اہم خبریں
22 May, 2026
--:--:--

حملے کے بعد عراق کا سعودی عرب سے معلومات کے تبادلے کی درخواست

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
سعودی عرب ڈرون حملہ
عراق نے سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے 3 ڈرونز کی تحقیقات شروع کر دیں، تاہم بغداد کا کہنا ہے کہ کسی مشتبہ سرگرمی کا سراغ نہیں ملا (فوٹو: اے آئی)

عراقی وزارتِ خارجہ نے سعودی عرب پر مبینہ ڈرون حملے کی خبروں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
بغداد کا کہنا ہے کہ عراقی فضائی حدود میں کسی ڈرون کی سرگرمی ریکارڈ نہیں ہوئی جبکہ سعودی عرب نے عراق کی سمت سے آنے والے 3 ڈرونز تباہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
واقعے نے خطے میں جاری ایران، امریکہ اور اسرائیل کشیدگی کے دوران نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔

عراقی وزارتِ خارجہ نے آج پیر کے روز سعودی عرب میں 3 ڈرونز کے ذریعے حملے کی خبروں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بغداد اس معاملے کی باریک بینی سے نگرانی کر رہا ہے اور تمام حقائق جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

وزارتِ خارجہ نے اپنے سرکاری بیان میں کہا کہ اسے واقعے سے متعلق ابتدائی معلومات موصول ہوئی ہیں جس کے بعد متعلقہ اداروں نے فوری طور پر تحقیقات اور تصدیقی کارروائیاں شروع کر دیں۔ 

بیان کے مطابق عراقی فضائی دفاعی نظام اور نگرانی کے بصری آلات نے ملک کی فضائی حدود میں کسی مشتبہ ڈرون سرگرمی کا سراغ نہیں لگایا۔

بغداد کا دعویٰ: فضائی حدود میں
کسی ڈرون کی
نقل و حرکت
ریکارڈ نہیں ہوئی

عراق نے سعودی حکام سے مطالبہ کیا کہ دونوں ممالک اس معاملے سے متعلق معلومات اور انٹیلی جنس کا تبادلہ کریں تاکہ حقائق تک رسائی حاصل کی جا سکے اور خطے میں امن و استحکام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
عراقی وزارتِ خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ بغداد برادر ممالک کی سلامتی اور خودمختاری کے احترام کی پالیسی پر قائم ہے اور کسی بھی ایسے اقدام کو مسترد کرتا ہے جو خطے کے امن یا قومی سلامتی کو نقصان پہنچائے۔
وزارت نے سعودی عرب کے ساتھ مسلسل رابطے اور تعاون جاری رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
دوسری جانب عراق نے تصدیق کی ہے کہ سعودی عرب کو نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کے پس منظر اور تفصیلات جاننے کے لیے باضابطہ تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں، اگرچہ عراقی حکام کے مطابق فضائی حدود میں کسی ڈرون کی پرواز یا لانچنگ کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب سعودی عرب نے اتوار کی شام اعلان کیا تھا کہ اس نے عراق کی سمت سے آنے والے 3 ڈرونز کو اپنی فضائی حدود میں داخل ہونے کے بعد تباہ کر دیا۔ 

سعودی وزارتِ دفاع کے ترجمان ترکی المالکی نے کہا کہ فضائی دفاعی نظام نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے تمام ڈرونز کو تباہ کر دیا جبکہ ریاض نے مناسب وقت اور مقام پر جواب دینے کا حق محفوظ رکھنے کا اعلان بھی کیا۔

ریاض نے
مناسب وقت
اور مقام پر
جواب دینے کا
حق محفوظ رکھا

یہ واقعہ ایسے حساس وقت میں پیش آیا ہے جب خطے میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی شدت اختیار کر چکی ہے، اور 28 فروری سے جاری جنگ نے پورے مشرقِ وسطیٰ کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر رکھا ہے۔
عراقی حکومت بارہا یہ مؤقف دہرا چکی ہے کہ وہ خود کو علاقائی جنگ سے دور رکھنا چاہتی ہے اور اپنی سرزمین کو کسی بھی پڑوسی ملک کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دے گی۔ادھر نئے عراقی وزیرِ اعظم علی الزیدی نے بھی پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد اعلان کیا تھا کہ ان کی حکومت ریاست کے علاوہ تمام ہتھیاروں کو قابو میں لانے کے لیے اقدامات کرے گی، جو ملک کے سکیورٹی اور سیاسی اصلاحاتی پروگرام کا اہم حصہ ہے۔
واضح رہے کہ عراق میں ریاستی کنٹرول سے باہر اسلحہ اور مسلح گروہوں کا مسئلہ گزشتہ کئی برسوں سے ایک بڑا سکیورٹی چیلنج بنا ہوا ہے، جہاں بعض گروہ ’الحشد الشعبی‘ کے دائرے میں کام کرتے ہیں جبکہ دیگر آزاد حیثیت میں سرگرم ہیں۔