انٹرنیٹ اب صرف رابطے کا ذریعہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کی بنیادی شہ رگ بن چکا ہے۔
دنیا کے مختلف ممالک کے تجربات سے ثابت ہوا ہے کہ صرف 24 گھنٹے کی مکمل انٹرنیٹ بندش بینکنگ، ای کامرس، سپلائی چین، ٹرانسپورٹ، سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کو شدید متاثر کرتے ہوئے کروڑوں اور بعض اوقات اربوں ڈالر کے معاشی نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔
انٹرنیٹ اب محض رابطے کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ عالمی معیشت کی بنیادی شہ رگ بن چکا ہے۔ بینکنگ، ای کامرس، نقل و حمل، سرکاری خدمات، سپلائی چینز، صنعتیں، ریموٹ ورک، ڈیٹا سینٹرز اور چھوٹے کاروبار، سب کی روزمرہ سرگرمیاں مسلسل انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی پر منحصر ہیں۔
اسی لیے آج انٹرنیٹ کی بندش صرف ایک تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ ایک بڑا معاشی بحران بن سکتی ہے، جو چند ہی گھنٹوں میں ادائیگیوں کے نظام، تجارت، لاجسٹکس، پیداوار اور سرمایہ کاری کے ماحول کو متاثر کر دیتی ہے۔
بعض ممالک میں صرف 24 گھنٹے کی مکمل بندش سینکڑوں ملین ڈالر کے معاشی نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔
مزید پڑھیں
مختلف ممالک کے تجربات واضح کرتے ہیں کہ انٹرنیٹ کی بندش اب معیشت کے تقریباً ہر شعبے کو متاثر کرنے والی معاشی ہنگامی صورتحال بن چکی ہے، اور جوں جوں بندش کا دورانیہ بڑھتا ہے، نقصانات بھی اسی رفتار سے بڑھتے جاتے ہیں۔
مصر
2011 کے انقلاب کے دوران مصر میں تقریباً 5 روز تک انٹرنیٹ معطل رہا، جسے کسی ایک ملک میں انٹرنیٹ بندش کی نمایاں ترین مثالوں
میں شمار کیا جاتا ہے۔
اقتصادی تعاون و ترقی کی تنظیم OECD کے مطابق اس بندش سے براہِ راست تقریباً 90 ملین ڈالر کا معاشی نقصان ہوا، جبکہ سیاحت، سرمایہ کاری اور دیگر شعبوں کو پہنچنے والے بالواسطہ نقصانات اس میں شامل نہیں تھے۔
اس دوران بین الاقوامی کال سینٹرز، مالیاتی لین دین اور متعدد کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں، جس سے جدید معیشت میں انٹرنیٹ کی اہمیت نمایاں ہو کر سامنے آئی۔
ادھر NetBlocks کی COST ٹول کے مطابق اگر آج مصر میں 24 گھنٹے کے لیے مکمل انٹرنیٹ بند ہو جائے تو ممکنہ معاشی نقصان تقریباً 125.1 ملین ڈالر ہو سکتا ہے۔
یہ ٹول معیشت کے حجم، انٹرنیٹ صارفین کی تعداد اور ڈیجیٹل انحصار جیسے عوامل کی بنیاد پر ممکنہ نقصانات کا تخمینہ لگاتا ہے، تاہم یہ حقیقی نقصانات نہیں بلکہ مفروضاتی اندازے ہوتے ہیں، جو ہر واقعے میں اس کی نوعیت، مدت اور متاثرہ شعبوں کے لحاظ سے مختلف ہو سکتے ہیں۔
ایران
ایران میں جون 2025 کے دوران انٹرنیٹ پر سخت پابندیاں عائد کی گئیں، جبکہ 2026 میں مزید شدید بندشیں دیکھنے میں آئیں۔
ایران چیمبر آف کامرس کی نالج بیسڈ بزنس کمیٹی کے سربراہ افشین کلاہی کے مطابق انٹرنیٹ کی بندش سے روزانہ 30 سے 40 ملین ڈالر تک براہِ راست نقصان ہوتا ہے، جبکہ بالواسطہ اثرات شامل کیے جائیں تو یہ نقصان 80 ملین ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔
دوسری جانب NetBlocks کی COST ٹول کے مطابق ایران میں 24 گھنٹے کی مکمل بندش سے ممکنہ معاشی نقصان تقریباً 37.4 ملین ڈالر بنتا ہے۔
سوڈان
حالیہ برسوں میں سوڈان میں انٹرنیٹ کی بار بار بندش نے بینکنگ، مالی ترسیلات، ای کامرس اور دیگر معاشی سرگرمیوں کو شدید متاثر کیا۔
اگرچہ موجودہ حالات میں حقیقی نقصانات کا درست اندازہ لگانا مشکل ہے، تاہم COST ٹول کے مطابق ایک دن کی مکمل بندش سے تقریباً 5.8 ملین ڈالر کا ممکنہ نقصان ہو سکتا ہے۔
پاکستان
بین الاقوامی اندازوں کے مطابق 2024 کے دوران بار بار انٹرنیٹ بند ہونے سے پاکستان کی معیشت کو تقریباً 1.62 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا۔
ٹیکنالوجی کمپنیوں نے خبردار کیا ہے کہ انٹرنیٹ پر مزید پابندیاں معیشت کو 300 ملین ڈالر اضافی نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس (PIDE) کے مطابق صرف 24 گھنٹے کی بندش سے معیشت کو 1.3 ارب پاکستانی روپے (تقریباً 4.5 ملین ڈالر) کا نقصان ہوتا ہے، جو یومیہ جی ڈی پی کا تقریباً 0.57 فیصد بنتا ہے۔
اسی دوران COST ٹول پاکستان کے لیے 24 گھنٹے کی مکمل بندش کا ممکنہ نقصان 53.2 ملین ڈالر ظاہر کرتی ہے۔
بنگلہ دیش
Internet Society کے مطابق اگست 2024 میں صرف ایک روز کی انٹرنیٹ بندش سے براہِ راست 410 ہزار ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا، جبکہ اس میں چھوٹے کاروبار، فری لانسرز، ای کامرس پلیٹ فارمز اور بعد کے معاشی اثرات شامل نہیں تھے۔
اسی کے برعکس COST ٹول کے مطابق اگر ملک بھر میں مکمل بندش ہو تو 24 گھنٹے میں ممکنہ نقصان 78.7 ملین ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔
میانمار
سیاسی بحران کے باعث 2021 میں میانمار کو انٹرنیٹ بندش سے تقریباً 2.8 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا، جس سے یہ اس سال دنیا کا سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک بن گیا۔
2023 میں بھی مسلسل پابندیوں اور بندشوں کے باعث تقریباً ایک ارب ڈالر کے قریب معاشی نقصان ریکارڈ کیا گیا۔
COST ٹول کے مطابق اس وقت 24 گھنٹے کی مکمل بندش کا ممکنہ نقصان 21.9 ملین ڈالر ہے۔
روس، بھارت اور ایتھوپیا
بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق روس کو مختلف برسوں میں انٹرنیٹ پابندیوں کے باعث مجموعی طور پر اربوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا، جبکہ بعض تخمینے 4 ارب ڈالر سے بھی تجاوز کرتے ہیں۔
بھارت میں بھی 2023 کے ایک حصے کے دوران انٹرنیٹ بندش سے معیشت کو تقریباً 1.9 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا۔
COST ٹول کے مطابق اگر روس میں 24 گھنٹے مکمل انٹرنیٹ بند ہو جائے تو ممکنہ نقصان 404.7 ملین ڈالر جبکہ بھارت میں یہی نقصان 1.4 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔
ادھر ایتھوپیا کو 2023 میں انٹرنیٹ بندش سے تقریباً 1.6 ارب ڈالر کا معاشی نقصان برداشت کرنا پڑا۔
سب سے پہلے بینک متاثر ہوتے ہیں
مالیاتی شعبہ انٹرنیٹ پر سب سے زیادہ انحصار کرتا ہے، کیونکہ بینکوں، ادائیگیوں کے نیٹ ورکس اور کلیئرنگ سسٹمز کے درمیان ہر لمحہ رابطہ ضروری ہوتا ہے۔
2021 میں یوگنڈا کے انتخابات کے دوران انٹرنیٹ بند ہونے سے RTGS نظام، الیکٹرانک فنڈ ٹرانسفر، 13 ہزار سے زائد بینکنگ ایجنٹس، اے ٹی ایمز اور آن لائن بینکنگ سروسز معطل ہو گئیں۔
24 گھنٹے انٹرنیٹ بند رہنے کی لاگت
بھارت کو سب سے زیادہ معاشی نقصان، دیگر ممالک بہت پیچھے
ای کامرس فوری طور پر رک جاتی ہے
ای کامرس مکمل طور پر انٹرنیٹ پر منحصر ہے، اس لیے بندش کے ساتھ ہی خرید و فروخت تقریباً فوری طور پر رک جاتی ہے۔
بھارتی ادارے ICRIER کی تحقیق کے مطابق 2012 سے 2017 کے درمیان انٹرنیٹ بندش سے ای کامرس، فری لانسرز، سیاحت اور آن لائن بکنگ کا شعبہ سب سے زیادہ متاثر ہوا، جس سے بھارتی معیشت کو تقریباً 3 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا۔
افریقہ میں ای کامرس مارکیٹ کا حجم 2032 تک 940 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ انٹرنیٹ کی بڑی بندش آرڈرز، ادائیگیوں، انوینٹری مینجمنٹ اور سپلائی چین کو براہِ راست متاثر کر سکتی ہے۔
ٹرانسپورٹ اور ڈیلیوری سروسز بھی متاثر
رائیڈ ہیلنگ اور ڈیلیوری کمپنیاں مکمل طور پر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر کام کرتی ہیں۔
2021 میں یوگنڈا کی انٹرنیٹ بندش کے دوران SafeBoda کی خدمات معطل ہو گئیں، جس کے پلیٹ فارم سے 20 ہزار سے زائد ڈرائیور وابستہ تھے۔
اس کے نتیجے میں ہزاروں افراد روزگار سے محروم ہوئے جبکہ صارفین اور کاروبار بھی متاثر ہوئے۔
چھوٹے کاروبار سب سے زیادہ کمزور
اگرچہ بڑی کمپنیاں متبادل منصوبے رکھتی ہیں، لیکن چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار انٹرنیٹ بندش کے دوران سب سے زیادہ نقصان اٹھاتے ہیں۔
عالمی اقتصادی فورم کے مطابق یہی شعبہ ڈیجیٹل خطرات اور بنیادی خدمات کی بندش کے مقابلے میں سب سے زیادہ غیر محفوظ سمجھا جاتا ہے۔
سرمایہ کاری اور سپلائی چین پر بھی اثر
انٹرنیٹ بحال ہونے کے بعد بھی اس کے اثرات ختم نہیں ہوتے۔
بار بار بندش سرمایہ کاروں کا اعتماد کم کرتی ہے، کاروباری لاگت بڑھاتی ہے، توسیعی منصوبوں کو سست کرتی ہے اور عالمی کمپنیوں کے لیے مسلسل رابطے کو مشکل بنا دیتی ہے۔
اسی طرح شپمنٹ میں تاخیر، بین الاقوامی ادائیگیوں میں رکاوٹ، سپلائرز سے رابطے کے مسائل اور جدید فیکٹریوں کی ڈیجیٹل پیداواری لائنوں میں تعطل بھی معیشت پر طویل مدتی منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔
معیشت کی نئی شہ رگ
ڈیجیٹل تبدیلی، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور مصنوعی ذہانت کے دور میں انٹرنیٹ اب صرف رابطے کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک بنیادی معاشی انفراسٹرکچر بن چکا ہے، جس کی اہمیت بجلی، شاہراہوں اور ٹرانسپورٹ نیٹ ورکس سے کم نہیں۔
اسی لیے آج انٹرنیٹ کی بندش کا نقصان صرف ٹیلی کام کمپنیوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ بینکوں، ای کامرس پلیٹ فارمز، لاجسٹکس، ٹرانسپورٹ، سرمایہ کاری، سپلائی چینز اور لاکھوں چھوٹے کاروباروں تک پھیل جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جدید معیشت میں صرف 24 گھنٹے کی انٹرنیٹ بندش کی قیمت محض رابطہ منقطع ہونے سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔