عراقی وزارتِ خارجہ نے سعودی عرب پر مبینہ ڈرون حملے کی خبروں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
بغداد کا کہنا ہے کہ عراقی فضائی حدود میں کسی ڈرون کی سرگرمی ریکارڈ نہیں ہوئی جبکہ سعودی عرب نے عراق کی سمت سے آنے والے 3 ڈرونز تباہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
واقعے نے خطے میں جاری ایران، امریکہ اور اسرائیل کشیدگی کے دوران نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔
عراق نے سعودی حکام سے مطالبہ کیا کہ دونوں ممالک اس معاملے سے متعلق معلومات اور انٹیلی جنس کا تبادلہ کریں تاکہ حقائق تک رسائی حاصل کی جا سکے اور خطے میں امن و استحکام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
عراقی وزارتِ خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ بغداد برادر ممالک کی سلامتی اور خودمختاری کے احترام کی پالیسی پر قائم ہے اور کسی بھی ایسے اقدام کو مسترد کرتا ہے جو خطے کے امن یا قومی سلامتی کو نقصان پہنچائے۔
وزارت نے سعودی عرب کے ساتھ مسلسل رابطے اور تعاون جاری رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
دوسری جانب عراق نے تصدیق کی ہے کہ سعودی عرب کو نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کے پس منظر اور تفصیلات جاننے کے لیے باضابطہ تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں، اگرچہ عراقی حکام کے مطابق فضائی حدود میں کسی ڈرون کی پرواز یا لانچنگ کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔
یہ واقعہ ایسے حساس وقت میں پیش آیا ہے جب خطے میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی شدت اختیار کر چکی ہے، اور 28 فروری سے جاری جنگ نے پورے مشرقِ وسطیٰ کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر رکھا ہے۔
عراقی حکومت بارہا یہ مؤقف دہرا چکی ہے کہ وہ خود کو علاقائی جنگ سے دور رکھنا چاہتی ہے اور اپنی سرزمین کو کسی بھی پڑوسی ملک کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دے گی۔ادھر نئے عراقی وزیرِ اعظم علی الزیدی نے بھی پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد اعلان کیا تھا کہ ان کی حکومت ریاست کے علاوہ تمام ہتھیاروں کو قابو میں لانے کے لیے اقدامات کرے گی، جو ملک کے سکیورٹی اور سیاسی اصلاحاتی پروگرام کا اہم حصہ ہے۔
واضح رہے کہ عراق میں ریاستی کنٹرول سے باہر اسلحہ اور مسلح گروہوں کا مسئلہ گزشتہ کئی برسوں سے ایک بڑا سکیورٹی چیلنج بنا ہوا ہے، جہاں بعض گروہ ’الحشد الشعبی‘ کے دائرے میں کام کرتے ہیں جبکہ دیگر آزاد حیثیت میں سرگرم ہیں۔