلقات  کے حوالے سے سفارتی اور عسکری تناؤ کو عروج پر پہنچا دیا ہے۔

تاریخی پس منظر اور گہرے اختلافات

تاریخی طور پر اسپین ان چند ممالک میں شامل رہا ہے جس نے امریکی انقلاب اور آزادی کی جنگ میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

1781ء میں یارک ٹاؤن کی جنگ میں اسپین کی جانب سے فراہم کردہ مدد واشنگٹن کی آزادی کی بنیاد بنی، لیکن موجودہ دور میں یہ تعلقات شکوک و شبہات کا شکار ہو چکے ہیں۔

ہم سے جڑے رہیں

اسپین کو شکایت ہے کہ واشنگٹن نے ان کی تاریخی مدد کو فراموش کیا ہے۔

1898ء کی اسپینش-امریکن جنگ کے بعد کیریبین اور بحر الکاہل میں علاقائی نقصان اور دوسری جنگ عظیم کے بعد ’مارشل پلان‘ سے محرومی نے ہسپانوی عوام میں امریکہ مخالف جذبات کو جنم دیا، جو آج سیاسی ایوانوں تک پہنچ چکے ہیں۔

غزہ جنگ: تنازع کا مرکزی نقطہ

غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ نے واشنگٹن اور میڈرڈ کے مابین نظریاتی خلیج کو عیاں کر دیا ہے۔

جہاں ٹرمپ انتظامیہ اسرائیل کی غیر مشروط حمایت کر رہی ہے، وہیں ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے کھل کر اس صورتحال کو ’نسل کشی‘ قرار دیا ہے۔ 

امریکی-اسپین تعلقات اور ٹرمپ سانچیز کے درمیان بڑھتے ہوئے سفارتی تناؤ کا منظر
اسپین جنگ آزادی کے دوران امریکی انقلابیوں کا ایک اہم اتحادی تھا (فوٹو: الجزیرہ)

میڈرڈ حکومت نے فلسطین کو ایک خودمختار ریاست کے طور پر بھی تسلیم کر لیا ہے۔

ستمبر 2025ء میں اسپین نے اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کر دی  ہے اور فوجی سازوسامان کی فراہمی کے تقریباً ایک ارب ڈالر کے معاہدے منسوخ کر دیے ہیں۔

اس میں 700 ملین یورو کے ’سیلام‘ راکٹ لانچرز اور 287.5 ملین یورو کے ’سپائک‘ میزائل سودے بھی شامل تھے، جس پر امریکی وزارت خارجہ نے شدید ناراضی کا اظہار کیا۔

عسکری اور معاشی محاذ آرائی

ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ بڑھتے ہوئے تناؤ میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب اسپین نے نیٹو کے اس مطالبے کو مسترد کر دیا جس میں جی ڈی پی کا 5 فیصد دفاع پر خرچ کرنا لازمی قرار دیا گیا تھا۔

سانچیز کا مؤقف ہے کہ یہ اضافہ اسپین کے ’ویلفیئر اسٹیٹ‘ کے تصور اور سماجی خدمات کے منافی ہے۔

اس کے علاوہ میڈرڈ نے واشنگٹن کی مرضی کے برخلاف چین کے ساتھ اپنے معاشی تعلقات کو وسعت دی ہے، جس کے نتیجے میں چین اب یورپی یونین سے باہر اسپین کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بن چکا ہے۔

2024ء میں اسپین نے چین سے 45 ارب یورو (48.6 ارب ڈالر) کی مصنوعات درآمد کیں، جو دونوں ممالک کے گہرے ہوتے تعلقات کی عکاسی کرتی ہیں۔

ایران، ہجرت اور عالمی نظم

فروری 2026ء میں ایران کے خلاف شروع ہونے والی امریکی-اسرائیلی جنگ پر اسپین کا مؤقف سب سے زیادہ سخت ثابت ہوا۔

سانچیز نے نہ صرف فوجی کارروائی کی مذمت کی بلکہ امریکی فوج کو اپنے ’مورون‘ اور ’روٹا‘ فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دینے سے بھی انکار کر دیا، جسے ٹرمپ نے اپنی توہین اور نیٹو کے اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیا۔

امریکی-اسپین تعلقات اور ٹرمپ سانچیز کے درمیان بڑھتے ہوئے سفارتی تناؤ کا منظر
چین اب یورپی یونین سے باہر اسپین کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بن چکا ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

سانچیز نے ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی پر بھی کڑی تنقید کی۔ ان کا کہنا ہے کہ اسپین میں تارکین وطن کی بدولت سماجی تحفظ کے نظام کو 10 فیصد ریونیو ملتا ہے، جبکہ اس پر عوامی اخراجات محض 1 فیصد ہیں۔

اسی طرح ٹرمپ کا تارکین وطن کو جرم قرار دینے کا بیانیہ سانچیز کے نزدیک ایک بڑی غلطی ہے۔

امریکی-اسپین تعلقات میں حالیہ کشیدگی محض سفارتی بحران نہیں، بلکہ دو مختلف عالمی نظریات کا ٹکراؤ ہے۔

پیڈرو سانچیز کا آزادانہ مؤقف اور ٹرمپ کی ’امریکہ فرسٹ‘ پالیسی نے بحر اوقیانوس کے آر پار تعلقات کو ایک غیر یقینی موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ 

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ تناؤ برقرار رہا تو نیٹو کے اتحاد اور مستقبل پر اس کے سنگین اور دُور رس نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔

ہم سے جڑے رہیں